🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابُ: مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ
باب: جہاد کرتے ہوئے خود اپنی ہی تلوار سے ہلاک ہو جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3152
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ ابنا كعب بن مالك، أن سلمة بن الأكوع، قَالَ:" لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ، فَقَتَلَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ، قَالَ سَلَمَةُ: فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَرْتَجِزَ بِكَ؟ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقْتَ، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ هَذَا؟ قُلْتُ: أَخِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، يَقُولُونَ: رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ، مِثْلَ ذَلِكَ , غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ حِينَ قُلْتُ: إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا، فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ.
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کی جنگ میں میرا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بہت بہادری سے لڑا، اتفاق ایسا ہوا کہ اس کی تلوار پلٹ کر خود اسی کو لگ گئی، اور اسے ہلاک کر دیا۔ تو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب چہ میگوئیاں کرنے لگے اور شک میں پڑ گئے کہ وہ اپنے ہتھیار سے مرا ہے ۱؎ سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹ کر آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اپنے سامنے رجز یہ کلام (یعنی جوش و خروش والا کلام) پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خوب سمجھ بوجھ کر کہنا ۲؎ میں نے کہا: قسم اللہ کی اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ـ نہ ہم صدقہ و خیرات کرتے، نہ نمازیں پڑھتے (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچی بات کہی ہے۔ (دوسرے رجزیہ شعر کا ترجمہ): اے اللہ ہم سب پر سکینت (اطمینان قلب) نازل فرما - اور جب میدان جنگ میں دشمن سے ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ مشرکین نے ہم پر ظلم و زیادتی کی ہے (تو ہماری ان کے مقابلے میں مدد فرما)۔ جب میں اپنا رجزیہ کلام پڑھ چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رجزیہ (اشعار) کس نے کہے ہیں؟ میں نے کہا: میرے بھائی نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے (بہت اچھے رجزیہ اشعار کہے ہیں) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! لوگ تو ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے بچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ شخص خود اپنے ہتھیار سے مرا ہے۔ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لڑتا ہوا مجاہد بن کر مرا ہے ۱؎۔ ابن شہاب زہری (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے باپ سے یہ حدیث اسی طرح بیان کیا سوائے اس ذرا سے فرق کے کہ جب میں نے عرض کیا کہ کچھ لوگ ان کی نماز پڑھنے سے خوف کھا رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ غلط کہتے ہیں (بدگمانی نہیں کرنی چاہیئے) وہ جہاد کرتا ہوا بحیثیت ایک مجاہد کے مرا ہے، آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسے دو اجر ملیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3152]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر کی لڑائی ہوئی تو میرے بھائی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں خوب لڑائی کی، پھر ان کی تلوار مڑ کر انہی کو لگی اور وہ فوت ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے اس بارے میں چہ مگوئیاں کیں اور ان کی شہادت کے بارے میں شک کیا (اور کہا) کہ یہ آدمی تو اپنے ہتھیار سے مرا ہے۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر سے واپسی کا سفر شروع فرمایا تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کی موجودگی میں کچھ اشعار پڑھ لوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرمائی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو کہنا ہے غور سے کہنا (کوئی شعر خلاف شرع نہ ہو)۔ میں نے یہ اشعار پڑھے: «وَاللّٰهِ لَوْلَا اللّٰهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا» اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت نہ ہوتی تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقے کرتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا۔ (پھر پڑھا:) «فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا» اے اللہ! ہم پر سکون و اطمینان نازل فرما اور اگر دشمن سے مقابلہ ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھنا، مشرکوں نے ہم پر ظلم و ستم کیے ہیں۔ جب میں نے اپنے اشعار پورے کیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ اشعار کس نے کہے ہیں؟ میں نے عرض کی: میرے بھائی نے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! کچھ لوگ اس کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے ڈرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص تو اپنے ہی ہتھیار سے مرا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو بڑی تگ و دو (کوشش) سے جہاد کرتے ہوئے فوت ہوا ہے۔ (حدیث کے راوی) ابن شہاب (امام زہری) رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد سے اسی (مذکورہ حدیث کی) طرح حدیث بیان کی لیکن یہ بات زیادہ کہی کہ جب میں (سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) نے عرض کی کہ لوگ اس کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے ڈرتے تھے، تو (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے غلط کہا، وہ تو بڑی تگ و دو (کوشش) سے جہاد کرتے ہوئے مرا ہے، اسے دگنا اجر ملے گا۔ (یہ فرماتے ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجہاد 43 (1802)، سنن ابی داود/الجہاد 40 (2538)، (تحفة الأشراف: 4532)، مسند احمد (4/46) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی صحیح موت مرا ہے یا حرام موت کچھ پتہ نہیں۔ ۲؎: یعنی دیکھنا کوئی بات غیر مناسب نہ نکل جائے۔ ۳؎: یہ اور بات ہے کہ دشمن پر حملہ کرتے ہوئے تلوار اتفاقاً خود اسی کو لگ گئی لیکن یہ خودکشی نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں