سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ: تَحْرِيمِ كُلِّ شَرَابٍ أَسْكَرَ كَثِيرُهُ
باب: جس مشروب کو زیادہ پینے سے نشہ آ جائے اس کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5610
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ , فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کے زیادہ پینے سے نشہ آ جائے تو اسے تھوڑا سا پینا بھی حرام ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5610]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مشروب کا زیادہ پینا نشہ آور ہو، اس کا تھوڑا پینا بھی حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الٔجشربة 10 (3394)، (تحفة الأشراف: 8760)، مسند احمد (2/167، 179) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5611
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَنْهَاكُمْ عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اس چیز کو تھوڑا سا پینے سے روکتا ہوں، جس کے زیادہ پی لینے سے نشہ آ جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5611]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمھیں وہ چیز معمولی سی پینے سے بھی روکتا ہوں جسے زیادہ پینے سے نشہ آتا ہے (اور کم پینے سے نشہ نہیں ہوتا)۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 3871) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5612
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو تھوڑا سا پینے سے روکا جسے زیادہ پینے سے نشہ آ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5612]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس چیز کو تھوڑا پینے سے منع کیا ہے جسے زیادہ پینا نشہ آور ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5613
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنَ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ لَهُ فِي دُبَّاءٍ، فَجِئْتُهُ بِهِ، فَقَالَ:" أَدْنِهِ"، فَأَدْنَيْتُهُ مِنْهُ، فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ:" اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى تَحْرِيمِ السَّكَرِ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ وَلَيْسَ كَمَا، يَقُولُ: الْمُخَادِعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ بِتَحْرِيمِهِمْ آخِرِ الشَّرْبَةِ، وَتَحْلِيلِهِمْ مَا تَقَدَّمَهَا الَّذِي يُشْرَبُ فِي الْفَرَقِ قَبْلَهَا، وَلَا خِلَافَ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ السُّكْرَ بِكُلِّيَّتِهِ لَا يَحْدُثُ عَلَى الشَّرْبَةِ الْآخِرَةِ دُونَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ بَعْدَهَا، وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ رہے ہیں، تو ایک دن میں نے نبیذ لے کر آپ کے افطار کرنے کے وقت کا انتظار کیا جسے میں نے آپ کے لیے کدو کی تونبی میں تیار کی تھی، میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”میرے پاس لاؤ“، میں نے اسے آپ کے پاس بڑھا دی، وہ جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس دیوار سے مار دو، اس لیے کہ یہ ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس میں دلیل ہے کہ نشہ لانے والی چیز حرام ہے، خواہ وہ زیادہ ہو یا کم، اور معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ حیلہ کرنے والے اپنے لیے کہتے ہیں کہ ایسے مشروب کا آخری گھونٹ حرام ہوتا ہے اور وہ گھونٹ حلال ہوتے ہیں جو پہلے پیے جا چکے ہیں اور اس سے پہلے رگوں میں سرایت کر چکے ہیں، اس بات میں علماء کے درمیان اختلاف نہیں پایا جاتا کہ پورا نشہ ابتدائی گھونٹوں کے علاوہ صرف آخری گھونٹ سے پیدا نہیں ہوتا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5613]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے علم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو میں نے آپ کی افطاری کے لیے کدو کے برتن میں نبیذ تیار کر کے ایک طرف رکھ چھوڑی۔ پھر افطاری کے وقت میں وہ نبیذ لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میرے) قریب کرو۔“ میں نے وہ آپ کے قریب کی تو وہ جوش مار رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس دیوار پر دے مارو۔ اس قسم کی نبیذ تو وہ لوگ پیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کو نہیں مانتے۔“ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: اس حدیث میں دلیل ہے کہ نشہ آور چیز قلیل بھی حرام ہے کثیر بھی، نہ کہ جیسے اپنے آپ کو دھوکا دینے والے لوگ کہتے ہیں کہ آخری گھونٹ جس سے نشہ آیا، حرام ہے، پہلے گھونٹ حلال ہیں، خواہ وہ ایک فرق پی لے، حالانکہ اہل علم اس باب پر متفق ہیں کہ نشہ صرف آخری گھونٹ سے ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ پہلے گھونٹ بھی نشے والے ہی ہیں، اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الٔيشربة 12 (3716)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 15 (3409)، (تحفة الأشراف: 12297)، ویأتي عند المؤلف: 5707) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ کہنا کہ نشہ کا اثر صرف اخیر گھونٹ سے ہوتا ہے یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس اثر میں تو اس سے پہلے کے گھونٹ کا بھی دخل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح