🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

114. بَابُ: قَتْلِ الْحَيَّةِ فِي الْحَرَمِ
باب: حرم میں سانپ مارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2885
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ موذی جانور ہیں جو حرم اور حرم سے باہر دونوں جگہوں میں مارے جا سکتے ہیں۔ سانپ، کاٹ کھانے والا کتا، چتکبرا کوا، چیل اور چوہیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2885]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور موذی ہیں، انہیں حل اور حرم میں (ہر جگہ) قتل کیا جا سکتا ہے، سانپ، کاٹنے والا کتا، سفید پیٹ یا پشت والا کوا، چیل اور چوہا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2832 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2886
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى حَتَّى نَزَلَتْ: وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1, فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوهَا" , فَابْتَدَرْنَاهَا فَدَخَلَتْ فِي جُحْرِهَا.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کی مسجد خیف میں تھے یہاں تک کہ سورۃ والمرسلات عرفاً نازل ہوئی، اتنے میں ایک سانپ نکلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مارو تو ہم مارنے کے لیے جلدی سے لپکے، لیکن وہ اپنی سوراخ میں گھس گیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2886]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں وادی خیف کے مقام پر تھے کہ ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا﴾ [سورة المرسلات: 1] اتری۔ ایک سانپ نکلا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ اپنے بل میں داخل ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 7 (1830)، بدء الخلق16 (3317)، تفسیرالمرسلات1 (4931)، 4 (4934)، صحیح مسلم/السلام 37 (2234)، (تحفة الأشراف: 9163)، مسند احمد (1/377، 422، 428) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2887
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ الَّتِي قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَإِذَا حِسُّ الْحَيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوهَا" فَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ، فَأَدْخَلْنَا عُودًا فَقَلَعْنَا بَعْضَ الْجُحْرِ، فَأَخَذْنَا سَعَفَةً فَأَضْرَمْنَا فِيهَا نَارًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ، وَوَقَاكُمْ شَرَّهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کی رات جو عرفہ کے دن سے پہلے ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک سانپ کی سرسراہٹ محسوس ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مارو لیکن وہ ایک سوراخ کے شگاف میں داخل ہو گیا تو ہم نے اس میں ایک لکڑی گھسیڑ دی، اور سوراخ کا کچھ حصہ ہم نے اکھیڑ دیا، پھر ہم نے کھجور کی شاخ لی اور اس میں آگ بھڑکا دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2887]
حضرت ابو عبیدہ کے والد (حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ہم عرفہ کی رات، جو یومِ عرفہ سے پہلے ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (منیٰ میں) تھے کہ اچانک آپ نے ایک سانپ کی آہٹ محسوس کی تو فرمایا: اسے مار ڈالو۔ لیکن وہ اپنے بل میں گھس گیا۔ ہم نے بل میں لکڑی داخل کی اور بل کو کچھ اکھاڑا، پھر اس میں کچھ خشک شاخیں (یا بھوسا) ڈال کر آگ لگا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے شر سے بچا لیا اور اسے تمہارے شر سے بچا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9630)، حصحیح مسلم/1/385 (صحیح) (اس کے راوی ”ابو عبیدہ“ کا اپنے والد محترم ابن مسعود رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، مگر پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں