🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
صحيح الجامع الصغير وزيادته میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
صحيح الجامع الصغير وزيادته میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
صحيح الجامع الصغير وزيادته میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
988. أسوأ الناس سرقة الذي يسرق من صلاته لا يتم ركوعها ....
لوگوں میں سب سے بری چوری کرنے والا وہ ہے ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 986
«أسوأ الناس سرقة الذي يسرق من صلاته لا يتم ركوعها ولا سجودها ولا خشوعها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے بری چوری کرنے والا وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے، یعنی نہ اس کا رکوع پورا کرتا ہے، نہ اس کا سجدہ اور نہ ہی اس میں خشوع و خضوع اختیار کرتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 986]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ك] عن أبي قتادة [الطيالسي حم ع] عن أبي سعيد. الروض 2/69، المشكاة 885، صحيح الترغيب 525: الدارمي، طب، طس، حب، ك، هق - أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
989. أشبه من رأيت بجبريل دحية الكلبي
میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے، ان میں جبریل ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 987
«أشبه من رأيت بجبريل دحية الكلبي»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے، ان میں جبریل (علیہ السلام) کے سب سے زیادہ مشابہ دحیہ کلبی ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 987]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ابن سعد] عن ابن شهاب. الصحيحة 1111: حم، م –جابر.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
990. اشتد غضب الله على من زعم أنه ملك الأملاك لا ....
اس شخص پر اللہ کا غضب انتہائی شدید ہے جس ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 988
«اشتد غضب الله على من زعم أنه ملك الأملاك لا ملك إلا الله»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اس شخص پر اللہ کا غضب انتہائی شدید ہے جس نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، حالانکہ اللہ کے سوا کوئی سچا بادشاہ نہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 988]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ق] عن أبي هريرة [الحارث] عن ابن عباس.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
991. اشترى رجل من رجل عقارا له فوجد الرجل الذي اشترى ....
ایک شخص نے کسی دوسرے شخص سے کوئی زمین (جائیداد) ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 989
«اشترى رجل من رجل عقارا له فوجد الرجل الذي اشترى العقار في عقاره جرة فيها ذهب فقال الذي اشترى العقار: خذ ذهبك مني إنما اشتريت منك الأرض ولم أبتع الذهب، وقال الذي له الأرض: إنما بعتك الأرض وما فيها فتحاكما إلى رجل فقال الذي تحاكما إليه: ألكما ولد؟ قال أحدهما: لي غلام، وقال الآخر: لي جارية. قال: أنكحوا الغلام الجارية وأنفقوا على أنفسكما منه وتصدقوا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”ایک شخص نے کسی دوسرے شخص سے کوئی زمین (جائیداد) خریدی۔ زمین خریدنے والے کو اپنی اس زمین میں سے سونے سے بھرا ہوا ایک گھڑا ملا۔ زمین خریدنے والے نے (بیچنے والے سے) کہا: اپنا سونا مجھ سے لے لو، میں نے تو تم سے صرف زمین خریدی تھی سونا نہیں خریدا۔ جبکہ زمین کے (سابقہ) مالک نے کہا: میں نے تمہیں زمین اور جو کچھ اس میں تھا سب بیچ دیا تھا۔ پھر وہ دونوں اپنا فیصلہ کروانے کے لیے ایک تیسرے شخص کے پاس گئے۔ جس شخص کے پاس وہ فیصلہ کروانے گئے تھے اس نے پوچھا: کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: میرا ایک بیٹا ہے۔ اور دوسرے نے کہا: میری ایک بیٹی ہے۔ اس (ثالث) نے فیصلہ دیا: اس لڑکے اور لڑکی کا آپس میں نکاح کر دو، اور اس (سونے) میں سے تم دونوں بھی اپنے آپ پر خرچ کرو اور (باقی) صدقہ کر دو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 989]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ق هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 1058.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
992. اشتكت النار إلى ربها فقالت: يا رب أكل بعضي بعضا ....
جہنم کی آگ نے اپنے رب سے شکایت کی اور ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 990
«اشتكت النار إلى ربها فقالت: يا رب أكل بعضي بعضا فأذن لها بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف فهو أشد ما تجدون من الحر وأشد ما تجدون من الزمهرير»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جہنم کی آگ نے اپنے رب سے شکایت کی اور عرض کیا: اے میرے رب! میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھا لیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں۔ پس تم جو شدید ترین گرمی محسوس کرتے ہو اور جو شدید ترین سردی محسوس کرتے ہو، یہ اسی کی وجہ سے ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 990]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [مالك ق هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة 1457: حم.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
993. اشتكت النار إلى ربها وقالت: يا رب أكل بعضي بعضا ....
جہنم کی آگ نے اپنے رب سے شکایت کی اور ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 991
«اشتكت النار إلى ربها وقالت: يا رب أكل بعضي بعضا فجعل لها نفسين نفسا في الشتاء ونفسا في الصيف فأما نفسها في الشتاء فهو زمهرير وأما نفسها في الصيف فسموم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”جہنم کی آگ نے اپنے رب سے شکایت کی اور عرض کیا: اے میرے رب! میرے بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دو سانسیں مقرر کر دیں، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں۔ پس اس کا جو سانس سردیوں میں ہوتا ہے وہ انتہائی سخت سردی ہے، اور اس کا جو سانس گرمیوں میں ہوتا ہے وہ انتہائی شدید جھلسا دینے والی لو (گرمی) ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 991]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [ت] عن أبي هريرة. الصحيحة 1457: ابن ماجه.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
994. أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل يبتلى الرجل على ....
لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائشوں کا سامنا انبیاء ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 992
"أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل يبتلى الرجل على حسب دينه فإن كان في دينه صلبا اشتد بلاؤه، وإن كان في دينه رقة ابتلي على قدر دينه فما يبرح البلاء بالعبد حتى يتركه يمشي
على الأرض وما عليه خطيئة"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائشوں کا سامنا انبیاء کو کرنا پڑتا ہے، پھر درجہ بدرجہ ان لوگوں کو جو ان کے قریب تر (نیک) ہوتے ہیں۔ انسان کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، پس اگر وہ اپنے دین میں سخت (مضبوط) ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت کر دی جاتی ہے، اور اگر اس کے دین میں نرمی (کمزوری) ہو تو اسے اس کے دین کے درجے کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔ اور بندے پر مصیبتوں اور آزمائشوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے اس حال میں چھوڑتی ہیں کہ وہ زمین پر چل رہا ہوتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 992]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم خ ن1 هـ] عن سعد. المشكاة 1562، الصحيحة 143: الدارمي، الطحاوي، حب، ك، الضياء.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
995. أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل يبتلى الناس على ....
لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 993
«أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل يبتلى الناس على قدر دينهم فمن ثخن دينه اشتد بلاؤه ومن ضعف دينه ضعف بلاؤه وإن الرجل ليصيبه البلاء حتى يمشي في الناس ما عليه خطيئة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر ان کی جو ان سے قریب تر ہوں، پھر ان کی جو ان سے قریب تر ہوں۔ لوگوں کو ان کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، پس جس کا دین پختہ ہوتا ہے اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے، اور جس کا دین کمزور ہوتا ہے اس کی آزمائش بھی ہلکی ہوتی ہے۔ اور بے شک آدمی کو مصائب پہنچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوگوں کے درمیان اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 993]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حب] عن أبي سعيد2. الصحيحة 144: حم، ت، الدارمي، ابن ماجه، الطحاوي.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
996. أشد الناس بلاء الأنبياء الصالحون ثم الأمثل فالأمثل
لوگوں میں سب سے سخت آزمائش انبیاء اور نیک لوگوں ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 994
«أشد الناس بلاء الأنبياء الصالحون ثم الأمثل فالأمثل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے سخت آزمائش انبیاء اور نیک لوگوں کی ہوتی ہے، پھر درجہ بدرجہ ان لوگوں کی جو (مرتبے میں) ان کے بعد آتے ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 994]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن أخت حذيفة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
997. أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الصالحون لقد كان أحدهم يبتلى ....
لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ....
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 995
«أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الصالحون لقد كان أحدهم يبتلى بالفقر حتى ما يجد إلا العباءة يجوبها فيلبسها ويبتلى بالقمل حتى يقتله ولأحدهم كان أشد فرحا بالبلاء من أحدكم بالعطاء»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر نیک لوگوں کی۔ یقیناً ان میں سے کسی ایک کو فقر و فاقہ کے ذریعے اس قدر آزمایا جاتا تھا کہ وہ ایک اونی عبا (چادر) کے سوا کچھ نہ پاتا تھا، چنانچہ وہ اسے پھاڑ کر پہن لیتا تھا، اور انہیں جوؤں کے ذریعے آزمایا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ اسے ہلاک کر دیتی تھیں، اور ان میں سے ہر ایک آزمائش پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا تھا جتنا تم میں سے کوئی مال و دولت ملنے پر خوش ہوتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حرف الألف] -- أر/حدیث: 995]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [هـ ع ك] عن أبي سعيد. الصحيحة 144: ابن سعد.»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں