صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ إِذَا اشْتَرَطَ الْبَائِعُ ظَهْرَ الدَّابَّةِ إِلَى مَكَانٍ مُسَمًّى جَازَ:
باب: اگر بیچنے والے نے کسی خاص مقام تک سواری کی شرط لگائی تو یہ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2718
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا، فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَهُ، فَدَعَا لَهُ، فَسَارَ بِسَيْرٍ لَيْسَ يَسِيرُ مِثْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ بِوَقِيَّةٍ؟ قُلْتُ: لَا، ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ بِوَقِيَّةٍ، فَبِعْتُهُ، فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ وَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَأَرْسَلَ عَلَى إِثْرِي، قَالَ: مَا كُنْتُ لِآخُذَ جَمَلَكَ، فَخُذْ جَمَلَكَ ذَلِكَ فَهُوَ مَالُكَ". قَالَ شُعْبَةُ: عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَفْقَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ إِسْحَاقُ: عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، فَبِعْتُهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ. وَقَالَ عَطَاءٌ، وَغَيْرُهُ: لَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: عَنْ جَابِرٍ، شَرَطَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: عَنْ جَابِرٍ، وَلَكَ ظَهْرُهُ حَتَّى تَرْجِعَ. وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْ جَابِرٍ، أَفْقَرْنَاكَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ. وَقَالَ الْأَعْمَشُ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، تَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ. وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ، وَابْنُ إِسْحَاقَ: عَنْ وَهْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، اشْتَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقِيَّةٍ. وَتَابَعَهُ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرٍ. وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: عَنْ عَطَاءٍ وَغَيْرِهِ عَنْ جَابِرٍ، أَخَذْتُهُ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ، وَهَذَا يَكُونُ وَقِيَّةً عَلَى حِسَابِ الدِّينَارِ بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ، وَلَمْ يُبَيِّنْ الثَّمَنَ مُغِيرَةُ. عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، وَابْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ وَقَالَ الْأَعْمَشُ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَقِيَّةُ ذَهَبٍ. وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ. وَقَالَ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، اشْتَرَاهُ بِطَرِيقِ تَبُوكَ، أَحْسِبُهُ قَالَ بِأَرْبَعِ أَوَاقٍ.وَقَالَ أَبُو نَضْرَةَ: عَنْ جَابِرٍ اشْتَرَاهُ بِعِشْرِينَ دِينَارًا. وَقَوْلُ الشَّعْبِيِّ: بِوَقِيَّةٍ أَكْثَرُ الِاشْتِرَاطُ أَكْثَرُ وَأَصَحُّ عِنْدِي. قَالَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عامر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ (ایک غزوہ کے موقع پر) اپنے اونٹ پر سوار آ رہے تھے، اونٹ تھک گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو ایک ضرب لگائی اور اس کے حق میں دعا فرمائی، چنانچہ اونٹ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ کبھی اس طرح نہیں چلا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک اوقیہ میں مجھے بیچ دو۔ میں نے انکار کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا، لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرا لیا۔ پھر جب ہم (مدینہ) پہنچ گئے، تو میں نے اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت بھی ادا کر دی، لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو میرے پیچھے ایک صاحب کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا (میں حاضر ہوا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارا اونٹ کوئی لے تھوڑا ہی رہا تھا، اپنا اونٹ لے جاؤ، یہ تمہارا ہی مال ہے۔ (اور قیمت واپس نہیں لی) شعبہ نے مغیرہ کے واسطے سے بیان کیا، ان سے عامر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تک اونٹ پر مجھے سوار ہونے کی اجازت دی تھی، اسحاق نے جریر سے بیان کیا اور ان سے مغیرہ نے کہ (جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا) پس میں نے اونٹ اس شرط پر بیچ دیا کہ مدینہ پہنچنے تک اس پر میں سوار رہوں گا۔ عطاء وغیرہ نے بیان کیا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) اس پر مدینہ تک کی سواری تمہاری ہے۔ محمد بن منکدر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے مدینہ تک سواری کی شرط لگائی تھی۔ زید بن اسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) مدینہ تک اس پر تم ہی رہو گے۔ ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ مدینہ تک کی سواری کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی تھی۔ اعمش نے سالم سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اپنے گھر تک تم اسی پر سوار ہو کے جاؤ۔ عبیداللہ اور ابن اسحاق نے وہب سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ اونٹ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ میں خریدا تھا۔ اس روایت کی متابعت زید بن اسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔ ابن جریج نے عطاء وغیرہ سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) میں تمہارا یہ اونٹ چار دینار میں لیتا ہوں، اس حساب سے کہ ایک دینار دس درہم کا ہوتا ہے، چار دینار کا ایک اوقیہ ہو گا۔ مغیرہ نے شعبی کے واسطہ سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے (ان کی روایت میں اور) اسی طرح ابن المنکدر اور ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں قیمت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اعمش نے سالم سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں ایک اوقیہ سونے کی وضاحت کی ہے۔ ابواسحاق نے سالم سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں دو سو درہم بیان کیے ہیں اور داود بن قیس نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن مقسم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ تبوک کے راستے میں (غزوہ سے واپس ہوتے ہوئے) خریدا تھا۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ چار اوقیہ میں (خریدا تھا) ابونضرہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت میں بیان کیا کہ بیس دینار میں خریدا تھا۔ شعبی کے بیان کے مطابق ایک اوقیہ ہی زیادہ روایتوں میں ہے۔ اسی طرح شرط لگانا بھی زیادہ روایتوں سے ثابت ہے اور میرے نزدیک صحیح بھی یہی ہے، یہ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2718]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سوار ہو کر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو مارا اور اس کے لیے دعا فرمائی تو وہ اتنا تیز چلنے لگا کہ اس جیسا کبھی نہیں چلا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ایک اوقیے کے عوض میرے ہاتھ فروخت کر دو۔“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”ایک اوقیے کے عوض یہ اونٹ مجھے فروخت کر دو۔“ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اسے فروخت کر دیا لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرا لیا۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو میں اونٹ لے کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت مجھے نقد ادا کر دی لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے آدمی بھیجا۔ (میرے پہنچنے پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو تمہارا اونٹ لینا نہیں چاہتا تھا، اپنا اونٹ لے جاؤ، یہ تمہارا ہی مال ہے۔“ شعبہ رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق حضرت جابر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے اونٹ اس شرط پر فروخت کیا کہ مدینہ طیبہ تک کی مجھے اجازت دی تھی۔ اسحاق رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق حضرت جابر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے اونٹ اس شرط پر فروخت کیا کہ مدینہ طیبہ پہنچنے تک اس پر سوار رہوں گا۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ وغیرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اس پر مدینہ طیبہ تک سواری تمہاری ہے۔“ محمد بن منکدر رحمہ اللہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ انہوں نے مدینہ طیبہ تک سواری کی شرط لگائی تھی۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ تک تم ہی اس پر سوار رہو گے۔“ ابو زبیر رحمہ اللہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے مدینہ طیبہ تک اس پر سواری کی آپ کو اجازت دی۔“ اعمش رحمہ اللہ نے بواسطہ سالم رحمہ اللہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر تک تم اس پر سوار ہو کر جاؤ۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: میرے نزدیک شرط والی بات اکثر اور زیادہ صحیح ہے۔ عبید اللہ رحمہ اللہ اور ابن اسحاق رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ ایک اوقیے میں خریدا تھا۔ اس روایت کی متابعت زید بن اسلم رحمہ اللہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے کی ہے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارا یہ اونٹ چار دینار میں لیتا ہوں۔“ اس حساب کے مطابق ایک دینار دس درہم کا اور دینار کا ایک اوقیہ ہو گا۔ مغیرہ رحمہ اللہ وغیرہ نے اپنی روایت میں قیمت کا ذکر نہیں کیا۔ اعمش رحمہ اللہ نے بواسطہ سالم رحمہ اللہ اپنی روایت میں ایک اوقیہ سونے کی وضاحت کی ہے۔ ابو اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں دو سو درہم بیان کیے ہیں۔ داود بن قیس رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ تبوک کے راستے میں خریدا تھا۔ نیز کہا کہ میرے خیال کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار اوقیے میں خریدا تھا۔ ابو نضرہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ بیس دینار میں خریدا تھا۔ شعبی رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق ایک اوقیہ ہی زیادہ روایات میں ہے۔ اسی طرح شرط لگانا بھی بیشتر روایات سے ثابت ہے۔ میرے نزدیک یہی صحیح ہے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کا بھی یہی قول ہے (جیسا کہ پہلے گزرا ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2718]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة