سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْمُصَرَّاةِ
باب: «مصراۃ» (تھن باندھے جانور) کی بیع منع ہے «مصراۃ» : اس اونٹنی یا بکری کو کہتے ہیں: جس کے تھن کو باندھ دیا جاتا ہے اور دو تین دن اسے دوہنا ترک کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا دودھ اکٹھا ہوتا رہتا ہے، خریدنے والا اس کا دودھ زیادہ دیکھ کر اس کی قیمت بڑھا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 4492
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ , وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ , مَنِ ابْتَاعَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ , فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا , وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعُ تَمْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے جا کر تجارتی قافلے سے مت ملو ۱؎ اور اونٹنیوں اور بکریوں کو ان کے تھنوں میں دودھ روک کر نہ رکھو ۲؎، اگر کسی نے ایسا جانور خرید لیا تو اسے اختیار ہے چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو اسے لوٹا دے اور (لوٹاتے وقت) اس کے ساتھ ایک صاع کھجور دیدے“ ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4492]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلے والے قافلوں کو (منڈی سے باہر جا کر) خرید و فروخت کے لیے نہ ملو اور اونٹنی یا بکری کا دودھ نہ روکو۔ جو شخص ایسا جانور خرید لے تو اسے (دودھ دوہنے کے بعد) دو چیزوں میں سے بہتر کا اختیار ہے۔ اگر چاہے تو جانور رکھ لے اور اگر واپس کرنا چاہے تو واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجوروں کا ایک صاع بھی دے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13722) مسند احمد (2/242، 243) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ باہر سے آنے والے تاجر کو بازار کی قیمت کا صحیح علم نہیں ہے اس لیے بازار میں پہنچنے سے پہلے اس سے سامان خریدنے میں تاجر کو دھوکہ ہو سکتا ہے، اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کے بازار میں پہنچنے سے پہلے ان سے مل کر ان کا سامان خریدنے سے منع فرما دیا ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تاجر کو اختیار حاصل ہو گا بیع کے نفاذ اور عدم نفاذ کے سلسلہ میں۔ ۲؎: تھن میں دو یا تین دن تک دودھ چھوڑے رکھنے اور نہ دوہنے کو «تصریہ» کہتے ہیں تاکہ اونٹنی یا بکری دودھاری سمجھی جائے اور جلد اور اچھے پیسوں میں بک جائے۔ ۳؎: تاکہ وہ اس دودھ کا بدل بن سکے جو خریددار نے دوہ لیا ہے، نیز واضح رہے کہ کسی ثابت شدہ حدیث کی تردید یہ کہہ کر نہیں کی جا سکتی کہ کسی مخالف اصل سے اس کا ٹکراؤ ہے یا اس میں مثلیت نہیں پائی جا رہی ہے اس لیے عقل اسے تسلیم نہیں کرتی، بلکہ شریعت سے جو چیز ثابت ہو وہی اصل ہے اور اس پر عمل واجب ہے، اسی طرح حدیث مصراۃ ان احادیث میں سے ہے جو صحیح اور ثابت شدہ ہیں لہٰذا کسی قیل و قال کے بغیر اس پر عمل واجب ہے۔ کسی قیاس سے اس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4493
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ ابْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَإِنْ رَضِيَهَا إِذَا حَلَبَهَا فَلْيُمْسِكْهَا , وَإِنْ كَرِهَهَا فَلْيَرُدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی ایسا جانور خریدا جس کا دودھ اس کے تھن میں روک رکھا گیا ہو تو جب اسے دو ہے اور اس پر راضی ہو جائے تو چاہیئے کہ اسے روک لے اور اگر اسے وہ ناپسند ہو تو اسے لوٹا دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دیدے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4493]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایسا جانور خریدا جس کا دودھ روکا گیا تھا تو (اس دھوکے کا پتا چل جانے پر) وہ (خریدار) چاہے تو اسے رکھ لے، چاہے واپس کر دے (لیکن واپسی کی صورت میں) اس کے ساتھ کھجوروں کا ایک صاع بھی دینا ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 65 (2148 تعلیقًا)، صحیح مسلم/البیوع 4 (1524)، (تحفة الأشراف: 14629)، مسند احمد (2/463) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4494
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ مُحَمَّدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتَاعَ مُحَفَّلَةً أَوْ مُصَرَّاةً , فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ , إِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا أَمْسَكَهَا , وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی «محفلہ» یا «مصراۃ» (دودھ تھن میں روکے ہوئے جانور کو) خریدا تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر وہ اسے روکے رکھنا چاہے تو روک لے اور اگر لوٹانا چاہے تو اسے لوٹا دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے، گیہوں کا دینا ضروری نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4494]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایسا جانور خریدا جس کا دودھ تھنوں میں جمع کیا گیا تھا، اسے تین دن تک اختیار رہتا ہے، چاہے تو رکھ لے، چاہے واپس کر دے اور ساتھ کھجوروں کا ایک صاع دے دے۔ گندم کا نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 4 (1524)، (تحفة الأشراف: 14435)، مسند احمد (2/284) (صحیح) (’’ثلاثة أيام‘‘ تین دن کی تحدید ثابت نہیں ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے: سنن ابن ماجہ 2239، وسنن ابی داود 3444 (اس میں تصحیح کر لیں) وتراجع الالبانی 337)»
قال الشيخ الألباني: صحيح م خ نحوه دون ثلاثة أيام
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح