صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7085. والذي نفسي بيده لولا أن رجالا من المؤمنين لا تطيب ....
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ....
حدیث نمبر: 7075
«والذي نفسي بيده لولا أن رجالا من المؤمنين لا تطيب أنفسهم أن يتخلفوا عني ولا أجد ما أحملهم عليه ما تخلفت عن سرية تغزوفي سبيل الله والذي نفسي بيده لوددت أني أقتل في سبيل الله ثم أحيا ثم أقتل ثم أحيا ثم أقتل ثم أحيا ثم أقتل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ایسا نہ ہوتا کہ کچھ مومن مردوں کا دل نہیں مانتا کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں اور میرے پاس ان کے لیے سواری بھی نہ ہو تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ رہتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7075]
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ایسا نہ ہوتا کہ کچھ مومن مردوں کا دل نہیں مانتا کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں اور میرے پاس ان کے لیے سواری بھی نہ ہو تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ رہتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7075]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ق ن] عن أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7086. والذي نفسي بيده ليأتين على الناس زمان لا يدري القاتل ....
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ....
حدیث نمبر: 7076
«والذي نفسي بيده ليأتين على الناس زمان لا يدري القاتل في أي شيء قتل ولا يدري المقتول في أي شيء قتل»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ قاتل کو معلوم نہیں ہوگا کہ اس نے کس چیز کی خاطر قتل کیا، اور مقتول کو معلوم نہیں ہوگا کہ وہ کس چیز کی خاطر قتل ہوا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7076]
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ قاتل کو معلوم نہیں ہوگا کہ اس نے کس چیز کی خاطر قتل کیا، اور مقتول کو معلوم نہیں ہوگا کہ وہ کس چیز کی خاطر قتل ہوا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7076]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 2010.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7087. والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما ....
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ....
حدیث نمبر: 7077
«والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما مقسطا وإماما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله أحد وحتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب ابنِ مریم تم میں ایک منصف حاکم اور عادل امام بن کر نازل ہوں گے، وہ صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال اس قدر بڑھ جائے گا کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا، یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہوگا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7077]
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب ابنِ مریم تم میں ایک منصف حاکم اور عادل امام بن کر نازل ہوں گے، وہ صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال اس قدر بڑھ جائے گا کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا، یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہوگا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7077]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ق ت هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة 2457.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7088. والذي نفسي بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجا أو ....
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ....
حدیث نمبر: 7078
«والذي نفسي بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجا أو معتمرا أو ليثنينهما»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابنِ مریم فج روحاء کے مقام سے حج یا عمرہ کا احرام باندھیں گے، یا دونوں کو اکٹھا کریں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7078]
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابنِ مریم فج روحاء کے مقام سے حج یا عمرہ کا احرام باندھیں گے، یا دونوں کو اکٹھا کریں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7078]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم م] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 663، الصحيحة 2457.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7089. والذي نفسي بيده ما أنزل في التوراة ولا في الإنجيل ....
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ....
حدیث نمبر: 7079
«والذي نفسي بيده ما أنزل في التوراة ولا في الإنجيل ولا في الزبور ولا في الفرقان مثلها - يعني أم القرآن - وإنها لسبع من المثاني والقرآن العظيم الذي أعطيته»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نہ تورات میں، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ قرآن میں اس (ام القرآن یعنی سورۃ الفاتحہ) جیسی کوئی چیز نازل کی گئی، اور یہ سات دہرائی جانے والی آیات اور وہ عظیم قرآن ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7079]
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نہ تورات میں، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ قرآن میں اس (ام القرآن یعنی سورۃ الفاتحہ) جیسی کوئی چیز نازل کی گئی، اور یہ سات دہرائی جانے والی آیات اور وہ عظیم قرآن ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7079]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ت] عن أبي هريرة. صحيح أبي داود 1310، المشكاة 2142، الترغيب 2/216: حب، ك.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7090. والذي نفسي بيده ما من رجل يدعوامرأته إلى فراشه فتأبى ....
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ....
حدیث نمبر: 7080
«والذي نفسي بيده ما من رجل يدعوامرأته إلى فراشه فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی آدمی ایسا نہیں جو اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کر دے، مگر جو آسمان میں ہے وہ اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس سے راضی ہو جائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7080]
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی آدمی ایسا نہیں جو اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کر دے، مگر جو آسمان میں ہے وہ اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اس سے راضی ہو جائے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7080]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [م] عن أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7091. والذي نفسي بيده لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا ....
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ....
حدیث نمبر: 7081
«والذي نفسي بيده لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا حتى تحابوا أولا أدلكم على شيء إذا فعلتموه تحاببتم؟ أفشوا السلام بينكم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور تم ایمان نہیں لاؤ گے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7081]
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور تم ایمان نہیں لاؤ گے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7081]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم م د ت هـ] عن أبي هريرة. الإرواء 777.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7092. والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا حتى يمر الرجل على ....
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ....
حدیث نمبر: 7082
«والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا حتى يمر الرجل على القبر فيتمرغ عليه ويقول: يا ليتني كنت مكان صاحب هذا القبر وليس به الدين إلا البلاء»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی قبر کے پاس سے گزرے گا اور اس پر لوٹ پوٹ ہو کر کہے گا: کاش میں اس قبر والے کی جگہ ہوتا، حالانکہ اسے دین نے نہیں بلکہ صرف مصیبت نے یہ کہنے پر مجبور کیا ہوگا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7082]
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ آدمی قبر کے پاس سے گزرے گا اور اس پر لوٹ پوٹ ہو کر کہے گا: کاش میں اس قبر والے کی جگہ ہوتا، حالانکہ اسے دین نے نہیں بلکہ صرف مصیبت نے یہ کہنے پر مجبور کیا ہوگا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7082]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [م هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 2008.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7093. والذي نفسي بيده لا تقوم الساعة حتى تكلم السباع الإنس ....
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ....
حدیث نمبر: 7083
"والذي نفسي بيده لا تقوم الساعة حتى تكلم السباع الإنس وحتى يكلم الرجل عذبة سوطه وشراك نعله ويخبره فخذه بما يحدث أهله بعده"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ درندے انسانوں سے بات کریں، اور آدمی کے کوڑے کا سرا اور اس کے جوتے کا تسمہ اس سے بات کرے، اور اس کی ران اسے بتائے کہ اس کے بعد اس کے گھر والوں نے کیا نیا کام کیا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7083]
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ درندے انسانوں سے بات کریں، اور آدمی کے کوڑے کا سرا اور اس کے جوتے کا تسمہ اس سے بات کرے، اور اس کی ران اسے بتائے کہ اس کے بعد اس کے گھر والوں نے کیا نیا کام کیا۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7083]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم ت حب ك] عن أبي سعيد. الصحيحة 122.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
7094. والذي نفسي بيده لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه ....
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ....
حدیث نمبر: 7084
«والذي نفسي بيده لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوگا جب تک میں اسے اس کے والد اور اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7084]
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوگا جب تک میں اسے اس کے والد اور اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حرف الواو./حدیث: 7084]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم خ ن] عن أبي هريرة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح