الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5573. 2- باب قوله: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَيَتَنَاجَوْنَ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ (8)
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنہیں سرگوشی سے روک دیا گیا تھا، پھر وہ دوبارہ وہی کچھ کرنے لگے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور وہ آپس میں گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی پر مبنی خفیہ مشورے کرتے ہیں، اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ان الفاظ میں سلام پیش کرتے ہیں جن سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا، اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اس پر اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے جہنم ہی کافی ہے جس میں وہ داخل ہوں گے، سو وہ کتنا ہی برا ٹھکانا ہے۔“
حدیث نمبر: 13506
13506- عن جابر بن عبد الله يقول: سلم ناس من يهود على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: السام عليك يا أبا القاسم. فقال: وعليكم. فقالت عائشة وغضبت: ألم تسمع ما قالوا؟ قال: بلى قد سمعت، فرددت عليهم، وإنا نجاب عليهم، ولا يجابون علينا.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في السلام (2166) من طرق عن حجاج بن محمد، قال: قال ابن جريج: أخبرنى أبو الزبير، أنه سمع جابر بن عبد الله يقول: فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13506 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه مسلم في السلام (2166) من طرق عن حجاج بن محمد، قال: قال ابن جريج: أخبرنى أبو الزبير، أنه سمع جابر بن عبد الله يقول: فذكره.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13506 in Urdu