صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ وَالْمُحْرِمَةِ:
باب: احرام والے مرد اور عورت کو خوشبو لگانا منع ہے۔
حدیث نمبر: Q1838
وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَا تَلْبَسْ الْمُحْرِمَةُ ثَوْبًا بِوَرْسٍ أَوْ زَعْفَرَانٍ.
اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ محرم عورت ورس یا زعفران میں رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: Q1838]
حدیث نمبر: 1838
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ، وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ، وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ"، تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، وَجُوَيْرِيَةُ، وَابْنُ إِسْحَاقَ فِي النِّقَابِ وَالْقُفَّازَيْنِ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَلَا وَرْسٌ، وَكَانَ يَقُولُ: لَا تَتَنَقَّبْ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ، وَقَالَ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: لَا تَتَنَقَّبْ الْمُحْرِمَةُ، وَتَابَعَهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ.
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ! حالت احرام میں ہمیں کون سے کپڑے پہننے کی اجازت دیتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قمیص پہنو نہ پاجامے، نہ عمامے اور نہ برنس۔ اگر کسی کے جوتے نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر پہن لے۔ اسی طرح کوئی ایسا لباس نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہو۔ احرام کی حالت میں عورتیں منہ پر نقاب نہ ڈالیں اور دستانے بھی نہ پہنیں۔ لیث کے ساتھ اس روایت کی متابعت موسیٰ بن عقبہ اور اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اور جویریہ اور ابن اسحاق نے نقاب اور دستانوں کے ذکر کے سلسلے میں کی ہے۔ عبیداللہ رحمہ اللہ نے «ولا ورس» کا لفظ بیان کیا وہ کہتے تھے کہ احرام کی حالت میں عورت منہ پر نہ نقاب ڈالے اور نہ دستانے استعمال کرے اور امام مالک نے نافع سے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ احرام کی حالت میں عورت نقاب نہ ڈالے اور لیث بن ابی سلیم نے مالک کی طرح روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1838]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرد نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حالت احرام میں آپ کون سا کپڑا پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قمیص، شلوار، پگڑی اور ٹوپی والا لمبا کوٹ نہیں پہن سکتے (اور نہ پاؤں میں موزے پہنو) ہاں! اگر کسی کے پاس پہننے کے لیے چپل جوتا نہ ہو تو وہ مجبوراً پاؤں کی حفاظت کے لیے موزے پہن لے لیکن انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر جوتا سا بنا لے، نیز حالت احرام میں ایسا کوئی کپڑا نہ پہنو جسے زعفران یا ورس لگی ہو۔ اور محرم عورت نقاب اور دستانے بھی نہ پہنے۔“ نقاب اور دستانوں کے متعلق نافع سے روایت کرنے میں لیث کی، موسیٰ بن عقبہ، اسماعیل بن ابراہیم، جویریہ اور ابن اسحاق نے متابعت کی ہے۔ اور عبیداللہ نے «لَا وَرْسَ» ”اور نہ ورس (لگی ہو)“ کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ عورت بحالت احرام نقاب اور دستانے نہ پہنے۔ امام مالک نے بواسطہ نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ محرم عورت نقاب نہ پہنے۔ امام مالک کی لیث بن ابو سلیم نے متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1838]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1839
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے حکم نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک محرم شخص کے اونٹ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اس کی گردن (گرا کر) توڑ دی اور اسے جان سے مار دیا، اس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ انہیں غسل اور کفن دے دو لیکن ان کا سر نہ ڈھکو اور نہ خوشبو لگاؤ کیونکہ (قیامت میں) یہ لبیک کہتے ہوئے اٹھے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1839]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک محرم شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا جس کی گردن اس کی اونٹنی نے توڑ دی تھی اور اسے مار ڈالا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غسل دو، کفن پہناؤ لیکن اس کا سر نہ ڈھانپو اور نہ خوشبو ہی اس کے قریب لے جاؤ کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب جَزَاءِ الصَّيْدِ/حدیث: 1839]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة