سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: الْقَطْعِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4982
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَبِي أَرْطَاةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي السَّفَرِ".
بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سفر میں (چور کے) ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 18 (4408)، سنن الترمذی/الحدود 20 (1450)، (تحفة الأشراف: 2015)، مسند احمد (4/181) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ترمذی اور مسند احمد میں «السفر» کی جگہ «الغزو» (یعنی: «غزوہ» ) ہے، لہٰذا اس حدیث میں بھی «سفر» سے مراد «غزو» ہو گا، اور «غزو» مراد لینے کی وجہ سے اس میں اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت «أقیموا الحدود فی السفر والحضر» میں کوئی تعارض باقی نہیں رہے گا۔ یعنی ”عبادہ رضی اللہ عنہ میں وارد لفظ «سفر» سے عام سفر مراد ہے“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4983
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ فَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو چاہے اس کی قیمت آدھا درہم ہی کیوں نہ ہو“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عمر بن ابی سلمہ حدیث میں قوی نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 22 (4412)، سنن ابن ماجہ/الحدود 25 (2589)، تحفة الأشراف: 14979)، مسند احمد (2/336، 337، 356، 387) (ضعیف) (اس کے راوی ”عمر بن ابی سلمہ“ حافظہ کے کمزور ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث نہ تو صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی ظاہری مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن