🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

جامع الکامل میں ترقیم دار ابن بشیر سے تلاش کل احادیث (16547)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5573. 2- باب قوله: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَيَتَنَاجَوْنَ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمَصِيرُ (8)
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنہیں سرگوشی سے روک دیا گیا تھا، پھر وہ دوبارہ وہی کچھ کرنے لگے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور وہ آپس میں گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی پر مبنی خفیہ مشورے کرتے ہیں، اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ان الفاظ میں سلام پیش کرتے ہیں جن سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا، اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اس پر اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے جہنم ہی کافی ہے جس میں وہ داخل ہوں گے، سو وہ کتنا ہی برا ٹھکانا ہے۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13505
13505- عن عائشة قالت: أتى النبي صلى الله عليه وسلم ناس من اليهود، فقالوا: السام عليك يا أبا القاسم. فقال: وعليكم قالت عائشة: فقلت: وعليكم السام والذام. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عائشة لا تكوني فحاشة قالت: فقلت: يا رسول الله، أما سمعت ما قالوا: السام عليك. قال: أليس قد رددت عليهم الذي قالوا، قلت: وعليكم
قال ابن نمير: يعنى في حديث عائشة: ان الله عز وجل لا يحب الفحش والتفحش
وقال ابن نمير في حديثه: فنـزلت هذه الآية: وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ حتى فرغ.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه أحمد (25924) عن أبي معاوية وابن نمير، قالا: حدثنا الأعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عائشة، فذكرته.» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: صحيح

الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13505 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه أحمد (25924) عن أبي معاوية وابن نمير، قالا: حدثنا الأعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عائشة، فذكرته.
0
ورواه مسلم (2165: 11) من طريق أبي معاوية به وحده مختصرا، كما رواه أيضا عن يعلى بن عبيد، عن الأعمش به، وذكر فيه سبب نزول الآية الكريمة.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13505 in Urdu