صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
918. أريت ليلة القدر ثم أنسيتها وأراني صبيحتها أسجد في ماء ....
مجھے شبِ قدر دکھائی گئی لیکن پھر وہ مجھے بھلا ....
حدیث نمبر: 916
«أريت ليلة القدر ثم أنسيتها وأراني صبيحتها أسجد في ماء وطين»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی لیکن پھر وہ مجھے بھلا دی گئی، البتہ میں نے خود کو اس کی صبح پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 916]
”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی لیکن پھر وہ مجھے بھلا دی گئی، البتہ میں نے خود کو اس کی صبح پانی اور کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 916]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م] عن عبد الله بن أنيس. مسلم 3/173، مختصر مسلم 636.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
919. أريت ليلة القدر ثم أيقظني بعض أهلي فنسيتها فالتمسوها في ....
مجھے شبِ قدر دکھائی گئی تھی، پھر میرے گھر والوں ....
حدیث نمبر: 917
«أريت ليلة القدر ثم أيقظني بعض أهلي فنسيتها فالتمسوها في العشر الغوابر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی تھی، پھر میرے گھر والوں میں سے کسی نے مجھے جگا دیا تو میں اسے بھول گیا، لہٰذا اب تم اسے (رمضان کی) بقیہ آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 917]
”مجھے شبِ قدر دکھائی گئی تھی، پھر میرے گھر والوں میں سے کسی نے مجھے جگا دیا تو میں اسے بھول گیا، لہٰذا اب تم اسے (رمضان کی) بقیہ آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 917]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م] عن أبي هريرة. مسلم 3/170، المختصر 636.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
920. أريت ما تلقى أمتي من بعدي وسفك بعضهم دماء بعض ....
مجھے وہ حالات دکھائے گئے جن سے میرے بعد میری ....
حدیث نمبر: 918
«أريت ما تلقى أمتي من بعدي وسفك بعضهم دماء بعض وكان ذلك سابقا من الله كما سبق في الأمم قبلهم فسألته أن يوليني شفاعة فيهم يوم القيامة ففعل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مجھے وہ حالات دکھائے گئے جن سے میرے بعد میری امت دوچار ہوگی اور وہ آپس میں ایک دوسرے کا خون بہائیں گے، اور یہ اللہ کی طرف سے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا جیسا کہ ان سے پہلی امتوں کے معاملے میں ہوا۔ چنانچہ میں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ قیامت کے دن مجھے ان کے حق میں شفاعت کا اختیار عطا فرمائے، تو اس نے میری یہ التجا قبول فرما لی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 918]
”مجھے وہ حالات دکھائے گئے جن سے میرے بعد میری امت دوچار ہوگی اور وہ آپس میں ایک دوسرے کا خون بہائیں گے، اور یہ اللہ کی طرف سے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا جیسا کہ ان سے پہلی امتوں کے معاملے میں ہوا۔ چنانچہ میں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ قیامت کے دن مجھے ان کے حق میں شفاعت کا اختیار عطا فرمائے، تو اس نے میری یہ التجا قبول فرما لی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 918]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم طس ك] عن أم حبيبة. الصحيحة 1440: السنة 800 و801، ابن بشران، ابن عساكر.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
921. إزرة المؤمن إلى أنصاف ساقيه
مومن کا تہبند (یا شلوار) اس کی آدھی پنڈلیوں تک ....
حدیث نمبر: 919
«إزرة المؤمن إلى أنصاف ساقيه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مومن کا تہبند (یا شلوار) اس کی آدھی پنڈلیوں تک ہونا چاہیے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 919]
”مومن کا تہبند (یا شلوار) اس کی آدھی پنڈلیوں تک ہونا چاہیے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 919]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ن] عن أبي هريرة وأبي سعيد وابن عمر [الضياء] عن أنس. المشكاة 4331: حم، هب، - أنس.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
922. إزرة المؤمن إلى عضلة ساقيه ثم إلى الكعبين فما كان ....
مومن کا تہبند اس کی پنڈلی کے پٹھے (گوشت والے ....
حدیث نمبر: 920
«إزرة المؤمن إلى عضلة ساقيه ثم إلى الكعبين فما كان أسفل من ذلك ففي النار»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مومن کا تہبند اس کی پنڈلی کے پٹھے (گوشت والے حصے) تک، اور پھر ٹخنوں تک ہونا چاہیے، پس جو حصہ اس سے نیچے لٹکے گا وہ آگ میں ہوگا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 920]
”مومن کا تہبند اس کی پنڈلی کے پٹھے (گوشت والے حصے) تک، اور پھر ٹخنوں تک ہونا چاہیے، پس جو حصہ اس سے نیچے لٹکے گا وہ آگ میں ہوگا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 920]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم] عن أبي هريرة. المشكاة 4331.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
923. إزرة المؤمن إلى نصف الساق ولا جناح عليه فيما بينه ....
مومن کا تہبند آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے، اور اس ....
حدیث نمبر: 921
«إزرة المؤمن إلى نصف الساق ولا جناح عليه فيما بينه وبين الكعبين ما كان أسفل من الكعبين فهو في النار من جر إزاره بطرا لم ينظر الله إليه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مومن کا تہبند آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے، اور اس کے اور ٹخنوں کے درمیان تک رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں، البتہ جو حصہ ٹخنوں سے نیچے لٹکے گا وہ آگ میں جائے گا۔ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین پر گھسیٹے گا، اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 921]
”مومن کا تہبند آدھی پنڈلی تک ہونا چاہیے، اور اس کے اور ٹخنوں کے درمیان تک رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں، البتہ جو حصہ ٹخنوں سے نیچے لٹکے گا وہ آگ میں جائے گا۔ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین پر گھسیٹے گا، اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 921]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [مالك حم د هـ حب هق] عن أبي سعيد. المشكاة 4331: الحميدي.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
924. ازهد في الدنيا يحبك الله وازهد فيما أيدي الناس يحبك ....
دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت ....
حدیث نمبر: 922
«ازهد في الدنيا يحبك الله وازهد فيما أيدي الناس يحبك الناس»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیازی برتو، لوگ تم سے محبت کریں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 922]
”دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیازی برتو، لوگ تم سے محبت کریں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 922]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [هـ طب ك هب] عن سهل بن سعد. الصحيحة 944.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
925. ازهد في الدنيا يحبك الله وأما الناس فانبذ إليهم هذا ....
دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت ....
حدیث نمبر: 923
«ازهد في الدنيا يحبك الله وأما الناس فانبذ إليهم هذا يحبوك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور رہی بات لوگوں کی، تو ان کی چیزیں انہی کے حوالے کر دو (ان سے بے نیازی برتو)، وہ تم سے محبت کریں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 923]
”دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور رہی بات لوگوں کی، تو ان کی چیزیں انہی کے حوالے کر دو (ان سے بے نیازی برتو)، وہ تم سے محبت کریں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 923]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حل] عن أنس. الصحيحة 944.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
926. أسامة أحب الناس إلي
اسامہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔
حدیث نمبر: 924
«أسامة أحب الناس إلي»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اسامہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 924]
”اسامہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 924]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم طب] عن ابن عمر. الصحيحة 745.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
927. إسباغ الوضوء شطر الإيمان والحمد لله تملأ الميزان والتسبيح والتكبير ....
کامل وضو کرنا آدھا ایمان ہے، اور الْحَمْدُ لِلَّهِ میزان ....
حدیث نمبر: 925
«إسباغ الوضوء شطر الإيمان والحمد لله تملأ الميزان والتسبيح والتكبير يملأ السموات والأرض والصلاة نور والزكاة برهان والصبر ضياء والقرآن حجة لك أو عليك كل الناس يغدو فبائع نفسه فمعتقها أو موبقها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”کامل وضو کرنا آدھا ایمان ہے، اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» میزان کو بھر دیتا ہے، اور تسبیح اور تکبیر (سبحان اللہ اور اللہ اکبر) آسمانوں اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر دیتے ہیں، نماز نور ہے، زکوٰۃ (ایمان کی) دلیل ہے، صبر روشنی ہے، اور قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے یا تمہارے خلاف۔ ہر انسان صبح اٹھ کر اپنی جان کا سودا کرتا ہے، پھر یا تو وہ اسے (نیکی کر کے) آزاد کروا لیتا ہے یا (گناہ کر کے) ہلاک کر دیتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 925]
”کامل وضو کرنا آدھا ایمان ہے، اور «الْحَمْدُ لِلَّهِ» میزان کو بھر دیتا ہے، اور تسبیح اور تکبیر (سبحان اللہ اور اللہ اکبر) آسمانوں اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر دیتے ہیں، نماز نور ہے، زکوٰۃ (ایمان کی) دلیل ہے، صبر روشنی ہے، اور قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے یا تمہارے خلاف۔ ہر انسان صبح اٹھ کر اپنی جان کا سودا کرتا ہے، پھر یا تو وہ اسے (نیکی کر کے) آزاد کروا لیتا ہے یا (گناہ کر کے) ہلاک کر دیتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 925]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ن هـ حب] عن أبي مالك الأشعري. مسلم 1/140، أبو عوانة 1/223.»
قال الشيخ الألباني: صحيح