صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
958. استنثروا مرتين بالغتين أو ثلاثا
ناک میں پانی چڑھا کر دو مرتبہ یا تین مرتبہ ....
حدیث نمبر: 956
«استنثروا مرتين بالغتين أو ثلاثا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”ناک میں پانی چڑھا کر دو مرتبہ یا تین مرتبہ اچھی طرح جھاڑ کر صاف کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 956]
”ناک میں پانی چڑھا کر دو مرتبہ یا تین مرتبہ اچھی طرح جھاڑ کر صاف کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 956]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم د هـ ك] عن ابن عباس. صحيح أبي داود 129: الطيالسي، تخ، هق.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
959. أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك
میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کے انجام ....
حدیث نمبر: 957
«أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کے انجام کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 957]
”میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کے انجام کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 957]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [د ت] عن ابن عمر. الكلم 169، الصحيحة 14.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
960. أستودعك الله الذي لا تضيع ودائعه
میں تمہیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کے ....
حدیث نمبر: 958
«أستودعك الله الذي لا تضيع ودائعه»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں تمہیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کے پاس رکھی گئی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 958]
”میں تمہیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کے پاس رکھی گئی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 958]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة 16.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
961. استوصوا بالأنصار خيرا
انصار کے ساتھ بھلائی کرنے کی میری وصیت قبول کرو ....
حدیث نمبر: 959
«استوصوا بالأنصار خيرا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”انصار کے ساتھ بھلائی کرنے کی میری وصیت قبول کرو (یعنی ان کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کرنا)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 959]
”انصار کے ساتھ بھلائی کرنے کی میری وصیت قبول کرو (یعنی ان کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کرنا)۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 959]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم] عن أنس. الصحيحة 916.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
962. استوصوا بالنساء خيرا فإن المرأة خلقت من ضلع وإن أعوج ....
عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو، کیونکہ ....
حدیث نمبر: 960
«استوصوا بالنساء خيرا فإن المرأة خلقت من ضلع وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج فاستوصوا بالنساء خيرا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر والا حصہ ہوتا ہے۔ پس اگر تم اسے سیدھا کرنے جاؤ گے تو اسے توڑ دو گے، اور اگر اسے اسی حال میں چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی، لہٰذا عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 960]
”عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر والا حصہ ہوتا ہے۔ پس اگر تم اسے سیدھا کرنے جاؤ گے تو اسے توڑ دو گے، اور اگر اسے اسی حال میں چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی، لہٰذا عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 960]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ق] عن أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
963. استووا ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم وليلني منكم أولو الأحلام والنهي ....
(نماز کی صفوں میں) سیدھے کھڑے ہو اور آگے پیچھے ....
حدیث نمبر: 961
«استووا ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم وليلني منكم أولو الأحلام والنهي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”(نماز کی صفوں میں) سیدھے کھڑے ہو اور آگے پیچھے نہ کھڑے ہو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، اور تم میں سے جو بالغ اور سمجھدار ہیں انہیں میرے قریب کھڑا ہونا چاہیے، پھر ان کو جو ان کے بعد ہیں، پھر ان کو جو ان کے بعد ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 961]
”(نماز کی صفوں میں) سیدھے کھڑے ہو اور آگے پیچھے نہ کھڑے ہو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، اور تم میں سے جو بالغ اور سمجھدار ہیں انہیں میرے قریب کھڑا ہونا چاہیے، پھر ان کو جو ان کے بعد ہیں، پھر ان کو جو ان کے بعد ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 961]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم م ن] عن أبي مسعود. صحيح أبي داود 678، د، ابن ماجه، هق، الطيالسي.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
964. أسرع قبائل العرب فناء قريش يوشك أن تمر المرأة بالنعل ....
عرب قبائل میں سب سے جلدی ہلاک (ختم) ہونے والا ....
حدیث نمبر: 962
«أسرع قبائل العرب فناء قريش يوشك أن تمر المرأة بالنعل فتقول: هذه نعل قرشي»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”عرب قبائل میں سب سے جلدی ہلاک (ختم) ہونے والا قبیلہ قریش ہوگا، قریب ہے کہ ایک عورت کسی جوتے کے پاس سے گزرے گی تو اسے دیکھ کر کہے گی: یہ کسی قریشی کا جوتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 962]
”عرب قبائل میں سب سے جلدی ہلاک (ختم) ہونے والا قبیلہ قریش ہوگا، قریب ہے کہ ایک عورت کسی جوتے کے پاس سے گزرے گی تو اسے دیکھ کر کہے گی: یہ کسی قریشی کا جوتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 962]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم] عن أبي هريرة. الصحيحة 738.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
965. أسرعكن لحاقا بي أطولكن يدا
تم (ازواج مطہرات) میں سے مجھ سے سب سے جلدی ....
حدیث نمبر: 963
«أسرعكن لحاقا بي أطولكن يدا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”تم (ازواج مطہرات) میں سے مجھ سے سب سے جلدی وہ آ کر ملے گی جس کے ہاتھ تم میں سب سے لمبے (یعنی جو سب سے زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والی) ہوں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 963]
”تم (ازواج مطہرات) میں سے مجھ سے سب سے جلدی وہ آ کر ملے گی جس کے ہاتھ تم میں سب سے لمبے (یعنی جو سب سے زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والی) ہوں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 963]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م ن] عن عائشة. مختصر مسلم 1675، فقه السيرة 66.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
966. أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تك ....
جنازے کو جلدی لے کر جایا کرو، کیونکہ اگر وہ ....
حدیث نمبر: 964
«أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جنازے کو جلدی لے کر جایا کرو، کیونکہ اگر وہ نیک ہو تو تم اسے ایک بھلائی کی طرف جلدی پہنچا رہے ہو، اور اگر وہ اس کے سوا (برا) ہو تو تم ایک برائی کو اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 964]
”جنازے کو جلدی لے کر جایا کرو، کیونکہ اگر وہ نیک ہو تو تم اسے ایک بھلائی کی طرف جلدی پہنچا رہے ہو، اور اگر وہ اس کے سوا (برا) ہو تو تم ایک برائی کو اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 964]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ق 4] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 470، أحكام الجنائز 71:هق.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
967. أسرف رجل على نفسه فلما حضره الموت أوصى بنيه فقال: ....
ایک شخص نے (گناہ کر کے) اپنی جان پر بہت ....
حدیث نمبر: 965
"أسرف رجل على نفسه فلما حضره الموت
أوصى بنيه فقال: إذا أنا مت فأحرقوني ثم اسحقوني ثم اذروني في البحر فوالله لئن قدر علي ربي ليعذبني عذابا ما عذبه أحدا ففعلوا ذلك به فقال الله للأرض: أدي ما أخذت فإذا هو قائم فقال: ما حملك على ما صنعت؟ قال خشيتك يا رب فغفر له بذلك"
أوصى بنيه فقال: إذا أنا مت فأحرقوني ثم اسحقوني ثم اذروني في البحر فوالله لئن قدر علي ربي ليعذبني عذابا ما عذبه أحدا ففعلوا ذلك به فقال الله للأرض: أدي ما أخذت فإذا هو قائم فقال: ما حملك على ما صنعت؟ قال خشيتك يا رب فغفر له بذلك"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”ایک شخص نے (گناہ کر کے) اپنی جان پر بہت زیادتی کی، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میری ہڈیوں کو پیس ڈالنا، پھر مجھے سمندر میں اڑا دینا، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھ پر قابو پا لیا تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو نہ دیا ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا: جو تو نے لیا ہے اسے واپس کر دے۔ تو وہ فوراً کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا تھا جو تو نے کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تیرے خوف نے۔ چنانچہ اللہ نے اسی وجہ سے اس کی مغفرت فرما دی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 965]
”ایک شخص نے (گناہ کر کے) اپنی جان پر بہت زیادتی کی، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میری ہڈیوں کو پیس ڈالنا، پھر مجھے سمندر میں اڑا دینا، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھ پر قابو پا لیا تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو نہ دیا ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا: جو تو نے لیا ہے اسے واپس کر دے۔ تو وہ فوراً کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا تھا جو تو نے کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تیرے خوف نے۔ چنانچہ اللہ نے اسی وجہ سے اس کی مغفرت فرما دی۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 965]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ق] عن أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح