🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. بَابُ حَدِيثُ أَبْرَصَ وَأَعْمَى وَأَقْرَعَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ:
باب: بنی اسرائیل کے ایک کوڑھی اور ایک نابینا اور ایک گنجے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3464
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى بَدَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَأَتَى الْأَبْرَصَ، فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ، قَالَ: لَوْنٌ حَسَنٌ وَجِلْدٌ حَسَنٌ قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ، قَالَ: فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ فَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا، فَقَالَ: أَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ، قَالَ: الْإِبِلُ أَوْ، قَالَ: الْبَقَرُ هُوَ شَكَّ فِي ذَلِكَ إِنَّ الْأَبْرَصَ وَالْأَقْرَعَ، قَالَ: أَحَدُهُمَا الْإِبِلُ، وَقَالَ: الْآخَرُ الْبَقَرُ فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ، فَقَالَ: يُبَارَكُ لَكَ فِيهَا وَأَتَى الْأَقْرَعَ، فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ، قَالَ: شَعَرٌ حَسَنٌ وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ، قَالَ: فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا، قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ، قَالَ: الْبَقَرُ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ بَقَرَةً حَامِلًا، وَقَالَ: يُبَارَكُ لَكَ فِيهَا وَأَتَى الْأَعْمَى، فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ، قَالَ: يَرُدُّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرُ بِهِ النَّاسَ، قَالَ: فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ، قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ، قَالَ: الْغَنَمُ فَأَعْطَاهُ شَاةً وَالِدًا فَأُنْتِجَ هَذَانِ وَوَلَّدَ هَذَا فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِنْ إِبِلٍ وَلِهَذَا وَادٍ مِنْ بَقَرٍ وَلِهَذَا وَادٍ مِنْ غَنَمٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الْأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ تَقَطَّعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ بَعِيرًا أَتَبَلَّغُ عَلَيْهِ فِي سَفَرِي، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ الْحُقُوقَ كَثِيرَةٌ، فَقَالَ لَهُ: كَأَنِّي أَعْرِفُكَ أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ فَقِيرًا فَأَعْطَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ: لَقَدْ وَرِثْتُ لِكَابِرٍ عَنْ كَابِرٍ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ وَأَتَى الْأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فَقَالَ لَهُ: مِثْلَ مَا، قَالَ: لِهَذَا فَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَيْهِ هَذَا، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ وَأَتَى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهِ، فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ وَتَقَطَّعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً أَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ بَصَرِي وَفَقِيرًا فَقَدْ أَغْنَانِي فَخُذْ مَا شِئْتَ فَوَاللَّهِ لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ بِشَيْءٍ أَخَذْتَهُ لِلَّهِ، فَقَالَ: أَمْسِكْ مَالَكَ فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ فَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْكَ وَسَخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ".
مجھ سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، ان سے ہمام نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی حمزہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا (دوسری سند) اور مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، انہیں ہمام نے خبر دی، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، ایک کوڑھی، دوسرا اندھا اور تیسرا گنجا، اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کا امتحان لے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اچھا رنگ اور اچھی چمڑی کیونکہ مجھ سے لوگ پرہیز کرتے ہیں۔ بیان کیا کہ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری دور ہو گئی اور اس کا رنگ بھی خوبصورت ہو گیا اور چمڑی بھی اچھی ہو گئی۔ فرشتے نے پوچھا کس طرح کا مال تم زیادہ پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ اونٹ! یا اس نے گائے کہی، اسحاق بن عبداللہ کو اس سلسلے میں شک تھا کہ کوڑھی اور گنجے دونوں میں سے ایک نے اونٹ کی خواہش کی تھی اور دوسرے نے گائے کی۔ چنانچہ اسے حاملہ اونٹنی دی گئی اور کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے گا، پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا کہ عمدہ بال اور موجودہ عیب میرا ختم ہو جائے کیونکہ لوگ اس کی وجہ سے مجھ سے پرہیز کرتے ہیں۔ بیان کیا کہ فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا عیب جاتا رہا اور اس کے بجائے عمدہ بال آ گئے۔ فرشتے نے پوچھا، کس طرح کا مال پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ گائے! بیان کیا کہ فرشتے نے اسے حاملہ گائے دے دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے گا۔ پھر اندھے کے پاس فرشتہ آیا اور کہا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے آنکھوں کی روشنی دیدے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ بیان کیا کہ فرشتے نے ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی اسے واپس دے دی۔ پھر پوچھا کہ کس طرح کا مال تم پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ بکریاں! فرشتے نے اسے حاملہ بکری دے دی۔ پھر تینوں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے، یہاں تک کہ کوڑھی کے اونٹوں سے اس کی وادی بھر گئی، گنجے کی گائے بیل سے اس کی وادی بھر گئی اور اندھے کی بکریوں سے اس کی وادی بھر گئی۔ پھر دوبارہ فرشتہ اپنی اسی پہلی شکل میں کوڑھی کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک نہایت مسکین و فقیر آدمی ہوں، سفر کا تمام سامان و اسباب ختم ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی سے حاجت پوری ہونے کی امید نہیں، لیکن میں تم سے اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ اور اچھا چمڑا اور مال عطا کیا، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس سے سفر کو پورا کر سکوں۔ اس نے فرشتے سے کہا کہ میرے ذمہ حقوق اور بہت سے ہیں۔ فرشتہ نے کہا، غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں، کیا تمہیں کوڑھ کی بیماری نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ تم سے گھن کھاتے تھے۔ تم ایک فقیر اور قلاش تھے۔ پھر تمہیں اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں عطا کیں؟ اس نے کہا کہ یہ ساری دولت تو میرے باپ دادا سے چلی آ رہی ہے۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔ پھر فرشتہ گنجے کے پاس اپنی اسی پہلی صورت میں آیا اور اس سے بھی وہی درخواست کی اور اس نے بھی وہی کوڑھی والا جواب دیا۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا، اپنی اسی پہلی صورت میں اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں، سفر کے تمام سامان ختم ہو چکے ہیں اور سوا اللہ تعالیٰ کے کسی سے حاجت پوری ہونے کی توقع نہیں۔ میں تم سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں تمہاری بینائی واپس دی ہے، ایک بکری مانگتا ہوں جس سے اپنے سفر کی ضروریات پوری کر سکوں۔ اندھے نے جواب دیا کہ واقعی میں اندھا تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے بینائی عطا فرمائی اور واقعی میں فقیر و محتاج تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے مالدار بنایا۔ تم جتنی بکریاں چاہو لے سکتے ہو، اللہ کی قسم جب تم نے اللہ کا واسطہ دیا ہے تو جتنا بھی تمہارا جی چاہے لے جاؤ، میں تمہیں ہرگز نہیں روک سکتا۔ فرشتے نے کہا کہ تم اپنا مال اپنے پاس رکھو، یہ تو صرف امتحان تھا اور اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور خوش ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3464]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بنی اسرائیل میں تین شخص تھے۔ ایک کوڑھی، دوسرا اندھا اور تیسرا گنجا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کو آزمانا چاہا، چنانچہ ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جو پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تجھے کیا چیز پیاری ہے؟ اس نے کہا: اچھا رنگ اور خوبصورت جلد کیونکہ لوگ مجھ سے نفرت اور کراہت کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کا مرض جاتا رہا اور اسے اچھے رنگ کے ساتھ خوبصورت جلد عنایت ہو گئی۔ پھر فرشتے نے کہا: تجھے کون سا مال پسند ہے؟ اس نے اونٹ یا گائے کہا۔ راوی کو شک ہے کہ کوڑھی اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ اور دوسرے نے گائے کا کہا تھا، تاہم اسے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی دے دی گئی۔ پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس گیا اور اس سے کہا: تو کیا چاہتا ہے؟ اس نے کہا: مجھ سے یہ گنجا پن جاتا رہے اور میرے خوبصورت بال ہوں کیونکہ لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر بھی ہاتھ پھیرا تو اس کا گنجا پن جاتا رہا اور خوبصورت بال اُگ آئے۔ پھر فرشتے نے اسے کہا: تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: مجھے گائے پسند ہے، چنانچہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ گائے دے کر کہا: تجھے اس میں برکت دی جائے گی۔ اس کے بعد وہ فرشتہ اندھے کے پاس گیا اور اس سے پوچھا: تجھے کون سی چیز زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ میری بینائی مجھے واپس کر دے تاکہ میں اس کے ذریعے سے لوگوں کو دیکھ سکوں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی واپس کر دی۔ فرشتے نے دریافت کیا کہ تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا: مجھے بکری پسند ہے، چنانچہ فرشتے نے اسے ایک حاملہ بکری دے دی۔ پھر ان دونوں کی اونٹنی اور گائے بچے جننے لگیں اور بکری نے بھی بچے دینے شروع کر دیے تو اس کوڑھی کے پاس جنگل بھر (ریوڑ) اونٹ ہو گئے، گنجے کے پاس جنگل بھر گائیں اور اندھے کے پاس جنگل بھر بکریاں ہو گئیں۔ اس کے بعد وہی فرشتہ انسانی شکل و صورت میں کوڑھی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں، دوران سفر میں میرا سامان وغیرہ ختم ہو گیا ہے، آج میں اللہ کی مدد پھر تیرے تعاون کے بغیر اپنے ٹھکانے پر نہیں پہنچ سکتا، لہٰذا میں تجھ سے اس اللہ کے نام پر سوال کرتا ہوں جس نے تجھے اچھی رنگت، خوبصورت جلد اور بہترین مال دیا ہے، مجھے ایک اونٹ دے دے تاکہ میں اس پر سوار ہو کر سفر کر سکوں۔ کوڑھی نے کہا: مجھ پر اور بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ فرشتے نے کہا: غالباً میں تجھے پہچانتا ہوں کیا تو کوڑھی نہ تھا؟ سب لوگ تجھ سے نفرت کرتے تھے؟ اور تو دست نگر بھی تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے تجھے سب کچھ دے دیا؟ اس نے کہا: واہ! میں تو جدی پشتی (باپ دادا سے) مال دار چلا آ رہا ہوں۔ فرشتے نے کہا: اگر تو جھوٹ بولتا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے پھر ویسا ہی کر دے جیسا تو پہلے تھا۔ پھر وہی فرشتہ اس شکل و صورت میں گنجے کے پاس گیا۔ اس سے بھی وہی کہا جو اس نے کوڑھی سے کہا تھا۔ گنجے نے بھی ویسا ہی جواب دیا جیسا کوڑھی نے دیا تھا۔ فرشتے نے اس سے کہا: اگر تو جھوٹ بولتا ہے تو اللہ تجھے ویسا کر دے جیسا تو پہلے تھا۔ پھر فرشتہ اسی شکل و صورت میں نابینا کے پاس آیا اور اس سے کہا: میں ایک مسکین اور مسافر ہوں، دوران سفر میں زادِ سفر ختم ہو گیا ہے، لہٰذا اب میں اللہ کی مدد پھر تیری توجہ کے بغیر اپنے وطن نہیں پہنچ سکتا۔ میں تجھ سے اس اللہ کے نام پر ایک بکری مانگتا ہوں جس نے تیری آنکھیں دوبارہ روشن کیں تاکہ میں اس کے ذریعے سے اپنا سفر جاری رکھ سکوں۔ اس (اندھے) نے کہا: بے شک میں نابینا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے بینائی سے نوازا۔ میں محتاج تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے مال دار کر دیا، لہٰذا تو جو چاہے لے لے۔ اللہ کی قسم! آج جو ضرورت والی چیز بھی تو اللہ کے نام پر لے گا میرا تجھ پر کوئی احسان نہیں ہو گا۔ فرشتے نے کہا: تم اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ صرف تم لوگوں کا امتحان مقصود تھا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہو گیا ہے اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہو گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3464]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں