صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6689. المحرمة لا تنتقب ولا تلبس القفازين
احرام والی عورت نہ نقاب پہنے اور نہ دستانے۔
حدیث نمبر: 6680
«المحرمة لا تنتقب ولا تلبس القفازين»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”احرام والی عورت نہ نقاب پہنے اور نہ دستانے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6680]
”احرام والی عورت نہ نقاب پہنے اور نہ دستانے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6680]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [د] عن ابن عمر. خ: المناسك.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
6690. المختلعات هن المنافقات
بلاوجہ خلع لینے والی عورتیں منافق ہیں۔
حدیث نمبر: 6681
«المختلعات هن المنافقات»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلاوجہ خلع لینے والی عورتیں منافق ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6681]
”بلاوجہ خلع لینے والی عورتیں منافق ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6681]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [ت] عن ثوبان. الصحيحة 632.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
6691. المدعى عليه أولى باليمين إلا أن تقوم عليه البينة
مدعا علیہ قسم کھانے کا زیادہ حق دار ہے، سوائے ....
حدیث نمبر: 6682
«المدعى عليه أولى باليمين إلا أن تقوم عليه البينة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مدعا علیہ قسم کھانے کا زیادہ حق دار ہے، سوائے اس کے کہ اس کے خلاف گواہی ثابت ہو جائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6682]
”مدعا علیہ قسم کھانے کا زیادہ حق دار ہے، سوائے اس کے کہ اس کے خلاف گواہی ثابت ہو جائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6682]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [هق] عن ابن عمرو. الإرواء 2641.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
6692. المدينة حرام ما بين عير إلى ثور فمن أحدث فيها ....
مدینہ حرم ہے، عیر سے ثور تک، جس نے اس ....
حدیث نمبر: 6683
«المدينة حرام ما بين عير إلى ثور فمن أحدث فيها حدثا أو أوى فيها محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا وذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم فمن أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا ومن ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مدینہ حرم ہے، عیر سے ثور تک، جس نے اس میں کوئی نئی بات پیدا کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض، اور مسلمانوں کی پناہ ایک ہے جسے ان کا ادنیٰ فرد بھی دے سکتا ہے، پس جس نے کسی مسلمان کی پناہ توڑی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض، اور جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنا نسب جوڑا یا اپنے موالی کے سوا کسی اور سے اپنی نسبت جوڑی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6683]
”مدینہ حرم ہے، عیر سے ثور تک، جس نے اس میں کوئی نئی بات پیدا کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض، اور مسلمانوں کی پناہ ایک ہے جسے ان کا ادنیٰ فرد بھی دے سکتا ہے، پس جس نے کسی مسلمان کی پناہ توڑی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض، اور جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنا نسب جوڑا یا اپنے موالی کے سوا کسی اور سے اپنی نسبت جوڑی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6683]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ق د ت] عن علي [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 777، نقد الكتاني 42، الإرواء 1058: الطيالسي، أبو نعيم، هق.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
6693. المدينة حرام ما بين عير إلى ثور لا يختلى خلاها ....
مدینہ حرم ہے، عیر سے ثور تک، اس کی گھاس ....
حدیث نمبر: 6684
«المدينة حرام ما بين عير إلى ثور لا يختلى خلاها ولا ينفر صيدها ولا تلتقط لقطتها إلا لمن أشاد بها ولا يصلح لرجل أن يحمل فيها سلاحا لقتال ولا يصلح أن يقطع منها شجرة إلا أن يعلف رجل بعيره»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مدینہ حرم ہے، عیر سے ثور تک، اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، اس کے شکار کو نہ چھیڑا جائے، اس میں گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے، کسی آدمی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ لڑائی کے لیے اس میں ہتھیار اٹھائے، اور نہ یہ مناسب ہے کہ اس کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو کھلانے کے لیے کاٹے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6684]
”مدینہ حرم ہے، عیر سے ثور تک، اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، اس کے شکار کو نہ چھیڑا جائے، اس میں گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے، کسی آدمی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ لڑائی کے لیے اس میں ہتھیار اٹھائے، اور نہ یہ مناسب ہے کہ اس کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو کھلانے کے لیے کاٹے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6684]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [د] عن علي. الإرواء 1058: حم.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
6694. المدينة حرام من كذا إلى كذا لا يقطع شجرها ولا ....
مدینہ فلاں سے فلاں جگہ تک حرم ہے، اس کا ....
حدیث نمبر: 6685
«المدينة حرام من كذا إلى كذا لا يقطع شجرها ولا يحدث فيها حدث من أحدث فيها حدثا أو أوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مدینہ فلاں سے فلاں جگہ تک حرم ہے، اس کا درخت نہ کاٹا جائے اور نہ اس میں کوئی نئی بات پیدا کی جائے، جس نے اس میں کوئی نئی بات پیدا کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6685]
”مدینہ فلاں سے فلاں جگہ تک حرم ہے، اس کا درخت نہ کاٹا جائے اور نہ اس میں کوئی نئی بات پیدا کی جائے، جس نے اس میں کوئی نئی بات پیدا کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی نفلی عمل قبول کرے گا نہ فرض۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6685]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ق] عن أنس.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
6695. المدينة حرم آمن
مدینہ ایک محفوظ حرم ہے۔
حدیث نمبر: 6686
«المدينة حرم آمن»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مدینہ ایک محفوظ حرم ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6686]
”مدینہ ایک محفوظ حرم ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6686]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [أبوعوانة] عن سهل بن حنيف. حم 3/486، م 4/118.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
6696. المراء في القرآن كفر
قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔
حدیث نمبر: 6687
«المراء في القرآن كفر»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6687]
”قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6687]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [د ك] عن أبي هريرة. المشكاة 336، الروض النضير 1124و 1125.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
6697. المرء في صلاة ما انتظرها
انسان اس وقت تک نماز ہی کی حالت میں شمار ....
حدیث نمبر: 6688
«المرء في صلاة ما انتظرها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”انسان اس وقت تک نماز ہی کی حالت میں شمار ہوتا ہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتا رہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6688]
”انسان اس وقت تک نماز ہی کی حالت میں شمار ہوتا ہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتا رہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6688]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [عبد بن حميد] عن جابر. الصحيحة 2368: حم.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
6698. المرء مع من أحب
انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ....
حدیث نمبر: 6689
«المرء مع من أحب»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6689]
”انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 6689]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ق 3] عن أنس [ق] عن ابن مسعود. الروض النضير 104 - 106و 360و 361و 370و 1028 تخريج فقه السيرة 214.»
قال الشيخ الألباني: صحيح