🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

61. بَابُ: فَرْقِ الشَّعْرِ
باب: بالوں میں مانگ نکالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5240
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدُلُ شَعْرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ شُعُورَهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ، ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بال چھوڑ دیتے تھے اور کفار و مشرکین بالوں میں مانگ نکالتے تھے، آپ ایسے معاملات میں جن میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب (یہود و نصاری) کی موافقت پسند فرماتے تھے، پھر اس کے بعد آپ نے بھی مانگ نکالی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5240]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے بال لٹکائے رکھتے (بالوں میں مانگ نہیں نکالا کرتے تھے) جبکہ مشرکین اپنے سر کے بالوں کی مانگ نکالتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب تک کسی بات کے متعلق (بذریعہ وحی) کوئی حکم نہ آتا تو آپ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی (سر میں) مانگ نکالنے لگے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 23 (3558)، مناقب الٔلنصار 52 (3944)، اللباس 70 (5917)، صحیح مسلم/الفضائل 24 (2336)، سنن ابی داود/الترجل 10 (4188)، سنن الترمذی/الشمائل3 (29)، سنن ابن ماجہ/اللباس 36 (3632)، (تحفة الأشراف: 5836)، مسند احمد (1/24646، 261، 287، 320) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں