سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْفَقْرِ
باب: فقر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5466
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عِيَاضٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَنْ تَظْلِمَ، أَوْ تُظْلَمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو فقر سے، قلت اور ذلت سے اور ظلم کرنے اور کیے جانے سے“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5466]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَنْ تَظْلِمُوا، أَوْ تُظْلَمُوا» ”تم فقر، قلت، ذلت اور ظالم یا مظلوم بننے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5463 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5467
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي الشَّحَّامَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ سَمِعَ وَالِدَهُ يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ" , فَجَعَلْتُ أَدْعُو بِهِنَّ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ , أَنَّى عُلِّمْتَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، قُلْتُ: يَا أَبَتِ , سَمِعْتُكَ تَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْكَ، قَالَ: فَالْزَمْهُنَّ يَا بُنَيَّ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ.
مسلم بن ابی بکرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نماز کے بعد اپنے والد کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «اللہم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کفر سے، فقر سے، اور عذاب قبر سے“، تو میں بھی وہی دعا کرنے لگا، وہ بولے: اے میرے بیٹے! تم نے (دعا کے) یہ کلمات کہاں سے سیکھے؟ میں نے عرض کیا: ابو جان! میں نے آپ کو نماز کے بعد (یا نماز کے اخیر میں) یہی دعا مانگتے سنا۔ تو میں نے آپ سے ہی یہ لیے ہیں، وہ بولے: میرے بیٹے! اس دعا کو لازم کر لو، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز کے بعد یہ دعا مانگتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5467]
حضرت مسلم بن ابی بکرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کفر، فقر اور عذابِ قبر سے (بچنے کے لیے) تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ میں بھی یہ دعا پڑھنے لگ گیا۔ (ایک دفعہ) انہوں نے مجھ سے کہا: بیٹا! یہ کلمات تو نے کہاں سے سیکھے ہیں؟ میں نے کہا: ابا جان! میں نے آپ کو نماز کے بعد یہ کلمات پڑھتے سنا تو میں نے آپ سے سن کر یاد کر لیے۔ انہوں نے فرمایا: پیارے بیٹے! ان پر پابندی کرنا کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کفر، فقر اور عذابِ قبر سے (بچنے کے لیے) تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1348 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «دبر الصلاۃ» جس کے معنی ”نماز کے بعد“ بھی ہو سکتے ہیں، اور نماز کے اخیر میں بھی ہو سکتے ہیں، دونوں معنوں میں یہ لفظ وارد ہوا ہے، لیکن بقول شیخ الاسلام ابن تیمیہ سلام سے پہلے دعا کی قبولیت زیادہ متوقع ہے، بمقابلہ سلام کے بعد کے، کیونکہ سلام سے پہلے بندہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن