🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : حب الرجل بعض نسائه أكثر من بعض
باب: ایک کے مقابلے دوسری بیوی سے زیادہ محبت ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3398
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ الثِّقَةُ الْمَأْمُونُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اجْتَمَعْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ لَهَا: إِنَّ نِسَاءَكَ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، قَالَتْ: فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا، فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ نِسَاءَكَ أَرْسَلْنَنِي , وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُحِبِّينِي؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَحِبِّيهَا". قَالَتْ: فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ , فَأَخْبَرَتْهُنَّ مَا قَالَ: فَقُلْنَ لَهَا: إِنَّكِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا فَارْجِعِي إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ , لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا. وَكَانَتِ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا , فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: أَزْوَاجُكَ أَرْسَلْنَنِي , وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ تَشْتِمُنِي , فَجَعَلْتُ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْظُرُ طَرْفَهُ , هَلْ يَأْذَنُ لِي مِنْ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا، قَالَتْ: فَشَتَمَتْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا، فَاسْتَقْبَلْتُهَا , فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمْ أَرَ امْرَأَةً خَيْرًا , وَلَا أَكْثَرَ صَدَقَةً , وَلَا أَوْصَلَ لِلرَّحِمِ , وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي كُلِّ شَيْءٍ يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ زَيْنَبَ , مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ كَانَتْ فِيهَا تُوشِكُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور انہوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور ان سے کہا: آپ کی بیویاں - اور ایسا کلمہ کہا جس کا مفہوم یہ ہے - ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے مطالبہ کرتی ہیں کہ انصاف سے کام لیجئیے۔ چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں، آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی چادر میں تھے۔ انہوں نے آپ سے کہا: (اللہ کے رسول!) آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ ابوقحافہ کی بیٹی (عائشہ) کے سلسلے میں آپ سے عدل کا مطالبہ کر رہی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟ کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: تو تم بھی ان (عائشہ) سے محبت کرو، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس واپس آ کر انہیں وہ ساری بات بتائی جو آپ نے (فاطمہ سے) کہی، وہ سب بولیں: تم نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا، تم پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ فاطمہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے سلسلے میں آپ کے پاس کبھی نہیں جاؤں گی اور درحقیقت وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھیں ۱؎، اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ اور زینب ہی ایسی تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک) میرے برابر کا درجہ رکھتی تھیں۔ وہ بولیں: (اللہ کے رسول!) آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ وہ سب ابوقحافہ کی بیٹی کے تعلق سے آپ سے عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں اور وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھی اور آپ کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ آیا آپ مجھے بھی ان کا جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ زینب رضی اللہ عنہا ابھی وہیں پر تھیں کہ میں نے اندازہ کر لیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا نہیں لگے گا۔ چنانچہ (جب) میں نے انہیں برا بھلا کہا (تو میں نے انہیں ذرا بھی ٹکنے نہیں دیا) یہاں تک کہ میں ان سے آگے نکل گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا سے فرمایا: یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کبھی بھی دین کے معاملے میں بہتر، اللہ سے ڈرنے والی، سچ بات کہنے والی اور صلہ رحمی کرنے والی، بڑے بڑے صدقات کرنے والی، صدقہ و خیرات اور قرب الٰہی کے کاموں میں خود کو سب سے زیادہ کمتر کرنے والی زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی عورت نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ وہ مزاج کی تیز طرار تھیں لیکن ان کا غصہ بہت جلد رفع ہو جاتا تھا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس (روایت) میں غلطی ہے صحیح وہی ہے جو اس سے پہلے گزری۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3398]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی (دوسری) ازواج مطہرات اکٹھی ہوئیں اور انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں بھیجا اور انہیں کہا: (آپ سے جا کر کہو) آپ کی بیویاں آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے سلسلے میں انصاف کی دہائی دیتی ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی چادر میں لیٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے سلسلے میں انصاف کی دہائی دیتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: کیا تجھے مجھ سے محبت ہے؟ وہ کہنے لگیں: ضرور۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اس (عائشہ) سے محبت رکھ۔ وہ ان کے پاس واپس چلی گئیں اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب سنا دیا۔ وہ کہنے لگیں: تم نے کچھ نہیں کیا، دوبارہ جاؤ۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسئلے میں کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوبارہ نہیں جاؤں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح بیٹی تھیں، پھر انہوں نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو بھیجا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے یہی وہ زوجہ مطہرہ تھیں جو میرے برابر درجہ رکھتی تھیں۔ وہ آکر کہنے لگیں: آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کی بابت انصاف کی طلب گار ہیں، پھر وہ میری طرف متوجہ ہوکر مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا انتظار کرنے لگی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کی طرف دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بدلہ لینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ وہ مجھے برا بھلا کہتی رہیں حتیٰ کہ مجھے اندازہ ہوگیا کہ اب اگر میں ان سے بدلہ لوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرمائیں گے، پھر میں ان کی طرف متوجہ ہوکر انہیں جواب دینے لگی۔ تھوڑی دیر میں میں نے انہیں چپ کرا دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (چپ دیکھ کر) فرمایا: یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے کوئی عورت حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر نیک، زیادہ صدقے کرنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، ہر اس کام میں اپنے آپ کو کھپا دینے والی جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جاسکے، نہیں دیکھی مگر ان میں کچھ تیزی و ترشی تھی جو جلد ہی ختم ہوجایا کرتی تھی۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت خطا ہے اور صحیح روایت پہلی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب عشرة النساء/حدیث: 3398]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16674)، مسند احمد (6/150) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی خلاف ورزی کرتیں جب کی آپ نے ان سے فرمایا تھا تو بھی عائشہ رضی الله عنہا سے محبت کر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3398 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3398
اردو حاشہ:
وضاحت: مطلب یہ ہے کہ معمر کا عن زہری عن عروہ کی سند سے بیان کرنا درست نہیں بلکہ صالح اور شعیب کی روایت صحیح ہے کہ یہ روایت عن زہری عن محمد بن عبدالرحمن عن عائشہ کی سند سے ہے۔ فوائد ومسائل:
(1) حضرت فاطمہؓ کا حضرت عائشہؓ کو ابوقحافہ کی بیٹی کہنا دراصل ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن کی طرف سے ہوبہو پیغام رسانی تھی‘ ورنہ وہ حضرت عائشہؓ کی شان میں سوء ادب کی مرتکب نہ ہوسکتی تھیں کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تو ان کے لیے والدہ کے قائم مقام تھیں۔ باقی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن ان کے برابر کی تھیں‘ وہ انہیں کہہ سکتی تھیں۔
(2) آپ کی آنکھ کی طرف اس انتظار میں کہ آپ آنکھ سے اشارہ فرمائیں گے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آنکھ سے خفیہ اشارہ نہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ دوسرے فریق کے حق میں دھوکے کے ذیل میں آتا ہے۔ اور آپ اس سے پاک تھے… صلی اللہ علیہ وسلم …
(3) صحیح بیٹی تھیں یہ ایک محاورہ ہے۔ یعنی آپ سے محبت کرنے والی‘ آپ کا انتہائی ادب واحترام کرنے والی اور آپ جیسے اخلاق وعادات رکھنے والی۔ رَضِي اللّٰہُ عَنْها وَأَرْضَاهن۔ (باقی تفصیلات پیچھے حدیث: 3396 میں گزر چکی ہیں۔)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3398]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3398 in Urdu