سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ: تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُعَاهِدِ
باب: ذمی (معاہد) کو قتل کرنے کی شناعت و وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4751
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی ذمی کو بلا وجہ قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت حرام کر دی ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4751]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی ذمی کو ناحق قتل کرے، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام فرما دی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4751]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 165 (2760)، (تحفة الأشراف: 11694)، مسند احمد (5/36، 38) سنن الدارمی/السیر 61 (2546) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے «دخول اولیں» نصیب نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4752
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهِدَةً بِغَيْرِ حِلِّهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَشُمَّ رِيحَهَا".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی ذمی کی جان لی جب کہ اس کا خون جائز نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کی خوشبو حرام کر دی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4752]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی ذمی کو ناحق قتل کیا، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت تو ایک طرف اس کی خوشبو سونگھنا تک حرام کر دیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4753
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا".
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اہل ذمہ میں سے کسی کا قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت کی دوری سے آتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4753]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی ذمی کو قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کے فاصلے سے آتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15659)، مسند احمد (4/237، 5/369) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4754
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ , وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اہل ذمہ میں سے کسی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے آتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4754]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی ذمی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پا سکے گا جبکہ اس کی خوشبو تو چالیس سال کے فاصلے سے محسوس ہوتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8616)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجزیة 5 (3166)، الدیات 20 (6914)، سنن ابن ماجہ/الدیات 32 (2686)، مسند احمد (2/186) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح