🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. بَابُ: إِعْطَاءِ السَّيِّدِ الْمَالَ بِغَيْرِ اخْتِيَارِ الْمُصَدِّقِ
باب: مالک کا خود زکاۃ نکال کر محصل زکاۃ کو دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2464
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ثَفِنَةَ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ ابْنُ عَلْقَمَةَ أَبِي عَلَى عِرَافَةِ قَوْمِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يُصَدِّقَهُمْ، فَبَعَثَنِي أَبِي إِلَى طَائِفَةٍ مِنْهُمْ لِآتِيَهُ بِصَدَقَتِهِمْ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ يُقَالُ لَهُ: سَعْرٌ , فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي بَعَثَنِي إِلَيْكَ لِتُؤَدِّيَ صَدَقَةَ غَنَمِكَ، قَالَ ابْنَ أَخِي: وَأَيُّ نَحْوٍ تَأْخُذُونَ؟ قُلْتُ: نَخْتَارُ حَتَّى إِنَّا لَنَشْبُرُ ضُرُوعَ الْغَنَمِ، قَالَ ابْنَ أَخِي: فَإِنِّي أُحَدِّثُكَ أَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَنَمٍ لِي، فَجَاءَنِي رَجُلَانِ عَلَى بَعِيرٍ , فَقَالَا: إِنَّا رَسُولَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكَ، لِتُؤَدِّيَ صَدَقَةَ غَنَمِكَ , قَالَ: قُلْتُ: وَمَا عَلَيَّ فِيهَا؟ قَالَا: شَاةٌ، فَأَعْمِدُ إِلَى شَاةٍ قَدْ عَرَفْتُ مَكَانَهَا مُمْتَلِئَةٍ مَحْضًا وَشَحْمًا فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَ: هَذِهِ الشَّافِعُ وَالشَّافِعُ الْحَائِلُ، وَقَدْ" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا، قَالَ: فَأَعْمِدُ إِلَى عَنَاقٍ مُعْتَاطٍ، وَالْمُعْتَاطُ الَّتِي لَمْ تَلِدْ وَلَدًا وَقَدْ حَانَ وِلَادُهَا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا فَقَالَا: نَاوِلْنَاهَا فَرَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا فَجَعَلَاهَا مَعَهُمَا عَلَى بَعِيرِهِمَا ثُمَّ انْطَلَقَا".
مسلم بن ثفنہ کہتے ہیں کہ ابن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کی عرافت (نگرانی) پر مقرر کیا، اور انہیں اس بات کا حکم بھی دیا کہ وہ ان سے زکاۃ وصول کر کے لائیں۔ تو میرے والد نے مجھے ان کے کچھ لوگوں کے پاس بھیجا کہ میں ان سے زکاۃ لے کر آ جاؤں۔ تو میں (گھر سے) نکلا یہاں تک کہ ایک بوڑھے بزرگ کے پاس پہنچا انہیں «سعر» کہا جاتا تھا۔ تو میں نے ان سے کہا کہ میرے والد نے مجھے آپ کے پاس آپ کی بکریوں کی زکاۃ لانے کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! تم کس طرح کی زکاۃ لیتے ہو؟ میں نے کہا: ہم چنتے اور چھانٹتے ہیں یہاں تک کہ ہم بکریوں کے تھنوں کو ناپتے و ٹٹولتے ہیں (یعنی عمدہ مال ڈھونڈ کر لیتے ہیں)۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں گھاٹیوں میں سے کسی ایک گھاٹی میں اپنی بکریوں کے ساتھ تھا، میرے پاس ایک اونٹ پر سوار دو شخص آئے، اور انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرستادہ ہیں۔ ہم آپ کے پاس آئے ہیں کہ آپ ہمیں اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کریں۔ میں نے پوچھا: میرے اوپر ان بکریوں میں کتنی زکاۃ ہے؟ تو ان دونوں نے کہا: ایک بکری، میں نے دودھ اور چربی سے بھری ایک ایک موٹی تازی بکری کا قصد کیا جس کی جگہ مجھے معلوم تھی۔ میں اسے (ریوڑ میں سے) نکال کر ان کے پاس لایا تو انہوں نے کہا: «شافع» ہے ( «شافع» گابھن بکری کو کہتے ہیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گابھن جانور لینے سے روکا ہے۔ پھر میں نے ایک اور بکری لا کر پیش کرنے کا ارادہ کیا جو اس سے کمتر تھی جس نے ابھی کوئی بچہ نہیں جنا تھا لیکن حمل کے قابل ہو گئی تھی۔ میں نے اسے (گلّے سے) نکال کر ان دونوں کو پیش کیا، انہوں نے کہا: ہاں یہ ہمیں قبول ہے۔ پھر ہم نے اسے اٹھا کر انہیں پکڑا دیا۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ اونٹ پر لاد لیا، پھر لے کر چلے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2464]
حضرت مسلم بن ثفنہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن علقمہ (حاکم) نے میرے والد کو ان کی قوم کا نمبردار (یا سردار) بنایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی قوم سے زکوٰۃ وصول کریں۔ تو میرے والد نے مجھے ایک قبیلے کی طرف بھیجا تاکہ میں ان کی زکوٰۃ لے کر آؤں۔ میں گیا حتیٰ کہ ایک بزرگ کے پاس پہنچا جنہیں حضرت سعر رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا۔ میں نے کہا: مجھے والد محترم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ آپ اپنی بکریوں کی زکوٰۃ ادا کر دیں۔ وہ فرمانے لگے: اے بھتیجے! تم کس قسم کی بکریاں لیتے ہو؟ میں نے کہا: ہم چن کر لیتے ہیں حتیٰ کہ ان کے تھن بالشت کے ساتھ ماپ کر دیکھتے ہیں۔ وہ فرمانے لگے: اے بھتیجے! میں تجھے بتاتا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں ان وادیوں میں سے کسی وادی میں رہتا تھا۔ میرے پاس بکریاں ہوتی تھیں۔ میرے پاس دو آدمی اونٹ پر سوار ہو کر آئے اور کہنے لگے: ہم آپ کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد ہیں تاکہ آپ اپنی بکریوں کی زکوٰۃ ادا کریں۔ میں نے کہا: مجھ پر ان بکریوں میں کتنی زکوٰۃ ہے؟ انہوں نے کہا: ایک بکری۔ ایک ایسی بکری جس کی قدر و منزلت میں جانتا تھا، میں نے وہ خالص دودھ اور چربی سے بھری ہوئی (بہترین موٹی تازی دودھ والی) بکری پکڑی اور ان کے پاس لے آیا۔ وہ کہنے لگے: یہ تو بچے والی ہے اور ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے والی بکری لینے سے منع کیا ہے۔ میں ایک سال بھر عمر کی گابھن بکری، جس نے بچہ نہیں جنا تھا جو کہ جننے کے قریب تھی، (ریوڑ سے) نکال کر ان کے پاس لایا تو وہ کہنے لگے: یہ ٹھیک ہے، ہمیں پکڑا دو۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ اونٹ پر لادا اور چلے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة4 (1582)، (تحفة الأشراف: 15579)، مسند احمد (3/414، 415) (ضعیف) (اس کے راوی ’’مسلم بن ثفنہ، یا شعبہ‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1581،1582) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2465
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ ثَفِنَةَ، أَنَّ ابْنَ عَلْقَمَةَ اسْتَعْمَلَ أَبَاهُ عَلَى صَدَقَةِ قَوْمِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
مسلم بن ثفنہ کا بیان ہے کہ ابن علقمہ نے ان کے والد کو اپنی قوم سے زکاۃ وصول کرنے کے کام پر لگایا، اور پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2465]
حضرت مسلم بن ثفنہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن علقمہ (حاکم) نے میرے والد محترم کو اپنی قوم کی زکاۃ وصول کرنے کے لیے مقرر فرمایا اور پھر سابقہ روایت بیان فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1581،1582) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2466
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةٍ، فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم کیا۔ تو آپ سے کہا گیا: ابن جمیل، خالد بن ولید، اور عباس بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہم) نے (زکاۃ) نہیں دی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن جمیل زکاۃ کا انکار اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ محتاج تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مالدار بنا دیا۔ اور رہے خالد بن ولید تو تم لوگ خالد پر زیادتی کر رہے ہو، انہوں نے اپنی زرہیں اور اسباب اللہ کی راہ میں وقف کر دی ہیں، اور رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب، تو یہ زکاۃ تو ان پر ہے ہی۔ مزید اتنا اور بھی دیں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2466]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کی ادائیگی کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ابن جمیل، حضرت خالد بن ولید اور حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہم نے زکاۃ نہیں دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن جمیل تو اس لیے ناراض ہے کہ وہ فقیر تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے مال دار بنا دیا۔ رہا خالد بن ولید تو تم خالد پر ظلم کرتے ہو۔ انہوں نے تو اپنی زرہیں اور دوسرا جنگی ساز و سامان اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کر رکھا ہے۔ باقی رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تو ان کی زکاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے ہے بلکہ اس کے ساتھ اتنی اور ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10670، 13915) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں «فَھِیَ عَلَیَّ» اس کا مفہوم یہ ہے کہ رہے عباس رضی الله عنہ تو ان کی زکاۃ میرے ذمہ ہے اور اسی کے مثل اور، یعنی میں ان سے دو سال کی زکاۃ پہلے ہی لے چکا ہوں اس لیے اس کی ادائیگی میں کروں گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2467
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةٍ مِثْلَهُ سَوَاءً.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم دیا، آگے کی اوپر والی روایت کے مثل مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2467]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کا حکم دیا۔ سابقہ حدیث کی مانند۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، انظرما قبلہ، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة49 (1468)، صحیح مسلم/الزکاة3 (983)، سنن ابی داود/الزکاة21 (1623)، مسند احمد 2/322 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2468
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كِدْتُ أُقْتَلُ بَعْدَكَ فِي عَنَاقٍ أَوْ شَاةٍ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ:" لَوْلَا أَنَّهَا تُعْطَى فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ مَا أَخَذْتُهَا".
عبداللہ بن ہلال ثقفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: (لوگ اتنے جھگڑالو اور نادہند ہو گئے ہیں کہ) قریب ہے کہ میں آپ کے بعد زکاۃ کی بکری کے ایک بچے یا ایک بکری کے لیے قتل کر دیا جاؤں گا، تو آپ نے فرمایا: اگر وہ فقراء مہاجرین کو نہ دی جاتی ہوتی تو اسے میں نہ لیتا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2468]
حضرت عبداللہ بن ہلال ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: قریب تھا کہ مجھے آپ کی عدم موجودگی میں زکاۃ کی ایک بکری کی وجہ سے قتل کر دیا جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر فقراء اور مہاجرین (اور دوسرے مستحقین) کو زکاۃ نہ دی جاتی (ان لوگوں کو زکاۃ دینے کی مجبوری نہ ہوتی) تو میں زکاۃ وصول ہی نہ کرتا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 671) (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے، عبداللہ بن ہلال ثقفی تابعی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الثوري عنعن (تقدم: 2266) وفيه علة أخري: عبد الله بن هلال: مختلف فى صحبته (تقريب: 3682) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں