صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ هَلْ يَنْتَفِعُ الْوَاقِفُ بِوَقْفِهِ:
باب: کیا وقف کرنے والا اپنے وقف سے خود بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: Q2754
وَقَدِ اشْتَرَطَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَقَدْ يَلِي الْوَاقِفُ وَغَيْرُهُ، وَكَذَلِكَ كُلُّ مَنْ جَعَلَ بَدَنَةً أَوْ شَيْئًا لِلَّهِ فَلَهُ، أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا كَمَا يَنْتَفِعُ غَيْرُهُ، وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِطْ.
اور عمر رضی اللہ عنہ نے شرط لگائی تھی (اپنے وقف کے لیے) کہ جو شخص اس کا متولی ہو اس کے لیے اس وقف میں سے کھا لینے سے کوئی حرج نہ ہو گا۔ (دستور کے مطابق) واقف خود بھی وقف کا مہتمم ہو سکتا ہے اور دوسرا شخص بھی۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے اونٹ یا کوئی اور چیز اللہ کے راستے میں وقف کی تو جس طرح دوسرے اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں خود وقف کرنے والا بھی اٹھا سکتا ہے اگرچہ (وقف کرتے وقت) اس کی شرط نہ لگائی ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: Q2754]
حدیث نمبر: 2754
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ لَهُ:" ارْكَبْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ أَوْ وَيْحَكَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص قربانی کا اونٹ ہانکے لیے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا۔ اس صاحب نے کہا یا رسول اللہ! یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا افسوس! سوار بھی ہو جا یا آپ نے «ويلك» کی بجائے «ويحك» فرمایا جس کے معنی بھی وہی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2754]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا وہ اپنا قربانی کا اونٹ ہانکے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ قربانی کے لیے وقف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا: ”تیرے لیے ہلاکت یا افسوس ہو، اس پر سوار ہو جا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2754]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2755
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ".
ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان نے اعرج سے اور ان ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک صاحب قربانی کا اونٹ ہانکے لیے جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو جا لیکن انہوں نے معذرت کی کہ یا رسول اللہ! یہ تو قربانی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ سوار بھی ہو جا۔ افسوس! یہ کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2755]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنا قربانی کا اونٹ ہانکے جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جا۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو قربانی کے لیے وقف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری یا تیسری مرتبہ فرمایا: ”تیرے لیے خرابی ہو، اس پر سوار ہو جا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2755]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة