🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ: الْقَسَامَةِ
باب: قسامہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4711
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
ایک انصاری صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامہ کو اسی حالت پر باقی رکھا جس پر وہ جاہلیت میں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4711]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامت کو برقرار رکھا ہے جیسے کہ وہ جاہلیت میں رائج تھی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 1 (الحدود 1) (1670)، (تحفة الأشراف: 15587، 18747)، مسند احمد (4/62، و5/375، 432، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4712، 4713) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4712
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَضَى بِهَا بَيْنَ أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى يَهُودِ خَيْبَرَ". خَالَفَهُمَا مَعْمَرٌ.
کچھ صحابہ سے روایت ہے کہ قسامہ جاہلیت میں جاری تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی حالت پر باقی رکھا جس پر وہ جاہلیت میں تھا، اور انصار کے کچھ لوگوں کے درمیان ایک مقتول کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ کیا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اس کا خون خیبر کے یہودیوں پر ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) معمر نے ان دونوں (یونس اور اوزاعی) کے برخلاف یہ حدیث (مرسلاً) روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4712]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ قسامت جاہلیت میں رائج تھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی طرح برقرار رکھا جس طرح یہ جاہلیت میں تھی اور آپ نے ایک مقتول کے بارے میں قسامت کا فیصلہ بھی کیا تھا جس کے قتل کا الزام انصار نے خیبر کے یہودیوں پر لگایا تھا۔ معمر نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4713
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ:" كَانَتِ الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي وُجِدَ مَقْتُولًا فِي جُبِّ الْيَهُودِ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: الْيَهُودُ قَتَلُوا صَاحِبَنَا".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ قسامہ جاہلیت میں رائج تھا، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری کے سلسلے میں باقی رکھا جو یہودیوں کے کنویں میں مرا ہوا پایا گیا تو انصار نے کہا: ہمارے آدمیوں کا قتل یہودیوں نے کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4713]
حضرت ابن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قسامت جاہلیت میں تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک انصاری کے بارے میں برقرار رکھا جو یہودیوں کے ایک کنویں میں مقتول پائے گئے تھے۔ انصار نے دعویٰ کر دیا تھا کہ یہودیوں نے ہمارے آدمی کو قتل کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4711 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، لیکن پچھلی سند سے تقویت پاکر مرفوع متصل ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں