سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ: مَنْ كُلِمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کے راستے میں زخمی ہونے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3149
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اللہ کے راستے میں گھائل ہو گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ۱؎ تو قیامت کے دن (اس طرح) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون ٹپک رہا ہو گا۔ رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3149]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہوتا ہے... اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے... تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون تیزی سے بہہ رہا ہوگا۔ رنگ تو خون کا ہوگا مگر خوشبو کستوری کی ہوگی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 10 (2803)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، (تحفة الأشراف: 13690)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد 15 (2795)، موطا امام مالک/الجہاد 14 (29)، مسند احمد (3/2 24، 31، 398، 400، 512، 531، 537)، سنن الدارمی/الجہاد 15 (2450) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس جملہ معترضہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں زخمی ہونے والے شخص کے عمل کا دارومدار اس کے اخلاص پر ہے جس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3150
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَلْمٌ يُكْلَمُ فِي اللَّهِ، إِلَّا أَتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْحُهُ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ".
عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں (یعنی شہداء کو) ان کے خون میں لت پت ڈھانپ دو، کیونکہ کوئی بھی زخم جو اللہ کے راستے میں کسی کو پہنچا ہو وہ قیامت کے دن (اس طرح) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا، رنگ خون کا ہو گا، اور خوشبو اس کی مشک کی ہو گی ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3150]
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (شہدائے احد کے بارے میں) فرمایا تھا: ”انہیں ان کے خون (آلودہ جسم اور کپڑوں) سمیت ڈھانپ کر دفن کرو کیونکہ جو زخم بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں لگتا ہے، وہ قیامت کے دن اس حالت میں ہوگا کہ اس سے خون بہہ رہا ہو گا۔ رنگ تو خون کا ہو گا مگر خوشبو کستوری کی ہو گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2004 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ آپ نے ان شہداء کے بارے میں فرمایا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخم کھا کر شہید ہو گئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن