🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلاَمِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ: مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی انہیں اعمش نے، انہیں خیثمہ نے، ان سے سوید بن غفلہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا، جب تم سے کوئی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے میں بیان کروں تو یہ سمجھو کہ میرے لیے آسمان سے گر جانا اس سے بہتر ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی جھوٹ باندھوں البتہ جب میں اپنی طرف سے کوئی بات تم سے کہوں تو لڑائی تو تدبیر اور فریب ہی کا نام ہے (اس میں کوئی بات بنا کر کہوں تو ممکن ہے)۔ دیکھو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ آخر زمانہ میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو چھوٹے چھوٹے دانتوں والے، کم عقل اور بیوقوف ہوں گے۔ باتیں وہ کہیں گے جو دنیا کی بہترین بات ہو گی۔ لیکن اسلام سے اس طرح صاف نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے۔ ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو، کیونکہ ان کے قتل سے قاتل کو قیامت کے دن ثواب ملے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3611]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں تو آپ پر جھوٹ بولنے سے مجھ کو یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں آسمان سے گر جاؤں، اور جب میں تم سے وہ باتیں کروں جو میرے اور تمہارے درمیان ہوتی ہیں تو (کوئی نقصان نہیں کیونکہ) لڑائی ایک پرفریب چال کا نام ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: آخر زمانہ میں کچھ نو عمر بے وقوف پیدا ہوں گے جو زبان سے بہترین خلائق کی باتیں کریں گے لیکن اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے اور ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ ایسے لوگوں سے تمہاری جہاں ملاقات ہو تو انہیں قتل کرنے کی کوشش کرنا کیونکہ قیامت کے دن اس شخص کو ثواب ملے گا جو ان کو قتل کرے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3611]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3612
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، قُلْنَا: لَهُ أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ فَيُجْعَلُ فِيهِ فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَتَيْنِ وَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ لَحْمِهِ مِنْ عَظْمٍ أَوْ عَصَبٍ وَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ وَاللَّهِ لَيُتِمَّنَّ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ أَوِ الذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ اس وقت اپنی ایک چادر پر ٹیک دیئے کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے مدد کیوں نہیں طلب فرماتے۔ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیوں نہیں مانگتے (ہم کافروں کی ایذا دہی سے تنگ آ چکے ہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ایمان لانے کی سزا میں) تم سے پہلی امتوں کے لوگوں کے لیے گڑھا کھودا جاتا اور انہیں اس میں ڈال دیا جاتا۔ پھر ان کے سر پر آرا رکھ کر ان کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتے۔ لوہے کے کنگھے ان کے گوشت میں دھنسا کر ان کی ہڈیوں اور پٹھوں پر پھیرے جاتے پھر بھی وہ اپنا ایمان نہ چھوڑتے۔ اللہ کی قسم یہ امر (اسلام) بھی کمال کو پہنچے گا اور ایک زمانہ آئے گا کہ ایک سوار مقام صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا (لیکن راستوں کے پرامن ہونے کی وجہ سے اسے اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہیں ہو گا۔ یا صرف بھیڑئیے کا خوف ہو گا کہ کہیں اس کی بکریوں کو نہ کھا جائے لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3612]
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے تلے اپنی چادر سے تکیہ لگائے بیٹھے تھے، ہم نے آپ سے کفار کی ایذا کے متعلق شکایت کی۔ ہم نے عرض کیا: آپ ہمارے لیے مدد کیوں نہیں مانگتے؟ آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں سے پہلے کچھ لوگ ایسے ہوئے ہیں کہ ان کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا، پھر اس میں انہیں کھڑا کر دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر ان کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے، لیکن اس قدر سختی ان کو دین سے برگشتہ نہ کرتی تھی۔ پھر ان کے گوشت کے نیچے ہڈی اور پٹھوں پر لوہے کی کنگھیاں کھینچ دی جاتی تھیں، لیکن یہ اذیت بھی انہیں ان کے دین سے نہ ہٹا سکی۔ اللہ کی قسم! یہ دین ضرور مکمل ہوگا، اس حد تک کہ اگر کوئی مسافر صنعاء سے حضرموت کا سفر کرے گا تو اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا اور نہ کوئی اپنی بکریوں کے لیے بھیڑیے کا خوف کرے گا، مگر تم لوگ جلدی کرتے ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3612]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3613
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَنْبَأَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَقَدَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ، فَقَالَ: رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَعْلَمُ لَكَ عِلْمَهُ فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ جَالِسًا فِي بَيْتِهِ مُنَكِّسًا رَأْسَهُ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ، فَقَالَ: شَرٌّ كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَتَى الرَّجُلُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قَالَ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ مُوسَى بْنُ أَنَسٍ: فَرَجَعَ الْمَرَّةَ الْآخِرَةَ بِبِشَارَةٍ عَظِيمَةٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَلَكِنْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، انہیں موسیٰ بن انس نے خبر دی اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نہیں ملے تو ایک صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ کے لیے ان کی خبر لاتا ہوں۔ چنانچہ وہ ان کے یہاں آئے تو دیکھا کہ اپنے گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں، انہوں نے پوچھا کہ کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا کہ برا حال ہے۔ ان کی عادت تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اونچی آواز میں بولا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا اسی لیے میرا عمل غارت ہو گیا اور میں دوزخیوں میں ہو گیا ہوں۔ وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ ثابت رضی اللہ عنہ یوں کہہ رہے ہیں۔ موسیٰ بن انس نے بیان کیا، لیکن دوسری مرتبہ وہی صحابی ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بڑی خوشخبری لے کر واپس ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ ثابت کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ اہل جہنم میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3613]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو نہ پایا تو ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو ان کی خبر لا کر دوں گا، چنانچہ وہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہیں اپنے گھر میں سرنگوں پایا۔ اس نے پوچھا: تمہارا کیا حال ہے؟ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: برا حال ہے۔ یہ اپنی آواز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچا کرتا ہے، لہٰذا اس کا کیا دھرا ضائع ہو گیا اور وہ دوزخیوں میں سے ہے۔ وہ شخص واپس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت حال سے آگاہ کیا کہ اس نے ایسا کہا ہے، پھر وہ شخص دوسری مرتبہ بڑی بشارت لے کر گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (ثابت) کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ تم دوزخیوں میں سے نہیں ہو بلکہ جنتی ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3613]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3614
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ وَفِي الدَّارِ الدَّابَّةُ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَسَلَّمَ فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ غَشِيَتْهُ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ" اقْرَأْ فُلَانُ فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ نَزَلَتْ لِلْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے ان سے ابواسحٰق نے اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک صحابی (اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ) نے (نماز میں) سورۃ الکہف کی تلاوت کی۔ اسی گھر میں گھوڑا بندھا ہوا تھا، گھوڑے نے اچھلنا کودنا شروع کر دیا۔ (اسید نے ادھر خیال نہ کیا اس کو اللہ کے سپرد کیا) اس کے بعد جب انہوں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے ان کے سارے گھر پر سایہ کر رکھا ہے۔ اس واقعہ کا ذکر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن پڑھتا ہی رہ کیونکہ یہ «سكينة» ہے جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی یا (اس کے بجائے راوی نے) «تنزلت للقرآن» کے الفاظ کہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3614]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک شخص نے سورہ کہف پڑھی تو ان کے گھر میں باندھا ہوا ایک جانور (گھوڑا) بدکنے لگا، اس پر اس نے سلامتی کی دعا کی تو اچانک اس کے سر پر ایک ابر سایہ کیے ہوئے تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: اے شخص! تو پڑھتا ہی رہتا کیونکہ یہ تو ایک طمانیت تھی جو قرآن پڑھنے کی بدولت اتری تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3614]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَبُو الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي فِي مَنْزِلِهِ فَاشْتَرَى مِنْهُ رَحْلًا، فَقَالَ" لِعَازِبٍ ابْعَثْ ابْنَكَ يَحْمِلْهُ مَعِي، قَالَ: فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ وَخَرَجَ أَبِي يَنْتَقِدُ ثَمَنَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا حِينَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَخَلَا الطَّرِيقُ لَا يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ لَهَا ظِلٌّ لَمْ تَأْتِ عَلَيْهِ الشَّمْسُ فَنَزَلْنَا عِنْدَهُ وَسَوَّيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانًا بِيَدِي يَنَامُ عَلَيْهِ وَبَسَطْتُ فِيهِ فَرْوَةً، وَقُلْتُ: نَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا أَنْفُضُ لَكَ مَا حَوْلَكَ فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ مُقْبِلٍ بِغَنَمِهِ إِلَى الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا، فَقُلْتُ لَهُ: لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ، فَقَالَ: لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَكَّةَ، قُلْتُ: أَفِي غَنَمِكَ لَبَنٌ، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَفَتَحْلُبُ، قَالَ: نَعَمْ، فَأَخَذَ شَاةً، فَقُلْتُ: انْفُضْ الضَّرْعَ مِنَ التُّرَابِ وَالشَّعَرِ وَالْقَذَى، قَالَ: فَرَأَيْتُ الْبَرَاءَ يَضْرِبُ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى يَنْفُضُ فَحَلَبَ فِي قَعْبٍ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَمَعِي إِدَاوَةٌ حَمَلْتُهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَوِي مِنْهَا يَشْرَبُ وَيَتَوَضَّأُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ فَوَافَقْتُهُ حِينَ اسْتَيْقَظَ فَصَبَبْتُ مِنَ الْمَاءِ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ يَأْنِ لِلرَّحِيلِ، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَارْتَحَلْنَا بَعْدَ مَا مَالَتِ الشَّمْسُ وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقُلْتُ: أُتِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَطَمَتْ بِهِ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا أُرَى فِي جَلَدٍ مِنَ الْأَرْضِ شَكَّ زُهَيْرٌ، فَقَالَ: إِنِّي أُرَاكُمَا قَدْ دَعَوْتُمَا عَلَيَّ فَادْعُوَا لِي فَاللَّهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَجَا فَجَعَلَ لَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا، قَالَ: كَفَيْتُكُمْ مَا هُنَا فَلَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا رَدَّهُ، قَالَ: وَوَفَى لَنَا".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن یزید بن ابراہیم ابوالحسن حرانی نے، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے ابواسحٰق نے بیان کیا اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے والد کے پاس ان کے گھر آئے اور ان سے ایک پالان خریدا۔ پھر انہوں نے میرے والد سے کہا کہ اپنے بیٹے کے ذریعہ اسے میرے ساتھ بھیج دو۔ براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ میں اس کجاوے کو اٹھا کر آپ کے ساتھ چلا اور میرے والد اس کی قیمت کے روپے پرکھوانے لگے۔ میرے والد نے ان سے پوچھا اے ابوبکر! مجھے وہ واقعہ سنائیے جب آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار ثور سے ہجرت کی تھی تو آپ دونوں نے وہ وقت کیسے گزارا تھا؟ اس پر انہوں نے بیان کیا کہ جی ہاں، رات بھر تو ہم چلتے رہے اور دوسرے دن صبح کو بھی لیکن جب دوپہر کا وقت ہوا اور راستہ بالکل سنسان پڑ گیا کہ کوئی بھی آدمی گزرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا تھا تو ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی، اس کے سائے میں دھوپ نہیں تھی۔ ہم وہاں اتر گئے اور میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھ سے ٹھیک کر دی اور ایک چادر وہاں بچھا دی۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ یہاں آرام فرمائیں میں نگرانی کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور میں چاروں طرف حالات دیکھنے کے لیے نکلا۔ اتفاق سے مجھے ایک چرواہا ملا۔ وہ بھی اپنی بکریوں کے ریوڑ کو اسی چٹان کے سائے میں لانا چاہتا تھا جس کے تلے میں نے وہاں پڑاؤ ڈالا تھا۔ وہی اس کا بھی ارادہ تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے بتایا کہ مدینہ یا (راوی نے کہا کہ) مکہ کے فلاں شخص سے، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تیری بکریوں سے دودھ مل سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ میں نے پوچھا کیا ہمارے لیے تو دودھ نکال سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ وہ ایک بکری پکڑ کے لایا۔ میں نے اس سے کہا کہ پہلے تھن کو مٹی، بال اور دوسری گندگیوں سے صاف کر لے۔ ابواسحٰق راوی نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر تھن کو جھاڑنے کی صورت بیان کی۔ اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں دودھ نکالا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ آپ اس سے پانی پیا کرتے تھے اور وضو بھی کر لیتے تھے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (آپ سو رہے تھے) میں آپ کو جگانا پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن بعد میں جب میں آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے پہلے دودھ کے برتن پر پانی بہایا جب اس کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دودھ پی لیجئے، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا جس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی۔ پھر آپ نے فرمایا کیا ابھی کوچ کرنے کا وقت نہیں آیا؟ میں نے عرض کیا کہ آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا: جب سورج ڈھل گیا تو ہم نے کوچ کیا۔ بعد میں سراقہ بن مالک ہمارا پیچھا کرتا ہوا یہیں پہنچا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اب تو یہ ہمارے قریب ہی پہنچ گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غم نہ کرو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ نے پھر اس کے لیے بددعا کی اور اس کا گھوڑا اسے لیے ہوئے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ میرا خیال ہے کہ زمین بڑی سخت تھی۔ یہ شک (راوی حدیث) زہیر کو تھا۔ سراقہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے میرے لیے بددعا کی ہے۔ اگر اب آپ لوگ میرے لیے (اس مصیبت سے نجات کی) دعا کر دیں تو اللہ کی قسم میں آپ لوگوں کی تلاش میں آنے والے تمام لوگوں کو واپس لوٹا دوں گا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دعا کی تو وہ نجات پا گیا۔ پھر تو جو بھی اسے راستے میں ملتا اس سے وہ کہتا تھا کہ میں بہت تلاش کر چکا ہوں۔ قطعی طور پر وہ ادھر نہیں ہیں۔ اس طرح جو بھی ملتا اسے وہ واپس اپنے ساتھ لے جاتا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3615]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے والد کے گھر تشریف لائے اور ان سے ایک کجاوہ خریدا، پھر انہوں نے (میرے والد محترم) عازب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے بیٹے کو میرے ساتھ بھیجو کہ وہ اسے اٹھائے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان کے ہمراہ کجاوہ اٹھایا۔ جب میرے والد ان سے اس کی قیمت لینے گئے تو ان سے میرے والد نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ! مجھے بتائیں، جب آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کر کے گئے تھے تو تمہارے ساتھ کیا بیتی تھی؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم رات بھر چلتے رہے، اگلے دن بھی سفر جاری رکھا حتیٰ کہ دوپہر ہو گئی۔ راستہ بالکل سنسان تھا۔ ادھر سے کوئی آدمی گزرتا دکھائی نہ دیتا تھا۔ اس دوران میں ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی جس کے نیچے دھوپ نہ تھی بلکہ سایہ تھا، لہٰذا ہم نے وہاں پڑاؤ کیا۔ میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنے ہاتھ سے ایک جگہ ہموار کی، وہاں پوستین بچھائی اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہاں آرام فرمائیں، میں آپ کے آس پاس کی نگرانی کرتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور میں آس پاس کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے نکلا۔ اتفاق سے مجھے ایک چرواہا ملا۔ وہ بھی اپنی بکریوں کے ریوڑ کو اسی چٹان کے سائے میں لانا چاہتا تھا جس کے نیچے ہم نے پڑاؤ کیا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: برخوردار! تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے کہا: میں مدینہ طیبہ یا مکہ مکرمہ کے ایک شخص کا غلام ہوں۔ میں نے اس سے کہا: کیا تیری بکریوں سے دودھ مل سکتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا تو ہمارے لیے دودھ نکال سکتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، چنانچہ وہ ایک بکری پکڑ لایا تو میں نے اس سے کہا کہ اس کے تھنوں کو مٹی، بالوں اور دوسری الائشوں سے صاف کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مار کر تھن جھاڑنے کی صورت بیان کی۔ بہرحال اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں دودھ نکالا۔ میرے پاس ایک چھاگل تھی جو میں مکہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پانی پیتے اور وضو بھی کرتے تھے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ کو بیدار کرنا مناسب خیال نہ کیا لیکن اتفاق یہ ہوا کہ جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے دودھ میں کچھ پانی ڈالا تو وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے نوش فرمائیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پیا جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں ہوا؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، اب چلنے کا وقت ہو چکا ہے، چنانچہ ہم سورج ڈھلنے کے بعد وہاں سے چل پڑے۔ دوسری طرف سراقہ بن مالک ہمارا پیچھا کرتا ہوا وہاں آ پہنچا، میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی ہمارے پیچھے آ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾ [سورة التوبة: 40] فکر مت کرو، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا اس سمیت پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ زہیر راوی نے کہا: سخت زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ دونوں نے میرے لیے بددعا کی ہے، اب آپ دونوں میرے لیے دعا کیجیے۔ اللہ کی قسم! آپ سے میرا وعدہ ہے کہ میں آپ کو تلاش کرنے والوں کو واپس کر دوں گا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی تو اس نے (زمین سے) نجات حاصل کی۔ پھر وہ جس سے ملتا اسے کہتا کہ میں تلاش کر چکا ہوں، ادھر کوئی نہیں، وہ ہر ملنے والے کو یہ کہہ کر واپس لوٹا دیتا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا اسے پوری طرح نبھایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3615]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3616
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ، قَالَ:" لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَالَ لَهُ: لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: قُلْتُ: طَهُورٌ كَلَّا بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ أَوْ تَثُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَعَمْ إِذًا".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو فرماتے کوئی حرج نہیں، ان شاءاللہ یہ بخار گناہوں کو دھو دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے بھی یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ان شاءاللہ (یہ بخار) گناہوں کو دھو دے گا۔ اس نے اس پر کہا: آپ کہتے ہیں گناہوں کو دھونے والا ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہ تو نہایت شدید قسم کا بخار ہے یا (راوی نے) «تثور» کہا (دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے) کہ بخار ایک بوڑھے کھوسٹ پر جوش مار رہا ہے جو قبر کی زیارت کرائے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تو پھر یوں ہی ہو گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3616]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی (دیہاتی) کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی مریض کی بیمار پرسی کرتے تو اس طرح دعا کرتے: «لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ پاکیزگی کا باعث ہوگا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے بھی یہی کہا: کوئی حرج نہیں، اگر اللہ نے چاہا تو یہ گناہوں کی معافی کا سبب ہوگا۔ اس نے کہا: آپ کہتے ہیں کہ یہ بیماری گناہوں سے پاک کر دے گی؟ ہرگز نہیں، بلکہ یہ تو ایک سخت بخار ہے جو ایک بوڑھے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے اور اسے قبر میں لے جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اب ایسا ہی ہوگا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3616]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3617
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ وَقَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَكَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَادَ نَصْرَانِيًّا فَكَانَ، يَقُولُ: مَا يَدْرِي مُحَمَّدٌ إِلَّا مَا كَتَبْتُ لَهُ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ فَدَفَنُوهُ فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ، فَقَالُوا: هَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ فَأَعْمَقُوا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ، فَقَالُوا: هَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ وَأَعْمَقُوا لَهُ فِي الْأَرْضِ مَا اسْتَطَاعُوا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ فَعَلِمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ فَأَلْقَوْهُ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص پہلے عیسائی تھا۔ پھر وہ اسلام میں داخل ہو گیا تھا۔ اس نے سورۃ البقرہ اور آل عمران پڑھ لی تھی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی بن گیا لیکن پھر وہ شخص مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا انہیں اور کچھ بھی معلوم نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی موت واقع ہو گئی اور اس کے آدمیوں نے اسے دفن کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر سے نکل کر زمین کے اوپر پڑی ہے۔ عیسائی لوگوں نے کہا کہ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے ساتھیوں کا کام ہے۔ چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے انہوں نے اس کی قبر کھودی ہے اور لاش کو باہر نکال کر پھینک دیا ہے۔ چنانچہ دوسری قبر انہوں نے کھودی جو بہت زیادہ گہری تھی۔ لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے۔ پھر انہوں نے قبر کھودی اور جتنی گہری ان کے بس میں تھی کر کے اسے اس کے اندر ڈال دیا لیکن صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اب انہیں یقین آیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے (بلکہ یہ میت اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہے) چنانچہ انہوں نے اسے یونہی (زمین پر) ڈال دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3617]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک نصرانی (عیسائی) شخص نے مسلمان ہو کر سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھ لی۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی کی کتابت کرنے لگا۔ اس کے بعد وہ پھر نصرانی ہو گیا اور کہنے لگا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف وہ کچھ جانتے ہیں جو میں نے ان کے لیے لکھ دیا ہے، چنانچہ اللہ نے اسے موت دے دی تو لوگوں نے اسے دفن کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ زمین نے اس کی لاش باہر پھینک دی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے کیونکہ یہ ان کے پاس سے بھاگ آیا تھا، اس لیے ہمارے ساتھی کی قبر انہوں نے کھود ڈالی ہے۔ پھر انہوں نے اسے قبر میں رکھ کر بہت گہرائی میں دفن کر دیا مگر صبح کو زمین نے اس کی لاش پھر باہر پھینک دی۔ اس پر لوگوں نے یہی کہا کہ یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کا فعل ہے۔ انہوں نے ہمارے ساتھی کی قبر اکھاڑی ہے کیونکہ وہ ان کے پاس سے بھاگ آیا تھا۔ انہوں نے اس کی قبر پھر اور زیادہ گہری کھودی جتنا کہ ان کے بس میں تھا لیکن صبح کے وقت اس کی لاش پھر زمین نے باہر پھینک دی۔ تب لوگوں نے یقین کیا کہ یہ آدمیوں کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے، لہٰذا انہوں نے اس کو اسی طرح پھینک دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3617]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3618
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ (شاہ ایران) ہلاک ہو جائے گا تو پھر کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں ضرور خرچ کرو گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3618]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسریٰ ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا۔ اور مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3618]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3619
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَفَعَهُ، قَالَ:" إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ وَذَكَرَ، وَقَالَ: لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے اور ان سے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہو گا اور جب قیصر ہلاک ہوا تو کوئی قیصر پھر پیدا نہیں ہو گا اور راوی نے (پہلی حدیث کی طرح اس حدیث کو بھی بیان کیا اور) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3619]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسریٰ ہلاک ہوگا تو پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا اور جب قیصر مرے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کیے جائیں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3619]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3620
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ، يَقُولُ: إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ وَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ كَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةُ جَرِيدٍ حَتَّى وَقَفَ عَلَى مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُكَهَا وَلَنْ تَعْدُوَ أَمْرَ اللَّهِ فِيكَ وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ ليَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ، وَإِنِّي لَأَرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيكَ مَا رَأَيْتُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب مدینہ میں آیا اور یہ کہنے لگا کہ اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) امر (یعنی خلافت) کو اپنے بعد مجھے سونپ دیں تو میں ان کی اتباع کے لیے تیار ہوں۔ مسیلمہ اپنے بہت سے مریدوں کو ساتھ لے کر مدینہ آیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس (اسے سمجھانے کے لیے) تشریف لے گئے۔ آپ کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے اور آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آپ وہاں ٹھہر گئے جہاں مسیلمہ اپنے آدمیوں کے ساتھ موجود تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اگر تو مجھ سے چھڑی بھی مانگے تو میں تجھے نہیں دے سکتا (خلافت تو بڑی چیز ہے) اور پروردگار کی مرضی کو تو ٹال نہیں سکتا اگر تو اسلام سے پیٹھ پھیرے گا تو اللہ تجھ کو تباہ کر دے گا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ تو وہی ہے جو مجھے (خواب میں) دکھایا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3620]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسیلمہ کذاب آیا اور کہنے لگا: اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد خلافت میرے لیے مقرر کر دیں تو میں آپ کی پیروی کر لیتا ہوں، اور وہ اپنی قوم کے بہت سے آدمیوں کو لے کر آیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے جبکہ آپ کے ہمراہ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے اور آپ کے ہاتھ میں کھجور کی شاخ کا ایک ٹکڑا تھا، یہاں تک کہ آپ مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں کے پاس آکر ٹھہر گئے اور فرمایا: اگر تو مجھ سے شاخ کا یہ ٹکڑا بھی مانگے تو میں تجھے یہ بھی نہیں دوں گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو تیرے حق میں فیصلہ کر رکھا ہے تو اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اگر تو نے میری اطاعت سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے گا۔ اور میں تجھے وہی شخص خیال کرتا ہوں جو میں خواب میں دکھایا گیا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3620]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں