سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. بَابُ: صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي - وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2367
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ مِنْ هَذِهِ الْجُمُعَةِ وَالِاثْنَيْنِ مِنَ الْمُقْبِلَةِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے: پہلے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کو، اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) کو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2367]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے: دو ایک ہفتے میں پیر اور جمعرات کو، اور اگلے ہفتے کے پیر کو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18161) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن لكن الأصح بلفظ وخميس
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2368
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَيَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَمِنَ الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کی جمعرات اور دوشنبہ (پیر) کو اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) کو روزہ رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2368]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے جمعرات اور سوموار کو اور دوسرے جمعہ (ہفتے) سے سوموار کو روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 69 (2451)، (تحفة الأشراف: 15796)، مسند احمد 6/287 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2369
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ جَعَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ، وَكَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنے دائیں گال کے نیچے رکھ لیتے، اور دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2369]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر لیٹتے تھے تو اپنا دایاں ہاتھ مبارک (ہتھیلی) اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھتے تھے اور سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2369]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15811) حم6/287 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2370
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَبِي , أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ، وَقَلَّمَا يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے ابتدائی تین دنوں میں روزہ رکھتے تھے اور کم ہی ایسا ہوتا کہ آپ جمعہ کے دن روزہ سے نہ رہے ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2370]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے شروع سے تین دن کا روزہ رکھتے تھے اور جمعۃ المبارک کے دن کم ہی روزہ چھوڑتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2370]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم68 (2450)، سنن الترمذی/الصوم41 (742)، سنن ابن ماجہ/الصوم37 (1725) مختصرا (تحفة الأشراف: 9206)، مسند احمد 1/406 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: صحیح بخاری کی ایک حدیث (صوم/۱۹۸۴) میں خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے صراحت کے ساتھ ممانعت آئی ہے، تو اس حدیث کا مطلب بقول حافظ ابن حجر یہ ہے کہ اگر ان تین ایام بیض میں جمعہ آ پڑتا تو جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کے وجہ سے آپ روزہ نہیں توڑتے تھے، بلکہ رکھ لیتے تھے، ممانعت تو خاص ایک دن جمعہ کو روزہ رکھنے کی ہے، یا بقول حافظ عینی: ایک دن آگے یا پیچھے ملا کر جمعہ کو روزہ رکھتے تھے، لیکن قابل قبول توجیہ حافظ ابن حجر کی ہی ہے، کیونکہ آپ تین دن ایام بیض کے روزہ تو رکھتے ہی تھے، اور پھر دو دن جمعہ کی مناسبت سے بھی رکھتے ہوں، یہ کہیں منقول نہیں ہے، یا پھر یہ کہا جائے کہ خاص اکیلے جمعہ کے دن کی ممانعت امت کے لیے ہے، اور روزہ رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2371
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ , وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چاشت کی دونوں رکعتوں کا حکم دیا، اور یہ کہ میں وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں، اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کروں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2371]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ: ”میں ضحیٰ (چاشت) کی دو رکعتیں پڑھا کروں اور بغیر وتر پڑھے نہ سوؤں اور ہر مہینے میں تین روزے رکھوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12190)، مسند احمد 2/331 ویأتي عند المؤلف بأرقام: 2407، 2408، 2409) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2372
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ عَاشُورَاءَ، قَالَ:" مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ، إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ، يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن کا روزہ اور دنوں سے بہتر جان کے رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی ماہ رمضان کے اور عاشوراء کے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2372]
حضرت عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا جب کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے فرمایا: میں تو نہیں جانتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن کو دوسرے دنوں سے افضل سمجھ کر اس کا روزہ رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی عاشوراء اور ماہ رمضان المبارک کے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم69 (2006)، صحیح مسلم/الصوم19 (1132)، (تحفة الأشراف: 5866)، مسند احمد 1/213، 222، 367 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2373
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ! أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذَا الْيَوْمِ:" إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ".
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا: ”اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2373]
حضرت حمید بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبرِ نبوی پر فرماتے سنا: اے مدینے والو! کہاں گئے تمہارے علماء؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن کے بارے میں فرماتے سنا: ”میں نے آج روزہ رکھا ہوا ہے، تو جو روزہ رکھنا چاہے، وہ رکھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم69 (2003)، صحیح مسلم/الصوم19 (1125)، (تحفة الأشراف: 11408)، موطا امام مالک/الصوم11 (34)، مسند احمد 4/95، 97 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2374
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي بَعْضُ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَتِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ (ام المؤمنین رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کے روز، ذی الحجہ کے نو دنوں میں، ہر مہینے کے تین دنوں میں یعنی: مہینہ کے پہلے دوشنبہ (پیر) کو اور پہلے اور دوسرے جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2374]
حضرت ہنیدہ بن خالد کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء محرم، ذو الحجہ کے پہلے نو دن اور ہر مہینے کے تین دن، مہینے کا پہلا سوموار اور دو ابتدائی جمعراتیں روزہ رکھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم61 (2437)، (تحفة الأشراف: 18297)، مسند احمد 5/271، 6/288، 289، 310، 423، یأتی عند المؤلف فی باب83 بأرقام: 2419، 2420، 2421 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح