🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. بَابُ: مَا يَقُولُ مَنْ يَطْعَنُهُ الْعَدُوُّ
باب: مسلمان دشمن سے زخم کھا کر کیا کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3151
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، وَوَلَّى النَّاسُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وَفِيهِمْ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَأَدْرَكَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: مَنْ لِلْقَوْمِ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ: أَنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمَا أَنْتَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: أَنْتَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَإِذَا الْمُشْرِكُونَ، فَقَالَ: مَنْ لِلْقَوْمِ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ: أَنَا قَالَ: كَمَا أَنْتَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: أَنَا، فَقَالَ: أَنْتَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ , وَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَيُقَاتِلُ قِتَالَ مَنْ قَبْلَهُ، حَتَّى يُقْتَلَ، حَتَّى بَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لِلْقَوْمِ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ: أَنَا، فَقَاتَلَ طَلْحَةُ قِتَالَ الْأَحَدَ عَشَرَ حَتَّى ضُرِبَتْ يَدُهُ فَقُطِعَتْ أَصَابِعُهُ، فَقَالَ: حَسِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قُلْتَ بِسْمِ اللَّهِ لَرَفَعَتْكَ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ رَدَّ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے، (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ انصاری صحابہ کے ساتھ ایک طرف موجود تھے انہیں میں ایک طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۱؎۔ مشرکین نے انہیں (تھوڑا دیکھ کر) گھیر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ہماری طرف سے کون لڑے گا؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں (آپ کا دفاع کروں گا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جیسے ہو ویسے ہی رہو تو ایک دوسرے انصاری صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! میں (دفاع کیلئے تیار ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (لڑو ان سے) تو وہ لڑے یہاں تک کہ شہید کر دیئے گئے۔ پھر آپ نے مڑ کر (سب پر) ایک نظر ڈالی تو مشرکین موجود تھے آپ نے پھر آواز لگائی: قوم کی کون حفاظت کرے گا؟ طلحہ رضی اللہ عنہ (پھر) بولے: میں حفاظت کروں گا، آپ نے فرمایا: (تم ٹھہرو) تم جیسے ہو ویسے ہی رہو، تو دوسرے انصاری صحابی نے کہا: اللہ کے رسول! میں قوم کی حفاظت کروں گا، آپ نے فرمایا: تم (لڑو ان سے) پھر وہ صحابی (مشرکین سے) لڑے اور شہید ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر ایسے ہی پکارتے رہے اور کوئی نہ کوئی انصاری صحابی ان مشرکین کے مقابلے کے لیے میدان میں اترتا اور نکلتا رہا اور اپنے پہلوں کی طرح لڑ لڑ کر شہید ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ بن عبیداللہ ہی باقی رہ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز لگائی۔ قوم کی کون حفاظت کرے گا؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے (پھر) کہا: میں کروں گا (یہ کہہ کر) پہلے گیارہ (شہید ساتھیوں) کی طرح مشرکین سے جنگ کرنے لگ گئے۔ (اور لڑتے رہے) یہاں تک کہ ہاتھ پر ایک کاری ضرب لگی اور انگلیاں کٹ کر گر گئیں۔ انہوں نے کہا: «حس» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ( «حس» کے بجائے) «بسم اللہ» کہتے تو فرشتے تمہیں اٹھا لیتے اور لوگ دیکھ رہے ہوتے، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو واپس کر دیا (یعنی وہ مکہ لوٹ گئے)۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3151]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب احد کا دن تھا اور لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ انصاریوں کے حصار میں (میدان کے) ایک کنارے میں (ڈٹے ہوئے) تھے۔ ان میں (ایک مہاجر) حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ مشرکوں نے انہیں گھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کون دشمنوں کا مقابلہ کرے گا؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو جس جگہ ہے وہیں ٹھہرا رہے۔ ایک انصاری نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں مقابلہ کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تو مقابلہ کر۔ اس نے لڑائی کی حتیٰ کہ وہ شہید ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر توجہ فرمائی تو مشرک ابھی تک موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون دشمنوں کا مقابلہ کرے گا؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو جہاں ہے وہیں رہ۔ ایک اور انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تو مقابلہ کر۔ اس نے لڑائی لڑی حتیٰ کہ وہ بھی شہید ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر یہی فرماتے رہے اور ایک ایک انصاری نکلتا رہا اور اپنے پیشرو کی طرح لڑائی کرتا رہا اور شہید ہوتا رہا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہی باقی رہ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون دشمنوں کا مقابلہ کرے گا؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کیا کروں گا، اور انہوں نے لڑائی شروع کر دی۔ اور وہ اپنے پیشرو گیارہ انصاریوں کی طرح لڑے حتیٰ کہ ان کے ہاتھ پر تلوار لگی اور انگلیاں کٹ گئیں۔ تو ان کے منہ سے «حَسِّ» اوئی وغیرہ نکلا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تجھے زخم لگا تھا) اگر تو «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے کہتا تو تجھے فرشتے اٹھا لیتے۔ اور لوگ دیکھتے رہتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2893)، (حسن من قولہ’’فقطعت أصابعہ…‘‘ وماقبلہ یحتمل التحسین وہو شرط مسلم)»
وضاحت: ۱؎: طلحہ بن عبیداللہ کا شمار اگرچہ ان بارہ انصاری صحابہ میں ہوا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، لیکن یہ انصاری نہیں ہیں، یہ اور بات ہے کہ تغلیباً سبھی کو انصاری کہا گیا ہے۔ «حس» : یہ کلمہ درد کی شدت کے وقت بولا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن من قوله فقطعت أصابعه وما قبله يحتمل التحسين وهو على شرط مسلم
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو الزبير مدلس وعنعن. وللحديث شاهد ضعيف، فى مجمع الزوائد (9/ 149) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں