المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. أبو عبد الرحمن الفهري قيل اسمه الحارث بن هشام، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي بذلك
سیدنا ابوعبدالرحمٰن فہری رضی اللہ عنہ (کہا گیا: ان کا نام حارث بن ہشام تھا)
حدیث نمبر: 18944
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ بِذَلِكَ
محمد بن عبداللہ حضرمی نے بھی ہمیں یہی حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 18944]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 288، حدیث 740»
حدیث نمبر: 18945
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَفَّانُ، وحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هَمَّامٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، وَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ لَبِسْتُ لَأمَتِي وَرَكِبْتُ فَرَسِي، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي فُسْطَاطٍ لَهُ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، الرَّوَاحُ حَانَ الرَّوَاحُ؟، قَالَ: «أَجَلْ» فَقَالَ: «يَا بِلَالُ» فَثَارَ مِنْ تَحْتِ سَمُرَةَ فَكَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَائِرٍ، فَقَالَ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَأَنَا فِدَاؤُكَ فَقَالَ: «يَا بِلَالُ أَسْرِجْ لِي فَرَسِي» ، فَأَخْرَجَ سَرْجًا دَفَّتَاهُ مِنْ لِيفٍ، وَلَيْسَ فِيهِمَا أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ، فَأَسْرَجَ فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا فَصَافَفْنَاهُمْ عَشِيَّتَنَا، وَلَيْلَتَنَا فَتَشَامَتِ الْخِيلَانِ فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ» ، ثُمَّ اقْتَحَمَ عَلَى فَرَسِهِ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَأَخْبَرَنِي الَّذِي كَانَ أَدْنَى إِلَيْهِ مِنِّي أَنَّهُ ضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ، وَقَالَ: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ، فَهَزَمَهُمُ اللهُ» ، قَالَ يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ: فَحَدَّثَنِي أَبْنَاؤُهُمْ، عَنْ آبَائِهِمْ أَنَّهُمْ قَالُوا: «لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا امْتَلَأَتْ عَيْنَاهُ وَفَمُهُ تُرَابًا، وَسَمِعْنَا صَلْصَلَةً مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَإِمْرَارِ الْحَدِيدِ عَلَى الطَّشْتِ» وَاللَّفْظُ لِعَفَّانَ
ابوعبدالرحمن فہری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم ایک سخت گرمی کے دن چلے اور درختوں کے سائے میں پڑاؤ ڈالا۔ جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تھے، میں نے عرض کیا: السلام علیک یا رسول اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا کوچ کا وقت آ گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر فرمایا: ”اے بلال!“ تو وہ ایک درخت کے نیچے سے اس طرح اٹھے کہ ان کا سایہ پرندے کے سائے جیسا تھا، اور عرض کیا: حاضر ہوں، آپ پر قربان جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! میرے گھوڑے پر زین کسو۔“ چنانچہ انہوں نے ایک زین نکالی جس کی دونوں پٹیاں کھجور کی چھال سے بنی تھیں، ان میں کوئی زیب و زینت اور فخر نہ تھا۔ زین کسی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہو گئے، ہم نے اپنی شام اور رات ان کے مقابل صف بستہ گزاری، پھر دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے پر آگے بڑھے اور مٹی کی ایک مٹھی لی، مجھے اس شخص نے بتایا جو مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی ان کے چہروں پر پھینکی اور فرمایا: ”یہ چہرے بگڑ جائیں“، چنانچہ اللہ نے انہیں شکست دے دی۔ یعلی بن عطاء کہتے ہیں: مجھے ان کی اولاد نے اپنے آباء سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی ایسا نہ بچا جس کی آنکھیں اور منہ مٹی سے نہ بھر گئے ہوں، اور ہم نے آسمان اور زمین سے ایسی کھنکھناہٹ سنی جیسے لوہا تھالی پر رگڑا جا رہا ہو۔ (یہ الفاظ عفان کی روایت کے ہیں) [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 18945]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 288، حدیث 741»
2. أبو عبد الرحمن الجهني
سیدنا ابوعبدالرحمٰن جہنی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 18946
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ رَاكِبَانِ، فَلَمَّا رَآهُمَا قَالَ: «كِنْدِيَّانِ مَذْحِجِيَّانِ» فَلَمَّا أَتَيَاهُ فَإِذَا رَجُلَانِ مِنْ مَذْحِجٍ فَدَنَا أَحَدُهُمَا لِيُبَايِعَهُ، فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ فَآمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ فَاتَّبَعَكَ؟ مَاذَا لَهُ؟، قَالَ: «طُوبَى لَهُ» ، قَالَ: «ثُمَّ مَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَ»
سیدنا ابوعبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک دو سوار نمودار ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”یہ دونوں کندی اور مذحجی ہیں۔“ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو وہ واقعی مذحج کے دو آدمی تھے۔ ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کے لیے قریب آیا، جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے، جو شخص آپ کو دیکھے، آپ پر ایمان لائے، آپ کی تصدیق کرے اور آپ کی پیروی کرے، اس کے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے خوشخبری ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ پھیرا اور وہ چلا گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 18946]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 289، حدیث 742»
حدیث نمبر: 18947
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى الْيَهُودِ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ»
سیدنا ابوعبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”میں کل یہودیوں کی طرف جانے والا ہوں، تم انہیں سلام کہنے میں پہل نہ کرنا، اور اگر وہ تمہیں سلام کہیں تو تم صرف ”وعلیکم“ کہہ دینا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 18947]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 290، حدیث 743»
حدیث نمبر: 18948
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا غَادُونَ غَدًا إِلَى يَهُودٍ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِنْ سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ»
سیدنا ابوعبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم کل صبح یہودیوں کی طرف جانے والے ہیں، تم انہیں سلام کہنے میں پہل نہ کرنا، اور اگر وہ تمہیں سلام کہیں تو تم صرف ”وعلیکم“ کہہ دینا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 18948]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 291، حدیث 744»
3. أبو عبد الرحمن القيني
سیدنا ابوعبدالرحمٰن قینی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 18949
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَيْنِيِّ: أَنَّ سَرِقَ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ قَدْ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ بَزًّا قَدِمَ بِهِ فَتَجَارَاهُ فَتَغَيَّبَ عَنْهُ، ثُمَّ ظَفِرَ بِهِ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِعْ سَرِقَ» ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ بِهِ فَسَاوَمَنِي بِهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ بَدَا لِي فَأَعْتَقْتُهُ
سیدنا ابوعبدالرحمن قینی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرق نے ایک ایسے شخص سے، جس نے سورۃ البقرہ پڑھ رکھی تھی، کپڑا خریدا جو وہ (بیچنے کے لیے) لایا تھا، پھر وہ اس سے (ادائیگی میں) ٹال مٹول کرتا رہا اور اس سے چھپ گیا، پھر اس نے اسے پکڑ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرق کو بیچ دو۔“ وہ کہتے ہیں: میں اسے لے کر چلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تین دن تک مجھ سے اس کا بھاؤ تاؤ کرتے رہے، پھر میری رائے بدل گئی اور میں نے اسے آزاد کر دیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 18949]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 291، حدیث 745»
4. أبو عبد الرحمن حاضن عائشة
سیدنا ابوعبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پرورش کرنے والے
حدیث نمبر: 18950
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَاضِنِ عَائِشَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ نِصْفُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنِصْفُهُ عَلَى عَائِشَةَ»
سیدنا ابوعبدالرحمن، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پرورش کرنے والے (حاضن) تھے، کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک ہی کپڑے میں دیکھا، اس کا آدھا حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور آدھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 18950]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 292، حدیث 746»
5. أبو عبد الرحمن المخزومي
سیدنا ابوعبدالرحمٰن مخزومی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 18951
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ سَعْدًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَصِيَّةِ، فَقَالَ: «لَهُ الرُّبُعُ»
سیدنا ابوعبدالرحمن مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وصیت کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے چوتھائی مال کی وصیت جائز ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 18951]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 292، حدیث 747»
6. أبو عبد الرحمن الخطمي الأنصاري
سیدنا ابوعبدالرحمٰن خطمی انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 18952
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، وسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَطْمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، وَهُوَ يَسْأَلُ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَخْبِرْنِي مَا سَمِعْتَ أَبَاكَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ الْمَيْسِرِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ لَعِبَ بِالْمَيْسِرِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَتَوَضَّأُ بِالْقَيْحِ وَدَمِ الْخِنْزِيرِ» ، فَتَقُولُ: «اللهُ يَقْبَلُ لَهُ صَلَاةً»
سیدنا ابوعبدالرحمن خطمی انصاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے، ان کے بیٹے عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص جوا کھیلے پھر نماز کے لیے کھڑا ہو، تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو پیپ اور خنزیر کے خون سے وضو کرے۔“ تو کیا کہا جائے گا کہ اللہ اس کی نماز قبول فرمائے گا؟ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 18952]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 292، حدیث 748»
7. من يكنى أبا عبد الله أبو عبد الله الأنصاري الخطمي
جن کی کنیت ابوعبداللہ ہے — سیدنا ابوعبداللہ انصاری خطمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 18953
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّلَمِيُّ، عَنْ مَلِيحِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَمْسٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ وَالْحِلْمُ وَالْحِجَامَةُ وَالسِّوَاكُ وَالتَّعَطُّرُ"
سیدنا ابوعبداللہ انصاری خطمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزیں انبیاء کی سنتوں میں سے ہیں: حیا، بردباری، پچھنے لگوانا، مسواک کرنا اور خوشبو لگانا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 18953]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 293، حدیث 749»