صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
180. بَابُ إِذَا أَسْلَمَ قَوْمٌ فِي دَارِ الْحَرْبِ، وَلَهُمْ مَالٌ وَأَرَضُونَ، فَهْيَ لَهُمْ:
باب: اگر کچھ لوگ جو دارالحرب میں مقیم ہیں اسلام لے آئیں اور وہ مال و جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے مالک ہیں تو وہ ان ہی کی ہو گی۔
حدیث نمبر: 3058
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ؟، قَالَ:" وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا، ثُمَّ قَالَ: نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ الْمُحَصَّبِ حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ، وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُؤْوُوهُمْ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہیں زہری نے ‘ انہیں علی بن حسین نے ‘ انہیں عمرو بن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! کل آپ (مکہ میں) کہاں قیام فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہی کب ہے۔ پھر فرمایا کہ کل ہمارا قیام حنیف بن کنانہ کے مقام محصب میں ہو گا ‘ جہاں پر قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ بنی کنانہ اور قریش نے (یہیں پر) بنی ہاشم کے خلاف اس بات کی قسمیں کھائی تھیں کہ ان سے خرید و فروخت کی جائے اور نہ انہیں اپنے گھروں میں آنے دیں۔ زہری نے کہا کہ خیف وادی کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3058]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حجۃ الوداع میں عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کل کہاں قیام فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان چھوڑا ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل ہم لوگ بنو کنانہ کی وادی میں پڑاؤ کریں گے، جس کو وادی محصب کہا جاتا ہے، جہاں قریش نے کفر پر اڑے رہنے کی قسمیں اٹھائی تھیں۔“ اور یہ اس طرح کہ بنو کنانہ نے بنو ہاشم کے خلاف قریش سے قسم لی تھی کہ وہ بنو ہاشم سے خرید و فروخت نہیں کریں گے اور نہ انہیں رہنے کے لیے جگہ ہی دیں گے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «الْخَيْفُ» کے معنی ”وادی“ کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3058]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3059
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُدْعَى هُنَيًّا عَلَى الْحِمَى، فَقَالَ: يَا هُنَيُّ اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ، وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ وَإِيَّايَ، وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ، وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَا إِلَى نَخْلٍ وَزَرْعٍ، وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَرَبَّ الْغُنَيْمَةِ إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَأْتِنِي بِبَنِيهِ، فَيَقُولُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنَا لَا أَبَا لَكَ فَالْمَاءُ وَالْكَلَأُ أَيْسَرُ عَلَيَّ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنِّي قَدْ ظَلَمْتُهُمْ إِنَّهَا لَبِلَادُهُمْ فَقَاتَلُوا عَلَيْهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِي الْإِسْلَامِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا الْمَالُ الَّذِي أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا حَمَيْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ بِلَادِهِمْ شِبْرًا".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہنی نامی اپنے ایک غلام کو (سرکاری) چراگاہ کا حاکم بنایا ‘ تو انہیں یہ ہدایت کی ‘ اے ہنی! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روکے رکھنا (ان پر ظلم نہ کرنا) اور مظلوم کی بددعا سے ہر وقت بچتے رہنا ‘ کیونکہ مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اور ہاں ابن عوف اور ابن عفان اور ان جیسے (امیر صحابہ) کے مویشیوں کے بارے میں تجھے ڈرتے رہنا چاہئے۔ (یعنی ان کے امیر ہونے کی وجہ سے دوسرے غریبوں کے مویشیوں پر چراگاہ میں انہیں مقدم نہ رکھنا) کیونکہ اگر ان کے مویشی ہلاک بھی ہو جائیں گے تو یہ رؤسا اپنے کھجور کے باغات اور کھیتوں سے اپنی معاش حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن گنے چنے اونٹوں اور گنی چنی بکریوں کا مالک (غریب) کہ اگر اس کے مویشی ہلاک ہو گئے ‘ تو وہ اپنے بچوں کو لے کر میرے پاس آئے گا ‘ اور فریاد کرے گا: یا امیرالمؤمنین! یا امیرالمؤمنین! تو کیا میں انہیں چھوڑ دوں گا (یعنی ان کو پالنا) تمہارا باپ نہ ہو؟ اس لیے (پہلے ہی سے) ان کیلئے چارے اور پانی کا انتظام کر دینا میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں ان کیلئے سونے چاندی کا انتظام کروں اور اللہ کی قسم! وہ (اہل مدینہ) یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ یہ زمینیں انہیں کی ہیں۔ انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں اس کے لیے لڑائیاں لڑیں ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی ان کی ملکیت کو بحال رکھا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ اموال (گھوڑے وغیرہ) نہ ہوتے جن پر جہاد میں لوگوں کو سوار کرتا ہوں تو ان کے علاقوں میں ایک بالشت زمین کو بھی میں چراگاہ نہ بناتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3059]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے «هُنَيّ» ”ہنی“ نامی اپنے آزاد کردہ غلام کو سرکاری چراگاہ پر حاکم بنایا اور فرمایا: اے ہنی! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روکے رکھنا (ان پر ظلم نہ کرنا بلکہ ان پر مہربانی کرنا) اور مسلمانوں کی بددعا لینے سے اجتناب کرنا کیونکہ ”مظلوم کی بددعا قبول ہوتی ہے“۔ اور اس چراگاہ میں تھوڑے اونٹ اور تھوڑی بکریاں رکھنے والوں کو داخلے کی اجازت دینا لیکن حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مویشیوں کو اندر آنے کی اجازت نہ دینا کیونکہ اگر ان (اغنیاء کے) مویشی ہلاک ہو گئے تو یہ لوگ اپنے نخلستان اور کھیتوں سے اپنی معاش حاصل کر سکتے ہیں لیکن اگر گنے چنے اونٹ اور گنی چنی بکریاں رکھنے والوں کے مویشی ہلاک ہو جائیں تو وہ اپنے بچوں کو لے کر میرے پاس آئیں گے اور فریاد کریں گے: اے امیر المومنین! اے امیر المومنین! تیرا باپ نہ رہے، کیا میں ان کو یونہی چھوڑ سکتا ہوں؟ ان کو پانی اور گھاس دینا میرے لیے سونا چاندی دینے سے آسان ہے۔ اللہ کی قسم! یہ لوگ گمان کریں گے کہ میں نے ان پر ظلم کیا ہے کیونکہ یہ زمین انہی کی ہے۔ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں ان کے لیے لڑائیاں لڑی ہیں اور اسلام لانے کے بعد ان کی ملکیت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میرے ایسے جانور نہ ہوتے جن کو میں اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیتا ہوں تو میں ان کے علاقوں سے ایک بالشت زمین بھی چراگاہ نہ بناتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3059]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة