سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِي خَبَرِ أَبِي سَلَمَةَ فِيهِ
باب: ابوسلمہ کی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرنے میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2140
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، وَيَكُونُ ثَلَاثِينَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ (کبھی) انتیس دن کا ہوتا ہے، اور (کبھی) تیس دن کا، اور جب تم (چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو (تیس کی) گنتی پوری کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2140]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ کبھی انتیس دن کا اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے۔ جب تم چاند دیکھو تو روزے رکھنا شروع کرو اور جب تم چاند دیکھو تو روزے رکھنا بند کر دو اور اگر بادل ہوں (اور چاند نظر نہ آئے) تو (تیس دن کی) گنتی پوری کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15410) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2141
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ. ح وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2141]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مہینہ انتیس کا (بھی ہوتا) ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 11 (1907)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، (تحفة الأشراف: 8583)، مسند احمد 2/40، 75 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2142
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ، هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا حَتَّى ذَكَرَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم «اُمّی» لوگ ہیں، نہ ہم لکھتے پڑھتے ہیں اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“، (ایسا تین بار کیا) یہاں تک کہ انتیس دن کا ذکر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2142]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اُمّی لوگ ہیں، ہم حساب کتاب نہیں جانتے، مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔“ تین دفعہ ہاتھوں سے اشارہ فرمایا، حتیٰ کہ انتیس ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 13 (1913)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، سنن ابی داود/الصوم 4 (2319)، (تحفة الأشراف: 7075)، مسند احمد 2/43، 52، 122، 129 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2143
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَحْسُبُ وَلَا نَكْتُبُ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"، وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا تَمَامَ الثَّلَاثِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: ”ہم «اُمّی» لوگ ہیں، نہ تو ہم لکھتے ہیں، اور نہ حساب کتاب کرتے ہیں، مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے“، اور تیسری بار انگوٹھا بند کر لیا، ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے، پورے تیس دن“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2143]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اُمّی لوگ ہیں، ہم حساب کتاب نہیں جانتے۔ کبھی مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔“ تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا بند فرما لیا (یعنی انتیس دن کا)۔ ”اور کبھی مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔“ یعنی پورے تیس دن کا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مہینہ کبھی ۲۹ دن کا ہوتا ہے، اور کبھی تیس دن کا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2144
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا"، وَوَصَفَ شُعْبَةُ، عَنْ صِفَةِ جَبَلَةَ، عَنْ صِفَةِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فِيمَا حَكَى مِنْ صَنِيعِهِ مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ، وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا مِنْ أَصَابِعِ يَدَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے“۔ شعبہ نے جبلہ سے نقل کیا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے، اس طرح کہ انہوں نے دو بار اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اشارہ کیا، اور تیسری بار ایک انگلی دبا لی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2144]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ کبھی اتنا ہوتا ہے۔“ شعبہ نے جبلہ بن سحیم کی نقل کی اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی کہ مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے۔ انہوں نے اس طرح سے بیان کیا کہ وہ دو دفعہ آپ نے دونوں ہاتھوں کی پوری انگلیاں کھولیں اور تیسری دفعہ ایک انگلی کم (بند) کر لی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 11 (1908)، والطلاق 25 (5302)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، (تحفة الأشراف: 6668)، مسند احمد 2/44، 18 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2145
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ يَعْنِي ابْنَ حُرَيْثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2145]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، (تحفة الأشراف: 7340)، مسند احمد 2/77 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم