سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. بَابُ: فَضْلِ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا
باب: مجاہد کو سامان جہاد سے لیس کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3182
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ، فَقَدْ غَزَا".
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں کسی لڑنے والے کو اسلحہ اور دیگر سامان جنگ سے لیس کیا۔ اس نے (گویا کہ) خود جنگ میں شرکت کی، اور جس نے مجاہد کے جہاد پر نکلنے کے بعد اس کے گھر والوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی ۱؎ تو وہ بھی (گویا کہ) جنگ میں شریک ہوا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3182]
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی جہاد فی سبیل اللہ کے لیے کسی غازی کو سامان مہیا کرے، اس نے بھی جہاد میں حصہ لیا اور جو کسی غازی کی عدم موجودگی میں اس کے اہل و عیال کی ضرورت مہیا کرے، اس نے بھی جہاد کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 38، (2843)، صحیح مسلم/الإمارة 38 (1895)، سنن ابی داود/الجہاد 21 (2509)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 6 (1628)، (تحفة الأشراف: 3747)، مسند احمد (4/115، 116، 117، و5/192، 193، سنن الدارمی/الجہاد 27 (2463) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مجاہد کے گھر والوں کی دیکھ بھال کے دوران نگرانی کرنے والے نے مجاہد کے اہل خانہ پر نہ تو بری نگاہ ڈالی اور نہ ہی کسی قسم کی خیانت کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا، فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ، فَقَدْ غَزَا".
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مجاہد کو مسلح کر کے بھیجا، تو گویا اس نے خود جہاد کیا۔ اور جس نے مجاہد کے پیچھے (یعنی اس کی غیر موجودگی میں) اس کے گھر والوں کی حفاظت و نگہداشت کی تو اس نے (گویا) خود جہاد کیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3183]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجاہد فی سبیل اللہ کو سامانِ جنگ و سفر مہیا کرے، اس نے بھی جہاد کیا اور جو شخص غازی کی عدم موجودگی میں اس کے اہل و عیال سے حسنِ سلوک کرے تو اس نے بھی جہاد میں حصہ لیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3182 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3184
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْحَجَّ، فَبَيْنَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا، إِذْ أَتَانَا آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اجْتَمَعُوا فِي الْمَسْجِدِ وَفَزِعُوا، فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى نَفَرٍ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ، وَفِيهِمْ عَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَإِنَّا لَكَذَلِكَ إِذْ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَلَيْهِ مُلَاءَةٌ صَفْرَاءُ، قَدْ قَنَّعَ بِهَا رَأْسَهُ، فَقَالَ: أَهَهُنَا طَلْحَةُ، أَهَهُنَا الزُّبَيْرُ، أَهَهُنَا سَعْدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" , فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا، وَأَجْرُهُ لَكَ، قَالُوا: اللَّهُمَّ، نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ ابْتَاعَ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" , فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدِ ابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: اجْعَلْهَا سِقَايَةً لَلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَقَالَ:" مَنْ يُجَهِّزُ هَؤُلَاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" يَعْنِي جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى لَمْ يَفْقِدُوا عِقَالًا، وَلَا خِطَامًا، فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ".
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ہم حاجی لوگ نکلے، اور مدینہ پہنچے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا ہم ابھی اپنا سامان اتار کر اپنے ڈیروں میں رکھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والا ہمارے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ مسجد میں اکٹھا ہو رہے ہیں، اور گھبرائے ہوئے ہیں، ہم بھی وہاں پہنچے دیکھا کہ لوگ بیچ مسجد میں کچھ (اکابر) صحابہ کو گھیرے ہوئے ہیں، ان میں علی، زبیر، طلحہ اور سعد بن ابی وقاص (رضی اللہ عنہم) ہیں، ہم ابھی یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اتنے میں عثمان رضی اللہ عنہ پیلی چادر پہنے ہوئے اور اسی سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تشریف لائے ۱؎، اور کہا: کیا یہاں طلحہ ہیں؟ کیا یہاں زبیر ہیں؟ کیا یہاں سعد ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ہیں، تو انہوں نے کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص بنی فلاں کا کھلیان (مسجد نبوی کے قریب کی زمین) خرید کر مسجد کے لیے وقف کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا“ تو میں نے اسے بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خرید لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: ”اسے ہماری مسجد میں شامل کر دو، اس کا ثواب تمہیں ملے گا“ (چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا) لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں یہ سچ ہے۔ انہوں نے (پھر) کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رومہ کا کنواں خریدے گا، اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا“، تو میں نے اسے اتنے اور اتنے میں خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ میں نے اتنے اور اتنے میں اسے خرید لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے (وقف) کر دو، اس کا اجر تمہیں ملے گا“، (تو میں نے اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے عام کر دیا)، لوگوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہاں (یہ سچ ہے)، انہوں نے پھر کہا: میں تم سب سے اس اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈال کر کہا تھا جو کوئی انہیں (تنگی و محتاجی والی فوج کو) ضروریات جنگ سے مسلح کر دے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا، میں نے اس لشکر کو ہر طرح سے مسلح کر دیا یہاں تک کہ رسی اور نکیل کی بھی انہیں ضرورت نہ رہی۔ لوگوں نے کہا اے ہمارے رب! ہاں (یہ سچ ہے)۔ انہوں نے کہا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3184]
حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حج کرنے کے لیے نکلے۔ ہم مدینہ منورہ پہنچے۔ ابھی ہم اپنے مقامات میں سامان اتار رہے تھے کہ ایک شخص ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا کہ لوگ مسجد نبوی میں جمع ہیں اور وہ گھبرائے ہوئے ہیں۔ ہم مسجد کو چلے تو بہت سے لوگ مسجد کے درمیان میں کچھ لوگوں کے اردگرد جمع تھے۔ ان میں حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ ہم اسی حال میں تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور ان پر زرد رنگ کی ایک بڑی چادر تھی۔ انہوں نے اس سے سر کو ڈھانپ رکھا تھا۔ وہ فرمانے لگے: کیا یہاں طلحہ ہیں، زبیر ہیں، سعد ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ فرمانے لگے: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص فلاں خاندان کا کھلیان خرید (کر مسجد کے لیے وقف) کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہ معاف کردے گا۔“ میں نے بیس یا پچاس ہزار درہم سے اسے خریدا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ کو اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا: ”یہ ہماری مسجد میں شامل کردو۔ اس کا ثواب تمہیں ملے گا۔“ ان سب نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص «بِئْرَ رُومَةَ» ”رومہ کا کنواں“ خرید (کر وقف) کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہ معاف کردے گا۔“ میں نے وہ کنواں اتنی اتنی (کثیر) رقم سے خریدا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں نے وہ کنواں اتنی رقم سے خرید لیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے عام مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کردے۔ اس کا اجر تجھے ملے گا۔“ ان سب نے کہا: اللہ کی قسم! ہاں۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ تبوک کی تیاری کے وقت) لوگوں کے چہروں میں دیکھا اور فرمایا: ”جو شخص ان «جَيْشَ الْعُسْرَةِ» ”جیشِ عسرہ“ کو سامانِ حرب و سفر مہیا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے سب گناہ معاف کردے گا۔“ میں نے ان کا سامان مہیا کیا حتیٰ کہ انہیں اونٹ کا پاؤں باندھنے والی کسی رسی یا اونٹ کی مہار کی بھی کمی محسوس نہ ہوئی؟ ان سب لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! جی ہاں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ! گواہ ہوجا۔ اے اللہ! گواہ ہوجا۔ اے اللہ! گواہ ہوجا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9781)، مسند احمد (1/70، و یأتي عند المؤلف برقم: 3636، 3637) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب خوارج نے عثمان رضی الله عنہ کے خلاف باغیانہ کارروائیاں شروع کر دی تھیں، اور ان سے خلافت سے دستبرداری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ۲؎: یہ میں نے تیری رضا اور اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن