🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : تعظيم قتل المعاهد
باب: ذمی (معاہد) کو قتل کرنے کی شناعت و وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4753
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا".
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل ذمہ میں سے کسی کا قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت کی دوری سے آتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15659)، مسند احمد (4/237، 5/369) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥القاسم بن مخيمرة الهمداني، أبو عروة
Newالقاسم بن مخيمرة الهمداني ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥هلال بن يساف الأشجعي، أبو الحسن
Newهلال بن يساف الأشجعي ← القاسم بن مخيمرة الهمداني
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← هلال بن يساف الأشجعي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← النضر بن شميل المازني
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4753 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4753
اردو حاشہ:
اس کی خوشبو ستر سال کے فاصلے سے آتی ہے جنت کی خوشبو محسوس ہونے کی مسافت او فاصلے کی بابت شدید اختلاف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مفہوم کی احادیث کئی ایک ہیں۔ کسی حدیث میں ستر سال کا ذکر ہے تو کسی میں چالیس سال کا۔ مزید برآں یہ کہ کچھ احادیث میں سو سال کا ذکر ہے، کچھ میں پانچ سو سال کا اور بعض میں ہزار سال کا بھی ذکر ہے۔ اس اختلافِ مسافت کی بابت اہل علم محدثین کرام رحمہم اللہ نے مختلف توجیہات بیان فرمائی ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک ان احادیث کے مابین جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ موقف (جس جگہ روز قیامت لوگ کھڑے ہوں گے) سے کم از کم فاصلہ جہاں جنت کی خوشبو آ سکتی ہے وہ چالیس سال کی مدت کا ہے۔ اس سے زیادہ ستر سال کا فاصلہ ہے۔ یا پھر یہ عدد مبالغے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ اسی طرح پانچ سو برس، پھر ان میں سب سے زیادہ فاصلہ جہاں سے جنت کی خوشبو آ سکتی ہے، ہزار سال کا ہے۔ حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان مختلف روایات میں تطبیق اس طرح ہوگی کہ یہ مختلف لوگوں کے باہمی تفاوت درجات کے اعتبار سے ہے۔ جن کے درجات بلند ہوں گے انھیں زیادہ مسافت سے بھی جنت کی خوشبو آئے گی اور جو درجات ومنازل کے لحاظ سے کم ہوں گے انھیں کم اور تھوڑے فاصلے سے جنت کی خوشبو آئے گی۔ ابن العربی کا کہنا ہے کہ جنت کی خوشبو اپنی طبیعت و عادت کی بنیاد پر نہیں پائی جا سکتی بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے بندے کے اندر اس کے ادراک کی صلاحیت پیدا فرما دے گا، جس کی بنا پر مسافت سے جنت کی خوشبو آئے گی، کبھی ستر سال کی مسافت سے خوشبو آئے گی تو کبھی پانچ سو سال کی مسافت سے۔ واللہ أعلم! تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي للأتبوبي: 36/ 50، 51)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4753]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4753 in Urdu