سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
ٹیک لگا کر کھانا کیسا ہے؟
ترقیم الباني: 544 ترقیم فقہی: -- 2588
-" آكل كما يأكل العبد وأجلس كما يجلس العبد".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، ٹیک لگا کر کھا لیا کریں، کیونکہ اس میں آپ کے لیے زیادہ آسانی ہے۔ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اس قدر جھکایا کہ قریب تھا کہ آپ کی پیشانی زمین کو چھونے لگتی اور فرمایا: ”میں تو بندے کی طرح کھاؤں گا اور بندے کی طرح ہی بیٹھوں گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2588]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 544
ترقیم الباني: 2104 ترقیم فقہی: -- 2589
-" ما رئي رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل متكئا قط، ولا يطأ عقبه رجلان".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے دیکھا گیا اور (نہ یہ دیکھا گیا کہ) دو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہے ہوں (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آگے ہوں)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2589]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2104
ترقیم الباني: 3122 ترقیم فقہی: -- 2590
- (لا تأكل متَّكِئاً، ولا على غِرْبَالٍ، ولا تتخِذَنَّ مِنَ المسجدِ مُصلىً لا تصلِّي إلا فيهِ، ولا تَخَطَّ رِقابَ الناسِ يومَ الجُمُعَةِ؛ فيجعلَكَ الله لُهمْ جسراً يوم القيامة) .
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹیک لگا کر نہ کھانا، چھانے ہوئے آنے کی روٹی نہ کھانا، مسجد میں کوئی جگہ مقرر نہیں کرنا کہ اسی میں ہی نماز پڑھی جائے اور جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگنا، وگرنہ اللہ تعالیٰ روز قیامت تجھے لوگوں کے لیے پل بنا دے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2590]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3122