سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى إِسْمَاعِيلَ فِي خَبَرِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فِيهِ
باب: اس بارے میں سعد بن ابی وقاص (مالک) رضی الله عنہ کی روایت میں اسماعیل بن ابی خالد پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2137
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى وَقَالَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا (ایک) ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“، اور تیسری بار میں ایک انگلی دبا لی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2137]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک دستِ مبارک کو دوسرے پر مارا اور فرمایا: ”کبھی مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے“ اور تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگلی کم کر لی (یعنی انتیس)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم4 (1086)، سنن ابن ماجہ/فیہ8 (1657)، (تحفة الأشراف: 3920)، مسند احمد 1/184 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ نے دونوں ہاتھوں کی دسوں انگلیوں سے دو بار اشارہ کیا، اور تیسری بار میں ایک انگلی گرا لی، تو یہ کل انتیس دن ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2138
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، يَعْنِي تِسْعَةً وَعِشْرِينَ" , رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے“، یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اسے یحییٰ بن سعید وغیرہ نے اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن سعد بن ابی وقاص سے، اور محمد بن سعد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2138]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ کبھی اتنا، اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے۔“ (یعنی انتیس دن کا)۔ یحییٰ بن سعید وغیرہ نے اس روایت کو بواسطہ اسماعیل، محمد بن سعد سے (صحابیِ رسول حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے واسطے کے بغیر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے، یعنی مرسلاً۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2139
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"، وَصَفَّقَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ بِيَدَيْهِ يَنْعَتُهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَبَضَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ فِي الْيُسْرَى , قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قُلْتُ: لِإِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَا.
محمد بن سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“۔ اور محمد بن عبید نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار ملا کر بتلایا، پھر تیسری بار میں بائیں ہاتھ کا انگوٹھا بند کر لیا، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے اسماعیل بن ابی خالد سے «عن أبیہ» کی زیادتی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2139]
حضرت محمد بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے۔“ (حدیث کے راوی) محمد بن عبید نے اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں کھول کر سامنے کیں۔ تین دفعہ ایسے کیا اور تیسری دفعہ بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو بند کر لیا۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے اسماعیل سے پوچھا: کیا محمد بن سعد نے اس روایت کو اپنے باپ (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے بیان کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں (بلکہ مرسلاً بیان کیا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2137 (صحیح) (اس سند میں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے ارسال کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، لیکن اوپر گزرا کہ محمد بن سعد نے اپنے والد سعد بن ابی وقاص سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے اصل حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن