سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ: حُبِّ الرَّجُلِ بَعْضَ نِسَائِهِ أَكْثَرَ مِنْ بَعْضٍ
باب: ایک کے مقابلے دوسری بیوی سے زیادہ محبت ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3396
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي، فَأَذِنَ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ , وَأَنَا سَاكِتَةٌ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْ بُنَيَّةُ , أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَنْ أُحِبُّ؟". قَالَتْ: بَلَى. قَالَ:" فَأَحِبِّي هَذِهِ". فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَجَعَتْ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي قَالَتْ وَالَّذِي قَالَ لَهَا، فَقُلْنَ لَهَا: مَا نَرَاكِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ , فَارْجِعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولِي لَهُ: إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ. قَالَتْ فَاطِمَةُ: لَا وَاللَّهِ , لَا أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ , وَأَتْقَى لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَأَصْدَقَ حَدِيثًا , وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ , وَأَعْظَمَ صَدَقَةً , وَأَشَدَّ ابْتِذَالًا لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ , وَتَقَرَّبُ بِهِ مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ كَانَتْ فِيهَا تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ , فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا عَلَى الْحَالِ الَّتِي كَانَتْ دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا , فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ , وَوَقَعَتْ بِي فَاسْتَطَالَتْ , وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ هَلْ أَذِنَ لِي فِيهَا فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ , فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا بِشَيْءٍ حَتَّى أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے فاطمہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، انہوں نے آپ سے اجازت طلب کی، آپ میرے ساتھ چادر میں لیٹے ہوئے تھے، آپ نے انہیں اجازت دی، وہ بولیں: اللہ کے رسول! آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ ابوقحافہ کی بیٹی (عائشہ) کے سلسلے میں آپ سے ۱؎ عدل کا مطالبہ کر رہی ہیں، اور میں خاموش ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اے میری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کرتیں جس سے مجھے محبت ہے؟ وہ بولیں: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: تو تم بھی ان سے محبت کرو، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ بات سنی تو اٹھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس واپس آ کر انہیں وہ ساری بات بتائی جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی اور جو آپ نے ان (فاطمہ) سے کہی۔ وہ سب بولیں: ہم نہیں سمجھتے کہ تم نے ہمارا کام کر دیا، تم پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: آپ کی بیویاں آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے عدل کی اپیل کرتی ہیں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے سلسلے میں آپ سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زینب بنت جحش کو بھیجا اور زینب ہی ایسی تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میرے برابر کا درجہ رکھتی تھیں۔ میں نے کبھی بھی دین کے معاملے میں بہتر، اللہ سے ڈرنے والی، سچ بات کہنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، بڑے بڑے صدقات کرنے والی، صدقہ و خیرات اور قرب الٰہی کے کاموں میں خود کو سب سے زیادہ کمتر کرنے والی زینب سے بڑھ کر کوئی عورت نہیں دیکھی سوائے اس کے کہ وہ مزاج کی تیز طرار تھیں لیکن ان کا غصہ بہت جلد رفع ہو جاتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چادر میں اسی طرح تھے کہ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، وہ بولیں: اللہ کے رسول! آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ وہ سب ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں اور وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں اور خوب زبان درازی کی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھی اور آپ کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ آیا آپ مجھے بھی ان کا جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں، زینب رضی اللہ عنہا ابھی وہیں پر تھیں کہ میں نے اندازہ کر لیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا نہیں لگے گا۔ چنانچہ جب میں نے انہیں برا بھلا کہا تو میں نے انہیں ذرا بھی ٹکنے نہیں دیا یہاں تک کہ میں ان سے آگے نکل گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ابوبکر کی بیٹی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3396]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، انہوں نے آپ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی جب کہ اس وقت آپ میرے پاس میری چادر میں لیٹے ہوئے تھے، آپ نے انہیں اجازت دی، انہوں نے آکر کہا: اللہ کے رسول! آپ کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، ان کا مطالبہ ہے کہ آپ ابوقحافہ کی بیٹی (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کے بارے میں انصاف سے کام لیں، میں خاموش تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بیٹی! کیا تجھے اس سے محبت نہیں جس سے مجھے محبت ہے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ فرمایا: ”پھر اس (عائشہ) سے محبت رکھ۔“ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی تو اٹھ کھڑی ہوئیں اور واپس جا کر آپ کی ازواج مطہرات کو اپنی بات اور آپ کا جواب سب کچھ بتا دیا، وہ کہنے لگیں: ہمارے خیال میں تم نے ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو کہ آپ کی بیویاں آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے بارے میں انصاف کی طلب گار ہیں، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں آپ سے کبھی بھی اس کی بابت کوئی بات نہیں کروں گی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا (آپ کی بیوی) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی واحد بیوی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میرے برابر مرتبہ رکھتی تھیں اور میں نے کبھی کوئی عورت ایسی نہیں دیکھی جو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر دینی لحاظ سے نیک، اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والی، سچ بولنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، زیادہ صدقہ کرنے والی اور اپنے آپ کو صدقے اور نیکی کے کام میں کھپا دینے والی ہو، البتہ ان کی طبیعت میں کچھ تیزی تھی جو جلد ہی ختم ہو جایا کرتی تھی، انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی چادر میں اسی طرح لیٹے ہوئے تھے جس طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کے وقت تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی تو انہوں نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کی بابت انصاف کی طلب گار ہیں، پھر وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں اور بہت دیر تک کہتی رہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہی تھی وہ منتظر تھی کہ آپ آنکھ کے اشارے ہی سے مجھے جواب دینے کی اجازت دیں لیکن زینب رضی اللہ عنہا باز نہ آئیں حتیٰ کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اب اگر میں بدلہ لوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند نہیں فرمائیں گے، چنانچہ جب میں شروع ہوئی تو میں نے انہیں ایک لمحہ بھی نہ بولنے دیا حتیٰ کہ میں نے انہیں دبا لیا اور چپ کرا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مسکراتے ہوئے) فرمایا: ”بلاشبہ یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3396]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الہبة 8 (2581)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2442)، (تحفة الأشراف: 17590)، مسند احمد (6/88، 150) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی قلبی محبت میں تمام ازواج مطہرات برابر ہوں یا لوگ اپنے ہدایا بھیجنے میں ساری ازواج مطہرات کا خیال رکھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3397
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَذَكَرَتْ نَحْوَهُ، وَقَالَتْ:" أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ، فَاسْتَأْذَنَتْ، فَأَذِنَ لَهَا فَدَخَلَتْ، فَقَالَتْ: نَحْوَهُ". خَالَفَهُمَا مَعْمَرٌ رَوَاهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
اس سند سے بھی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا اور وہ اس میں (صرف اتنا) کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے زینب کو بھیجا تو انہوں نے اجازت طلب کی، آپ نے انہیں اجازت دی، پھر وہ اسی طرح آگے کہتی ہیں، معمر نے اس کے برعکس عن الزہری، عن عروۃ، عن عائشہ کہہ کر روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3397]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس سے ملتی جلتی روایت آتی ہے کہ ازواجِ مطہرات نے جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو انہوں نے اندر آ کر کہا: ...الخ۔ معمر نے ان دونوں (صالح اور شعیب) کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے یہ روایت «عَنْ زُهْرِيٍّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ» کی سند سے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3397]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3396 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3398
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ الثِّقَةُ الْمَأْمُونُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اجْتَمَعْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ لَهَا: إِنَّ نِسَاءَكَ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، قَالَتْ: فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا، فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ نِسَاءَكَ أَرْسَلْنَنِي , وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُحِبِّينِي؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَحِبِّيهَا". قَالَتْ: فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ , فَأَخْبَرَتْهُنَّ مَا قَالَ: فَقُلْنَ لَهَا: إِنَّكِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا فَارْجِعِي إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ , لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا. وَكَانَتِ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا , فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: أَزْوَاجُكَ أَرْسَلْنَنِي , وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ تَشْتِمُنِي , فَجَعَلْتُ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْظُرُ طَرْفَهُ , هَلْ يَأْذَنُ لِي مِنْ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا، قَالَتْ: فَشَتَمَتْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا، فَاسْتَقْبَلْتُهَا , فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمْ أَرَ امْرَأَةً خَيْرًا , وَلَا أَكْثَرَ صَدَقَةً , وَلَا أَوْصَلَ لِلرَّحِمِ , وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي كُلِّ شَيْءٍ يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ زَيْنَبَ , مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ كَانَتْ فِيهَا تُوشِكُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور انہوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور ان سے کہا: آپ کی بیویاں - اور ایسا کلمہ کہا جس کا مفہوم یہ ہے - ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے مطالبہ کرتی ہیں کہ انصاف سے کام لیجئیے۔ چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں، آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی چادر میں تھے۔ انہوں نے آپ سے کہا: (اللہ کے رسول!) آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ ابوقحافہ کی بیٹی (عائشہ) کے سلسلے میں آپ سے عدل کا مطالبہ کر رہی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟“ کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”تو تم بھی ان (عائشہ) سے محبت کرو“، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس واپس آ کر انہیں وہ ساری بات بتائی جو آپ نے (فاطمہ سے) کہی، وہ سب بولیں: تم نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا، تم پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ فاطمہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے سلسلے میں آپ کے پاس کبھی نہیں جاؤں گی اور درحقیقت وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھیں ۱؎، اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ اور زینب ہی ایسی تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک) میرے برابر کا درجہ رکھتی تھیں۔ وہ بولیں: (اللہ کے رسول!) آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ وہ سب ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں اور وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھی اور آپ کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ آیا آپ مجھے بھی ان کا جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ زینب رضی اللہ عنہا ابھی وہیں پر تھیں کہ میں نے اندازہ کر لیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا نہیں لگے گا۔ چنانچہ (جب) میں نے انہیں برا بھلا کہا (تو میں نے انہیں ذرا بھی ٹکنے نہیں دیا) یہاں تک کہ میں ان سے آگے نکل گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”یہ ابوبکر کی بیٹی ہے“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کبھی بھی دین کے معاملے میں بہتر، اللہ سے ڈرنے والی، سچ بات کہنے والی اور صلہ رحمی کرنے والی، بڑے بڑے صدقات کرنے والی، صدقہ و خیرات اور قرب الٰہی کے کاموں میں خود کو سب سے زیادہ کمتر کرنے والی زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی عورت نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ وہ مزاج کی تیز طرار تھیں لیکن ان کا غصہ بہت جلد رفع ہو جاتا تھا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس (روایت) میں غلطی ہے صحیح وہی ہے جو اس سے پہلے گزری۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3398]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی (دوسری) ازواج مطہرات اکٹھی ہوئیں اور انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں بھیجا اور انہیں کہا: (آپ سے جا کر کہو) آپ کی بیویاں آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے سلسلے میں انصاف کی دہائی دیتی ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی چادر میں لیٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے سلسلے میں انصاف کی دہائی دیتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”کیا تجھے مجھ سے محبت ہے؟“ وہ کہنے لگیں: ضرور۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اس (عائشہ) سے محبت رکھ۔“ وہ ان کے پاس واپس چلی گئیں اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب سنا دیا۔ وہ کہنے لگیں: تم نے کچھ نہیں کیا، دوبارہ جاؤ۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسئلے میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوبارہ نہیں جاؤں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح بیٹی تھیں، پھر انہوں نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے یہی وہ زوجہ مطہرہ تھیں جو میرے برابر درجہ رکھتی تھیں۔ وہ آکر کہنے لگیں: آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کی بابت انصاف کی طلب گار ہیں، پھر وہ میری طرف متوجہ ہوکر مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا انتظار کرنے لگی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کی طرف دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بدلہ لینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ وہ مجھے برا بھلا کہتی رہیں حتیٰ کہ مجھے اندازہ ہوگیا کہ اب اگر میں ان سے بدلہ لوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرمائیں گے، پھر میں ان کی طرف متوجہ ہوکر انہیں جواب دینے لگی۔ تھوڑی دیر میں میں نے انہیں چپ کرا دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (چپ دیکھ کر) فرمایا: ”یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے کوئی عورت حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر نیک، زیادہ صدقے کرنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، ہر اس کام میں اپنے آپ کو کھپا دینے والی جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاسکے، نہیں دیکھی مگر ان میں کچھ تیزی و ترشی تھی جو جلد ہی ختم ہوجایا کرتی تھی۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت خطا ہے اور صحیح روایت پہلی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3398]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16674)، مسند احمد (6/150) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی خلاف ورزی کرتیں جب کی آپ نے ان سے فرمایا تھا تو بھی عائشہ رضی الله عنہا سے محبت کر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3399
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی تمام کھانوں پر“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3399]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر۔“ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 32 (3411) مطولا، 46 (3433) مطولا، فضائل الصحابة 30 (3769) مطولا، الأطعمة 25 (5418)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2431)، سنن الترمذی/الأطعمة 31 (1834) مطولا، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 14 (3280)، (تحفة الأشراف: 9029)، مسند احمد (4/394، 309) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ثرید: عربوں کا سب سے اعلیٰ درجے کا کھانا ہے یہ گوشت کا ہوتا ہے، اس میں لذت اور ذائقہ بھی ہے اور قوت و غذائیت بھی۔ کھانے میں بہت آسان ہوتا ہے اور اسے چبانے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ یہ خوبصورتی بڑھانے اور آواز میں حسن پیدا کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3400
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِر الطَّعَامِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی سارے کھانوں پر“۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3400]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوسری عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے دوسرے کھانوں پر ثرید کو فضیلت حاصل ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17705)، مسند احمد (6/159) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3401
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق الصَّغَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَاذَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُمَّ سَلَمَةَ، لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا أَتَانِي الْوَحْيُ فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ إِلَّا هِيَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! مجھے عائشہ کے تعلق سے ایذا نہ دو، اس لیے کہ اللہ کی قسم! اس کے علاوہ کوئی عورت تم میں سے ایسی نہیں ہے جس کے لحاف میں میرے پاس وحی آئی ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3401]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! مجھے عائشہ کی بابت تکلیف نہ دو۔ اللہ کی قسم! اس کے علاوہ تم میں سے کسی کے لحاف میں مجھے وحی نہیں آئی۔“ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16874)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الہبة 8 (2581)، وفضائل الصحابة 30 (3775)، سنن الترمذی/المناقب 63 (3879) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح، صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3402
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ رُمَيْثَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ:" أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّمْنَهَا أَنْ تُكَلِّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، وَتَقُولُ لَهُ: إِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةَ. فَكَلَّمَتْهُ، فَلَمْ يُجِبْهَا , فَلَمَّا دَارَ عَلَيْهَا كَلَّمَتْهُ أَيْضًا , فَلَمْ يُجِبْهَا، وَقُلْنَ: مَا رَدَّ عَلَيْكِ؟ قَالَتْ: لَمْ يُجِبْنِي. قُلْنَ: لَا تَدَعِيهِ حَتَّى يَرُدَّ عَلَيْكِ أَوْ تَنْظُرِينَ مَا يَقُولُ. فَلَمَّا: دَارَ عَلَيْهَا , كَلَّمَتْهُ، فَقَالَ:" لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ إِلَّا فِي لِحَافِ عَائِشَةَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَانِ الْحَدِيثَانِ صَحِيحَانِ عَنْ عَبْدَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے ان سے بات کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں کہ لوگ عائشہ کی باری کے دن ہدیے اور تحفے بھیجتے ہیں اور آپ سے کہیں کہ ہمیں بھی خیر سے اسی طرح محبت ہے جیسے آپ کو عائشہ سے ہے، چنانچہ انہوں نے آپ سے گفتگو کی لیکن آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا، جب ان کی باری کا دن آیا تو انہوں نے پھر بات کی، آپ نے انہیں جواب نہیں دیا۔ انہوں (بیویوں) نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کوئی جواب دیا؟ وہ بولیں: کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا: تم چھوڑنا مت، جب تک کوئی جواب نہ دے دیں۔ (یا یوں کہا:) جب تک تم دیکھ نہ لو کہ آپ کیا جواب دیتے ہیں۔ جب پھر ان کی باری آئی تو انہوں نے آپ سے گفتگو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ کے تعلق سے مجھے اذیت نہ دو، اس لیے کہ عائشہ کے لحاف کے علاوہ تم میں سے کسی عورت کے لحاف میں ہوتے ہوئے میرے پاس وحی نہیں آئی“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: عبدہ سے مروی یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3402]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے مجھ سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرو کہ لوگ قصداً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے بھیجتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح ہم بھی اس فضیلت کی خواہش مند ہیں۔ میں نے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باری کے لحاظ سے میرے پاس آئے تو میں نے پھر بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر جواب نہ دیا۔ ازواجِ مطہرات نے مجھ سے پوچھا: آپ نے کیا جواب دیا؟ میں نے کہا: کچھ بھی نہیں۔ وہ کہنے لگیں: تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار یہ بات کرتی رہو حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ میرے پاس آئے تو میں نے پھر یہی بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ام سلمہ!) مجھے عائشہ کے بارے میں ستایا نہ کرو کیونکہ جب میں تم میں سے کسی کے لحاف میں ہوتا ہوں تو عائشہ کے لحاف کے سوا مجھ پر کوئی وحی نہیں اتری۔“ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ راوی عبدہ سے مروی یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18258)، مسند احمد (6/293) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3403
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ ہدیے اور تحفے بھیجتے جس دن عائشہ کی باری ہوتی، وہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی چاہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3403]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ قصداً اپنے تحفے عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن بھیجا کرتے تھے، اس سے ان کا مقصود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی اور رضا مندی کا حصول تھا۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الہبة 7 (2574)، 8 (2580)، وفضائل الصحابة 30 (3775)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2441)، (تحفة الأشراف: 17044)، وحم (6/293) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3404
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ هُدَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، , قَالَتْ: أَوْحَى اللَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا مَعَهُ، فَقُمْتُ , فَأَجَفْتُ الْبَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ , فَلَمَّا رُفِّهَ عَنْهُ، قَالَ لِي:" يَا عَائِشَةُ , إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی، میں آپ کے ساتھ تھی، میں اٹھی اور اپنے اور آپ کے درمیان دروازہ بند کر دیا، جب وحی ختم ہو گئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ”عائشہ! جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3404]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نازل فرمائی، میں بھی آپ کے ساتھ تھی، میں اٹھ گئی اور درمیان والا دروازہ بند کر دیا، جب آپ سے وحی کی شدت دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! جبریل تجھے سلام کہہ رہے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16156) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، صالح بن ربيعة بن هدير: لم يوثقه غير ابن حبان. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 346
حدیث نمبر: 3405
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ". قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ , وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، تَرَى مَا لَا نَرَى.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں“، انہوں نے کہا: «وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ» (جبرائیل کو عائشہ نے سلام کا جواب دیا اور کہا:) آپ تو وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھتے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3405]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام تجھے سلام کہہ رہے ہیں۔“ میں نے جواباً کہا: «وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”ان پر بھی سلامتی، رحمتیں اور برکتیں ہوں۔“ آپ وہ کچھ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16671)، مسند احمد (6/150) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ جبرائیل کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی باتیں سن رہے ہیں حالانکہ ہم نہیں دیکھ رہے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح