سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
علامات قیامت
ترقیم الباني: 3415 ترقیم فقہی: -- 3595
- (ها هنا أَحدٌ من بني فُلانٍ؟ إن صاحبَكم محبُوسٌ ببابِ الجنّةِ بدَينٍ عليه) - (بينَ يدَيِ السّاعةِ يظهرُ الرِّبا، والزِّنى، والخمرُ) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے سود، زنا اور شراب عام ہو جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3595]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3415
ترقیم الباني: 810 ترقیم فقہی: -- 3596
-" تكون بين يدي الساعة فتن كقطع الليل المظلم يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا، يبيع أقوام دينهم بعرض الدنيا".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے نمودار ہوں گے، آدمی بوقت صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر اور بوقت شام مومن ہو گا اور صبح کو کافر، لوگ اپنے دین کو دنیوی سازو سامان کے عوض فروخت کر دیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3596]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 810
ترقیم الباني: 1883 ترقیم فقہی: -- 3597
-" ست من أشراط الساعة: موتى وفتح بيت المقدس وموت يأخذ في الناس كقعاص الغنم وفتنة يدخل حرها بيت كل مسلم وأن يعطى الرجل ألف دينار فيتسخطها وأن تغدر الروم فيسيرون في ثمانين بندا تحت كل بند اثنا عشر ألفا".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علامات قیامت چھ ہیں: میرا فوت ہونا، بیت المقدس کا فتح ہونا، بکری کے سینے کی بیماری کی طرح موت کا لوگوں کو ڈبوچنا، ہر مسلمان کے گھر کو متاثر کرنے والے فتنے کا ابھرنا، آدمی کا ہزار دینار کو خاطر میں نہ لانا (یعنی کم سجھنا) اور روم کا غداری کرنا، وہ اسی جھنڈوں کے نیچے چلیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3597]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1883
ترقیم الباني: 2771 ترقیم فقہی: -- 3598
-" * (علمها عند ربي لا يجليها لوقتها إلا هو) * ولكن أخبركم بمشاريطها، وما يكون بين يديها: إن بين يديها فتنة وهرجا. قالوا: يا رسول الله! الفتنة قد عرفناها فالهرج ما هو؟ قال: بلسان الحبشة: القتل، ويلقى بين الناس التناكر فلا يكاد أحد أن يعرف أحدا".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ نے جواباً یہ آیت پڑھی: ”اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوائے اللہ کے کوئی اور ظاہر نہ کرے گا۔“ (سورۂ اعراف: ۱۸۷) پھر فرمایا: ”البتہ میں تمہارے لیے اس کی علامتوں اور اس سے پہلے امور کی نشاندہی کر دیتا ہوں۔ اس سے پہلے فتنہ اور ہرج ہو گا۔“ صحابہ نے کہا: ہمیں فتنے کے مفہوم کا تو علم ہے، ہرج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حبشی زبان کا لفظ ہے، اس کے معنی ”قتل“ کے ہیں، اور (قیامت سے پہلے) لوگوں میں اجنبیت پائی جائے گی، کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3598]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2771