🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

علامات قیامت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1682 ترقیم فقہی: -- 3585
-" إن بين يدي الساعة الهرج، قالوا: وما الهرج؟ قال: القتل، إنه ليس بقتلكم المشركين، ولكن قتل بعضكم بعضا (حتى يقتل الرجل جاره ويقتل أخاه ويقتل عمه ويقتل ابن عمه) قالوا: ومعنا عقولنا يومئذ؟ قال: إنه لتنزع عقول أهل ذلك الزمان، ويخلف له هباء من الناس، يحسب أكثرهم أنهم على شيء وليسوا على شيء".
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے «هرج» ہو گا۔ کسی نے پوچھا: «هرج» کا کیا معنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا معنی قتل ہے، (‏‏‏‏ذہن نشین کر لو کہ) اس سے مراد تمہارا مشرکوں کو قتل کرنا نہیں ہے، بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا ہے، (‏‏‏‏اور بات یہاں تک جا پہنچے گی کہ) آدمی اپنے پڑوسی کو، بھائی کو، چچا کو اور چچا زاد کو قتل کر ڈالے گا۔ صحابہ نے کہا: کیا اس وقت ہم میں عقل باقی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ا‏‏‏‏س زمانے والوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی وہ بیوقوف ہوں گے، ان کی اکثریت اپنے آپ کو بزعم خود کسی حقیقت پر خیال کرے گی، لیکن وہ کسی حقیقت پر نہیں ہوں گے۔ ‏‏‏‏ ابوموسیٰ نے کہا اس ذ ات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ایسے ایام ہم کو پا لیں تو ان سے راہ فرار کا ایک ہی طریقہ ہو گا کہ جیسے ہم داخل ہوئے ایسے ہی وہاں سے نکل آئیں، نہ کسی کا خون بہائیں اور نہ کسی کا مال چھینیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3585]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1682

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2821 ترقیم فقہی: -- 3586
-" من اقتراب (وفي رواية: أشراط) الساعة أن ترفع الأشرار وتوضع الأخيار ويفتح القول ويخزن العمل ويقرأ بالقوم المثناة، ليس فيهم أحد ينكرها. قيل: وما المثناة؟ قال: ما استكتب (¬1) سوى كتاب الله عز وجل".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‏‏‏‏قیامت کے قریب ہونے کی علامت یہ ہے کہ بدترین لوگوں کو اعلیٰ مناصب دیئے جائیں گے، شریف لوگوں کو ذلیل سمجھا جائے گا، لوگ بڑی بڑی باتیں (‏‏‏‏یعنی بڑکیں) ماریں گے، عمل محدود ہو جائے گا اور لوگوں میں «مثناة» ‏‏‏‏ عام ہو گی، کوئی بھی اس کا انکار نہیں کر سکے گا۔ کہا گیا کہ «مثناة» سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ‏‏‏‏جو چیز قرآنی (‏‏‏‏علوم) کے علاوہ لکھی جائے۔ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3586]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2821

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1887 ترقیم فقہی: -- 3587
-" سيأتي على الناس سنوات خداعات يصدق فيها الكاذب ويكذب فيها الصادق ويؤتمن فيها الخائن ويخون فيها الأمين وينطق فيها الرويبضة. قيل: وما الرويبضة؟ قال: الرجل التافه يتكلم في أمر العامة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر عنقریب فریبی و مکاری والا زمانہ آئے گا، اس میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور خائن کو امین اور امانتدار کو خائن قرار دیا جائے گا اور «رويبضه» قسم کے لوگ (‏‏‏‏ ‏‏‏‏عوام الناس کے امور سے متعلقہ) گفتگو کریں گے۔ پوچھا گیا کہ «رويبضه» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معمولی اور کم عقل لوگ جو عوام الناس کے امور پر بحث و مباحثہ کریں گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3587]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1887

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 648 ترقیم فقہی: -- 3588
-" إن من أشراط الساعة إذا كانت التحية على المعرفة. وفي رواية: أن يسلم الرجل على الرجل لا يسلم عليه إلا للمعرفة".
اسود بن یزید کہتے ہیں: مسجد میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی طرف چل پڑے، لوگ رکوع کی حالت میں تھے، سیدنا عبداللہ نے (‏‏‏‏صف تک پہنچنے سے قبل ہی) رکوع کر لیا اور ہم بھی رکوع کے لیے جھک گئے اور رکوع کی حالت میں چل کر (‏‏‏‏صف میں کھڑے ہو گئے)۔ ایک آدمی سیدنا عبداللہ کے سامنے سے گزرا، اس نے کہا: ابو عبدالرحمٰن! السلام علیکم۔ سیدنا عبداللہ نے رکوع کی حالت میں ہی کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو بعض افراد نے سوال کیا: جب ا‏‏‏‏س آدمی نے آپ پر سلام کہا تو آپ نے یہ کیوں کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؟ انہوں نے جواباََ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ چیز بھی علامات قیامت میں سے ہے کہ سلام معرفت کی بنا پر ہو گا۔ اور ایک روایت میں ہے: ایک آدمی دوسرے کو سلام تو کہے گا، لیکن معرفت کی بنا پر کہے گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3588]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 648

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2767 ترقیم فقہی: -- 3589
-" إن من أشراط الساعة أن يفيض المال ويكثر الجهل وتظهر الفتن وتفشو التجارة [ويظهر العلم] ".
سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چیز علامات قیامت میں سے ہے کہ مال پھیل جائے گا، جہالت عام ہو جائے گی، فتنے ابھر پڑیں گے، تجارت عام ہو جائے گی اور علم (‏‏‏‏یعنی پڑھائی لکھائی) عام ہو گی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3589]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2767

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 695 ترقیم فقہی: -- 3590
-" إن من أشراط الساعة أن يلتمس العلم عند الأصاغر".
سیدنا ابوامیہ جمحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‏‏‏‏یہ چیز علامات قیامت میں سے ہے کہ حقیر و ذلیل لوگوں کے پاس علم تلاش کیا جائے گا۔ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3590]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 695

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 649 ترقیم فقہی: -- 3591
-" إن من أشراط الساعة أن يمر الرجل في المسجد لا يصلي فيه ركعتين".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‏‏‏‏یہ چیز بھی علامات قیامت میں سے ہے کہ آدمی دو رکعت نماز پڑھے بغیر مسجد سے گزر جائے گا۔ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3591]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 649

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2238 ترقیم فقہی: -- 3592
-" إن من أشراط الساعة الفحش والتفحش وقطيعة الأرحام وائتمان الخائن - أحسبه قال: وتخوين الأمين".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدزبانی، فحش گوئی، قطع رحمی، خائن کو امین اور امانتدار کو خائن سمجھنا علامات قیامت میں سے ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3592]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2238

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1355 ترقیم فقہی: -- 3593
-" إذا سمعتم بجيش قد خسف به قريبا، فقد أظلت الساعة".
قعقاع بن ابوحدرد اسلمی کی بیوی بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ‏‏‏‏ لوگو! جب تم قریب ہی کسی آدمی کے دھنسنے کے بارے میں سنو تو (‏‏‏‏اس کا مطلب یہ ہو گا کہ گویا) قیامت سایہ فگن ہو چکی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3593]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1355

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1787 ترقیم فقہی: -- 3594
-" بين يدي الساعة مسخ وخسف وقذف".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے قبل (‏‏‏‏لوگوں کی) شکلیں بگڑیں گی، انہیں دھنسایا جائے گا اور ان پر سنگ باری کی جائے گی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3594]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1787

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں