🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلاَمِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3601
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي وَمَنْ يُشْرِفْ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ وَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَعُذْ بِهِ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنوں کا دور جب آئے گا تو اس میں بیٹھنے والا کھڑا رہنے والے سے بہتر ہو گا، کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا جو اس میں جھانکے گا فتنہ بھی اسے اچک لے گا اور اس وقت جسے جہاں بھی پناہ مل جائے بس وہیں پناہ پکڑ لے تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے بچا سکے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3601]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنوں کا دور دورہ ہوگا۔ ان میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اور جو اس میں جھانکے گا، فتنہ اسے بھی اچک لے گا، اس لیے جو کوئی جہاں جگہ یا پناہ پائے وہاں چلا جائے (تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے بچا سکے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3601]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3602
وَعَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا إِلَّا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ يَزِيدُ مِنَ الصَّلَاةِ صَلَاةٌ مَنْ فَاتَتْهُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ".
اور ابن شہاب سے روایت ہے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن مطیع بن اسود نے اور ان سے نوفل بن معاویہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اسی حدیث کی طرح البتہ ابوبکر (راوی حدیث) نے اس روایت میں اتنا اور زیادہ بیان کیا کہ نمازوں میں ایک نماز ایسی ہے کہ جس سے وہ چھوٹ جائے گویا اس کا گھربار سب برباد ہو گئے۔ (اور وہ عصر کی نماز ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3602]
حضرت نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کی طرح بیان کیا، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: نمازوں میں ایک نماز ہے جس سے وہ فوت ہو جائے گویا اس کا اہل و عیال اور مال و متاع سب لوٹ لیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3602]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3603
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"سَتَكُونُ أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا، قَالَ: تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں زید بن وہب نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا۔ (یعنی صبر کرنا اور اپنا حق لینے کے لیے خلیفہ اور حاکم وقت سے بغاوت نہ کرنا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3603]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: عنقریب دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی اور ایسے امور ہوں گے جنھیں تم ناپسند کرو گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو فرائض تمہارے ذمے ہیں تم انہیں پوری ذمہ داری سے ادا کرتے رہو اور جو تمہارا حق ہے وہ اللہ سے مانگو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3603]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3604
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُهْلِكُ النَّاسَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا، قَالَ: لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ"، قَالَ مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ.
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعمر اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قبیلہ قریش کے بعض آدمی لوگوں کو ہلاک و برباد کر دیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا: ایسے وقت کے لیے آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش لوگ ان سے بس الگ ہی رہتے۔ محمود بن غیلان نے بیان کیا کہ ہم سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوالتیاح نے، انہوں نے ابوزرعہ سے سنا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3604]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو یہ قبیلہ قریش ہلاک کر دے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ایسے حالات میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش! اس وقت لوگ ان سے الگ رہیں۔ شعبہ کے ایک دوسرے طریق میں ابوالتیاح کی ابوزرعہ سے سماع کی تصریح ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3604]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3605
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ مَرْوَانَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، فَسَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقُ، يَقُولُ:" هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ مَرْوَانُ: غِلْمَةٌ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنْ شِئْتَ أَنْ أُسَمِّيَهُمْ بَنِي فُلَانٍ وَبَنِي فُلَانٍ".
مجھ سے احمد محمد مکی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید اموی نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا نے بیان کیا کہ میں مروان بن حکم اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اس وقت میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے سچوں کے سچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری امت کی بربادی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں پر ہو گی۔ مروان نے پوچھا: نوجوان لڑکوں کے ہاتھ پر؟ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں ان کے نام بھی لے دوں کہ وہ بنی فلاں اور بنی فلاں ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3605]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری امت کی ہلاکت قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں ہوگی۔ مروان نے ازراہ تعجب کہا: نوجوانوں کے ہاتھوں سے؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو چاہتا ہے تو میں ان کے نام ذکر کیے دیتا ہوں: وہ فلاں فلاں کے بیٹے ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3605]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3606
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ، قَالَ: نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ، قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ، قَالَ: قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ، قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ، قَالَ: نَعَمْ دُعَاةٌ إِلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا، فَقَالَ: هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ، قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ، قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن جابر نے، کہا کہ مجھ سے بسر بن عبیداللہ حضرمی نے، کہا کہ مجھ سے ابوادریس خولانی نے بیان کیا، انہوں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ دوسرے صحابہ کرام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کیا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میں ان میں نہ پھنس جاؤں۔ تو میں نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے زمانے میں تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر و برکت (اسلام کی) عطا فرمائی، اب کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، میں نے سوال کیا، اور اس شر کے بعد پھر خیر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، لیکن اس خیر پر کچھ دھواں ہو گا۔ میں نے عرض کیا وہ دھواں کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میری سنت اور طریقے کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کریں گے۔ ان میں کوئی بات اچھی ہو گی کوئی بری۔ میں نے سوال کیا: کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کی بات قبول کرے گا اسے وہ جہنم میں جھونک دیں گے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کے اوصاف بھی بیان فرما دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ ہماری ہی قوم و مذہب کے ہوں گے۔ ہماری ہی زبان بولیں گے۔ میں نے عرض کیا، پھر اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لیے آپ کا حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا، میں نے عرض کیا اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان تمام فرقوں سے اپنے کو الگ رکھنا۔ اگرچہ تجھے اس کے لیے کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے، یہاں تک کہ تیری موت آ جائے اور تو اسی حالت پر ہو (تو یہ تیرے حق میں ان کی صحبت میں رہنے سے بہتر ہو گا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3606]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھا کرتے تھے جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے متعلق سوال کرتا تھا، اس اندیشے کے پیش نظر کہ مبادا میں اس کا شکار ہو جاؤں، چنانچہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم جاہلیت اور شر کے زمانے میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر و برکت سے سرفراز فرمایا، کیا اب اس خیر کے بعد پھر کوئی شر کا وقت آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کیا: اس شر کے بعد پھر خیر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن اس خیر میں کچھ دھواں ہو گا۔ میں نے عرض کیا: وہ دھواں کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میری سنت اور طریقے کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کریں گے۔ تم ان میں اچھی اور بری چیزیں دیکھو گے۔ میں نے عرض کیا: آیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جہنم کی طرف بلانے والے لوگ ہوں گے، جو ان کی بات مانیں گے وہ ان کو جہنم میں جھونک دیں گے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمارے لیے ان کے کچھ اوصاف بیان فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہماری ہی قوم سے ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولیں گے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے حالات میں مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا۔ میں نے پوچھا: اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور ان کا کوئی امام بھی نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم ان تمام فرقوں سے الگ رہو اگرچہ تمھیں کسی درخت کی جڑ ہی چبانی پڑے یہاں تک کہ اسی حالت میں تمھیں موت آ جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3606]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3607
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" تَعَلَّمَ أَصْحَابِي الْخَيْرَ وَتَعَلَّمْتُ الشَّرَّ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے قیس نے بیان کیا، ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھیوں نے (یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم نے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھلائی کے حالات سیکھے اور میں نے برائی کے حالات دریافت کئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3607]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے ساتھیوں نے بھلائی کے حالات سیکھے جبکہ میں برائی کے متعلق معلومات حاصل کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3607]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3608
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَتِلَ فِئَتَانِ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ".
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے ابوسلمہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو جماعتیں (مسلمانوں کی) آپس میں جنگ نہ کر لیں اور دونوں کا دعویٰ ایک ہو گا (کہ وہ حق پر ہیں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3608]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو جماعتیں آپس میں جنگ نہ کر لیں جن کا دعویٰ ایک ہی ہوگا (کہ ہم حق پر ہیں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3608]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3609
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَتِلَ فِئَتَانِ فَيَكُونَ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِينَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو جماعتیں آپس میں جنگ نہ کر لیں۔ دونوں میں بڑی بھاری جنگ ہو گی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تقریباً تیس جھوٹے دجال پیدا نہ ہو لیں۔ ان میں ہر ایک کا یہی گمان ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3609]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہو گی حتیٰ کہ دو گروہ لڑیں گے اور ان میں عظیم جنگ برپا ہو گی، ان کا دعویٰ ایک ہو گا۔ اور قیامت قائم نہ ہو گی حتیٰ کہ تیس کے قریب جھوٹ بولنے والے دجال پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3609]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3610
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ قِسْمًا أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ، فَقَالَ:"وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ قَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ، إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ" فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ:" دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصَافِهِ فَمَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ وَهُوَ قِدْحُهُ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ فَأَمَرَ بِذَلِكَ الرَّجُلِ فَالْتُمِسَ فَأُتِيَ بِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَهُ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جنگ حنین کا مال غنیمت) تقسیم فرما رہے تھے اتنے میں بنی تمیم کا ایک شخص ذوالخویصرہ نامی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! انصاف سے کام لیجئے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس! اگر میں ہی انصاف نہ کروں تو دنیا میں پھر کون انصاف کرے گا۔ اگر میں ظالم ہو جاؤں تب تو میری بھی تباہی اور بربادی ہو جائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس کے بارے میں مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔ اس کے جوڑ کے کچھ لوگ پیدا ہوں گے کہ تم اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابل ناچیز سمجھو گے۔ وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے زور دار تیر جانور سے پار ہو جاتا ہے۔ اس تیر کے پھل کو اگر دیکھا جائے تو اس میں کوئی چیز (خون وغیرہ) نظر نہ آئے گی پھر اس کے پٹھے کو اگر دیکھا جائے تو چھڑ میں اس کے پھل کے داخل ہونے کی جگہ سے اوپر جو لگایا جاتا ہے تو وہاں بھی کچھ نہ ملے گا۔ اس کے نفی (نفی تیر میں لگائی جانے والی لکڑی کو کہتے ہیں) کو دیکھا جائے تو وہاں بھی کچھ نشان نہیں ملے گا۔ اسی طرح اگر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا۔ حالانکہ گندگی اور خون سے وہ تیر گزرا ہے۔ ان کی علامت ایک کالا شخص ہو گا۔ اس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح (اٹھا ہوا) ہو گا یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گا اور حرکت کر رہا ہو گا۔ یہ لوگ مسلمانوں کے بہترین گروہ سے بغاوت کریں گے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی تھی (یعنی خوارج سے) اس وقت میں بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اور انہوں نے اس شخص کو تلاش کرایا (جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گروہ کی علامت کے طور پر بتلایا تھا) آخر وہ لایا گیا۔ میں نے اسے دیکھا تو اس کا پورا حلیہ بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کئے ہوئے اوصاف کے مطابق تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3610]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جبکہ آپ مالِ غنیمت تقسیم کرنے میں مصروف تھے۔ اس دوران میں آپ کے پاس ذوالخویصرہ نامی ایک شخص آیا جو قبیلہ بنی تمیم سے تھا۔ اس نے آتے ہی کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ انصاف سے کام لیں۔ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری ہلاکت ہو! اگر میں ہی انصاف نہ کروں تو پھر کون انصاف کرے گا؟ اگر میں ظالم ہو جاؤں تو ناکام اور خسارے میں رہ گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے متعلق مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن تن سے جدا کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے صرف نظر کرو۔ اس شخص کے ساتھی ہوں گے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں حقیر خیال کرے گا اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں ناچیز سمجھے گا۔ وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے زور دار تیر شکار سے پار ہو جاتا ہے۔ اگر اس تیر کے پھل کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی چیز نظر نہ آئے گی۔ اگر اس کے پٹھے کو دیکھا جائے تو وہاں بھی کچھ نہ ملے۔ اگر اس کی لکڑی کو دیکھا جائے تو وہاں بھی کسی چیز کا نشان نہ ملے گا۔ اس طرح اگر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کوئی چیز نظر نہ آئے گی حالانکہ وہ تیر گوبر اور خون سے گزر کر آیا ہے۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک سیاہ فام آدمی ہو گا جس کا ایک بازو عورت کے پستان یا گوشت کے ٹکڑے کی طرح ہو گا اور حرکت کر رہا ہو گا۔ وہ اس وقت ظاہر ہوں گے جب لوگ افتراق و انتشار کا شکار ہوں گے۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی تھی جبکہ میں ان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے اس شخص کے متعلق حکم دیا تو اسے تلاش کر کے لایا گیا۔ جب میں نے اسے بغور دیکھا تو اسی صفت پر پایا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق بیان فرمائی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَنَاقِبِ/حدیث: 3610]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں