مجموعه ضعيف احاديث سے متعلقہ
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیان
حدیث نمبر: 1336
أنه صلى الله عليه وسلم أخذ القلم من يد على فدفعه الي معاوية
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی کے ہاتھ سے قلم پکڑ کر معاویہ کے حوالے کر دیا۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1336]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
[الفوائد المجموعة ص: 403]
[الفوائد المجموعة ص: 403]
الحكم على الحديث:
موضوع
حدیث نمبر: 1337
أن جماعة من بني هاشم سألوا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يحول الكتابة من معاوية فنزل الوحي باختياره
”بنو ہاشم کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ معاویہ سے کتابت وحی ختم کر دیں تو ان کے اختیار کے متعلق وحی نازل ہو گئی۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1337]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
[الفوائد المجموعة ص: 403]
[الفوائد المجموعة ص: 403]
الحكم على الحديث:
موضوع
حدیث نمبر: 1338
اول من يختصم من هذه الأمة بين يدي الرب على و معاوية
”اس امت میں سے پروردگار کے سامنے سب سے پہلے علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما جھگڑا کریں گے۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1338]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
اس میں ابوحمدان راوی کذاب ہے۔ [تذكرة الموضوعات ص: 100] ، [العلل المتناهية 649/2]
اس میں ابوحمدان راوی کذاب ہے۔ [تذكرة الموضوعات ص: 100] ، [العلل المتناهية 649/2]
الحكم على الحديث:
موضوع
حدیث نمبر: 1339
حبيبي قد اهديت هذا القلم من فوق عرشي الي معاوية...
”(جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) اے میرے حبیب! میں نے یہ قلم اپنے عرش کے اوپر سے معاویہ کی طرف بطور تحفہ بھیجا ہے۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1339]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ [الموضوعات لابن الجوزي 15/2] ، [اللآلي المصنوعة 379/1]
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ [الموضوعات لابن الجوزي 15/2] ، [اللآلي المصنوعة 379/1]
الحكم على الحديث:
موضوع
حدیث نمبر: 1340
فاستشار جبريل فقال استكتبه فانه امين
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم (معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں) جبرئیل علیہ السلام سے مشورہ کیا توہ انہوں نے فرمایا، ان سے (وحی) لکھوائیے یقیناً یہ امانت دار ہیں۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1340]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت موضوع ہے، اور اس کی سند میں اصرم بن حوشب ہمدانی روای کذاب ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 404] ، مزید دیکھئے: [الموضوعات لابن الجوزي 17/2] ، [تنزيه الشريعة 2/2]
امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت موضوع ہے، اور اس کی سند میں اصرم بن حوشب ہمدانی روای کذاب ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 404] ، مزید دیکھئے: [الموضوعات لابن الجوزي 17/2] ، [تنزيه الشريعة 2/2]
الحكم على الحديث:
موضوع
حدیث نمبر: 1341
الامناء عند الله ثلاثة: أنا و جبريل و معاوية
”اللہ کے نزدیک تین امانت دار ہیں: میں، جبرئیل علیہ السلام اور معاویہ رضی اللہ عنہ۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1341]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس حدیث کو باطل و موضوع کہا ہے۔ [كما في اللآلي المصنوعة 381/1]
ابن طاہر مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں احمد بن عیسیٰ خشاب راوی کذاب ہے، حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔ [معرفة التذكرة ص: 135]
امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس حدیث کو باطل و موضوع کہا ہے۔ [كما في اللآلي المصنوعة 381/1]
ابن طاہر مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں احمد بن عیسیٰ خشاب راوی کذاب ہے، حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔ [معرفة التذكرة ص: 135]
الحكم على الحديث:
موضوع
حدیث نمبر: 1342
ادعوا لي معاوية... فانه قوي امين
”معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ۔۔۔ یقیناً وہ قوت والا اور امانت دار ہے۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1342]
تخریج الحدیث: { «منكر» }:
امام ہیثمی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو منکر کہا ہے۔ [مجمع الزوائد 594/9]
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ [الموضوعات 19/2]
امام ہیثمی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو منکر کہا ہے۔ [مجمع الزوائد 594/9]
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ [الموضوعات 19/2]
الحكم على الحديث:
منكر
حدیث نمبر: 1343
أن النبى صلى الله عليه وسلم ناول معاوية سهما وقال خذ هٰذا السهم حتي تلقاني به فى الجنة
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے، معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک تیر پکڑایا اور فرمایا کہ اسے تھامے رکھنا حتی کہ تم اس کے ساتھ جنت میں مجھ سے ملاقات کرو۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1343]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
امام شوکانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے۔ [الفوائد ص: 405]
ابن طاہر مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں وزیر راوی ہے جو حدیث میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔ [ذخيرة الحفاظ 883/2]
امام شوکانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے۔ [الفوائد ص: 405]
ابن طاہر مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں وزیر راوی ہے جو حدیث میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔ [ذخيرة الحفاظ 883/2]
الحكم على الحديث:
موضوع
حدیث نمبر: 1344
فأعطي معاوية ثلاث سفر جلات وقال تلقاني بهن فى الجنة
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو تین رجسٹر دیے اور فرمایا کہ تم ان کے ساتھ مجھے جنت میں ملو گے۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1344]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے۔ [الموضوعات لابن الجوزي 22/2] ، [تنزيه الشريعة 4/2]
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے۔ [الموضوعات لابن الجوزي 22/2] ، [تنزيه الشريعة 4/2]
الحكم على الحديث:
موضوع
حدیث نمبر: 1345
يبعث معاوية يوم القيامة وعليه رداء من نور الايمان
”معاویہ رضی اللہ عنہ کو روز قیامت اٹھایا جائے گا تو اس پر ایمانی نور کی چادر ہو گی۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1345]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
[الفوائد المجموعة ص: 406] ، [اللآلي المصنوعة 387/1]
[الفوائد المجموعة ص: 406] ، [اللآلي المصنوعة 387/1]
الحكم على الحديث:
موضوع