🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

70. بَابُ: صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي - وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2357
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزہ رکھتے تھے سوائے چند دنوں کے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2357]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے، صرف چند دن ناغہ فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2357]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17778) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2358
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2358]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تقریباً) مکمل شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2358]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16051) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2359
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ , قَالَ:" ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جتنا میں آپ کو شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اتنا کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا، آپ نے فرمایا: رجب و رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2359]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے آپ شعبان میں رکھتے ہیں۔ (کیا وجہ ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ مہینہ ہے کہ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان آنے کی وجہ سے لوگ اس سے غفلت کر جاتے ہیں، حالانکہ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں رب العالمین کے ہاں انسانوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2359]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 120)، مسند احمد 5/201 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2360
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ تَصُومُ حَتَّى لَا تَكَادَ تُفْطِرُ، وَتُفْطِرُ حَتَّى لَا تَكَادَ أَنْ تَصُومَ، إِلَّا يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا، قَالَ:" أَيُّ يَوْمَيْنِ؟" , قُلْتُ: يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، قَالَ:" ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ روزہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ روزہ بند ہی نہیں کریں گے، اور بغیر روزہ کے رہتے ہیں یہاں تک کہ لگتا ہے کہ روزہ رکھیں گے ہی نہیں سوائے دو دن کے۔ کہ اگر وہ آپ کے روزہ کے درمیان میں آ گئے (تو ٹھیک ہے) اور اگر نہیں آئے تو بھی آپ ان میں روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: وہ دو دن کون ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ پیر اور جمعرات کے دن ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دو دن وہ ہیں جن میں اللہ رب العالمین کے سامنے ہر ایک کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2360]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کبھی اس قدر روزے رکھتے ہیں کہ لگتا ہے آپ چھوڑیں گے نہیں اور کبھی اس قدر چھوڑتے ہیں کہ لگتا ہے رکھیں گے نہیں، مگر دو دنوں کا التزام رکھتے ہیں۔ آپ کے (عمومی) روزوں میں آجائیں تو «فَبِهَا» تو بہت اچھا ہے، ورنہ آپ ان کا روزہ خصوصاً رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون سے دو دن؟ میں نے کہا: سوموار اور جمعرات۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دو دن ایسے ہیں کہ ان میں رب العالمین کے ہاں اعمال پیش ہوتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 119)، مسند احمد 5/201، 206، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم60 (2436)، سنن الدارمی/الصوم41 (1791) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2361
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ الْغِفَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْرُدُ الصَّوْمَ فَيُقَالُ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ فَيُقَالُ لَا يَصُومُ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر روزہ رکھتے جاتے تھے، یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور (مسلسل) بغیر روزہ کے رہتے یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2361]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات لگاتار روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ کہا جاتا: آپ چھوڑیں گے نہیں اور کبھی چھوڑنے لگتے حتیٰ کہ کہا جاتا: آپ رکھیں گے نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 124)، مسند احمد 5/201 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2362
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَحَرَّى صِيَامَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو شنبہ (پیر) اور جمعرات کے روزہ کا اہتمام فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2362]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کا روزہ قصداً رکھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16052) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2363
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن (کے روزہ) کا اہتمام فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2363]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کا روزہ کوشش سے رکھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2189 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2364
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن (کے روزہ) کا اہتمام فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2364]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کا روزہ خصوصاً رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16056)، مسند احمد 6/80، 106 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2365
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن (کے روزہ) کا اہتمام فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2365]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کے دن روزہ ارادتاً رکھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16063) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2366
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2366]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16140) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں