صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ الْجُنُبُ يَخْرُجُ وَيَمْشِي فِي السُّوقِ وَغَيْرِهِ:
باب: اس تفصیل میں کہ جنبی گھر سے باہر نکل سکتا اور بازار وغیرہ جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: Q284
وَقَالَ عَطَاءٌ: يَحْتَجِمُ الْجُنُبُ وَيُقَلِّمُ أَظْفَارَهُ وَيَحْلِقُ رَأْسَهُ وَإِنْ لَمْ يَتَوَضَّأْ.
اور عطا نے کہا کہ جنبی پچھنا لگوا سکتا ہے، ناخن ترشوا سکتا ہے اور سر منڈوا سکتا ہے۔ اگرچہ وضو بھی نہ کیا ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: Q284]
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ،" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ".
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے، کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے پاس ایک ہی رات میں تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج میں نو بیویاں تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 284]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات ایک رات میں اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ہو آتے تھے اور اس وقت ان کی تعداد نو تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 284]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ؟ فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أَبَا هِرٍّ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ".
ہم سے عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے بکر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابورافع سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، کہا کہ میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ اس وقت میں جنبی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! مومن تو نجس نہیں ہوتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 285]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات بحالت جنابت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو میں چپکے سے اٹھا اور اپنے ٹھکانے پر پہنچا۔ وہاں میں نے غسل کیا، پھر حاضر خدمت ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ!“ «إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ» ”بلاشبہ مومن ناپاک نہیں ہوتا۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 285]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة