صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ هِجْرَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
حدیث نمبر: 3906
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ، يَقُولُ: جَاءَنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَنْ قَتَلَهُ أَوْ أَسَرَهُ , فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ جُلُوسٌ، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ , إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ أُرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، قَالَ سُرَاقَةُ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ وَلَكِنَّكَ رَأَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا انْطَلَقُوا بِأَعْيُنِنَا , ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً , ثُمَّ قُمْتُ فَدَخَلْتُ فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تَخْرُجَ بِفَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ , وَأَخَذْتُ رُمْحِي فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ فَحَطَطْتُ بِزُجِّهِ الْأَرْضَ وَخَفَضْتُ عَالِيَهُ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي , فَرَكِبْتُهَا فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى دَنَوْتُ مِنْهُمْ , فَعَثَرَتْ بِي فَرَسِي فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَقُمْتُ , فَأَهْوَيْتُ يَدِي إِلَى كِنَانَتِي , فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْهَا الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا أَضُرُّهُمْ أَمْ لَا فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ , فَرَكِبْتُ فَرَسِي وَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ تُقَرِّبُ بِي حَتَّى إِذَا سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الِالْتِفَاتَ , سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ فَخَرَرْتُ عَنْهَا , ثُمَّ زَجَرْتُهَا فَنَهَضَتْ فَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا , فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً إِذَا لِأَثَرِ يَدَيْهَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ مِثْلُ الدُّخَانِ , فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْأَزْلَامِ فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ فَنَادَيْتُهُمْ بِالْأَمَانِ , فَوَقَفُوا فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمْ وَوَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مَا لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنْ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ , وَأَخْبَرْتُهُمْ أَخْبَارَ مَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ , وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ فَلَمْ يَرْزَآنِي وَلَمْ يَسْأَلَانِي إِلَّا أَنْ، قَالَ:" أَخْفِ عَنَّا" , فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ أَمْنٍ فَأَمَرَ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَفَكَتَبَ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدِيمٍ , ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ الزُّبَيْرَ فِي رَكْبٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا تِجَارًا قَافِلِينَ مِنْ الشَّأْمِ فَكَسَا الزُّبَيْرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ ثِيَابَ بَيَاضٍ , وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِينَةِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ فَكَانُوا يَغْدُونَ كُلَّ غَدَاةٍ إِلَى الْحَرَّةِ , فَيَنْتَظِرُونَهُ حَتَّى يَرُدَّهُمْ حَرُّ الظَّهِيرَةِ , فَانْقَلَبُوا يَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَهُمْ , فَلَمَّا أَوَوْا إِلَى بُيُوتِهِمْ أَوْفَى رَجُلٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِهِمْ لِأَمْرٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ , فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مُبَيَّضِينَ يَزُولُ بِهِمُ السَّرَابُ , فَلَمْ يَمْلِكِ الْيَهُودِيُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ هَذَا جَدُّكُمُ الَّذِي تَنْتَظِرُونَ , فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى السِّلَاحِ فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِ الْحَرَّةِ , فَعَدَلَ بِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِكَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ , فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّاسِ وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامِتًا , فَطَفِقَ مَنْ جَاءَ مِنْ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَيِّي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى أَصَابَتِ الشَّمْسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى ظَلَّلَ عَلَيْهِ بِرِدَائِهِ , فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ , فَلَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً , وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى , وَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِي مَعَهُ النَّاسُ حَتَّى بَرَكَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُصَلِّي فِيهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , وَكَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسُهَيْلٍ وَسَهْلٍ غُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي حَجْرِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ:" هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْمَنْزِلُ" , ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلَامَيْنِ فَسَاوَمَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا، فَقَالَا: لَا بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ اللَّبِنَ فِي بُنْيَانِهِ، وَيَقُولُ: وَهُوَ يَنْقُلُ اللَّبِنَ هَذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَرْ هَذَا أَبَرُّ رَبَّنَا وَأَطْهَرْ وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّ الْأَجْرَ أَجْرُ الْآخِرَهْ فَارْحَمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ , فَتَمَثَّلَ بِشِعْرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يُسَمَّ لِي، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَمْ يَبْلُغْنَا فِي الْأَحَادِيثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ تَامٍّ غَيْرَ هَذَا الْبَيْتِ".
ابن شہاب نے بیان کیا اور مجھے عبدالرحمٰن بن مالک مدلجی نے خبر دی، وہ سراقہ بن مالک بن جعشم کے بھتیجے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں خبر دی اور انہوں نے سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے اور یہ پیش کش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اگر کوئی شخص قتل کر دے یا قید کر لائے تو اسے ہر ایک کے بدلے میں ایک سو اونٹ دیئے جائیں گے۔ میں اپنی قوم بنی مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان کا ایک آدمی سامنے آیا اور ہمارے قریب کھڑا ہو گیا۔ ہم ابھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا سراقہ! ساحل پر میں ابھی چند سائے دیکھ کر آ رہا ہوں میرا خیال ہے کہ وہ محمد اور ان کے ساتھی ہی ہیں ( صلی اللہ علیہ وسلم )۔ سراقہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں سمجھ گیا اس کا خیال صحیح ہے لیکن میں نے اس سے کہا کہ وہ لوگ نہیں ہیں میں نے فلاں فلاں آدمی کو دیکھا ہے ہمارے سامنے سے اسی طرف گئے ہیں۔ اس کے بعد میں مجلس میں تھوڑی دیر اور بیٹھا رہا اور پھر اٹھتے ہی گھر گیا اور لونڈی سے کہا کہ میرے گھوڑے کو لے کر ٹیلے کے پیچھے چلی جائے اور وہیں میرا انتظار کرے، اس کے بعد میں نے اپنا نیزہ اٹھایا اور گھر کی پشت کی طرف سے باہر نکل آیا میں نیزے کی نوک سے زمین پر لکیر کھینچتا ہوا چلا گیا اور اوپر کے حصے کو چھپائے ہوئے تھا۔ (سراقہ یہ سب کچھ اس لیے کر رہا تھا کہ کسی کو خبر نہ ہو ورنہ وہ بھی میرے انعام میں شریک ہو جائے گا) میں گھوڑے کے پاس آ کر اس پر سوار ہوا اور صبا رفتاری کے ساتھ اسے لے چلا، جتنی جلدی کے ساتھ بھی میرے لیے ممکن تھا، آخر میں نے ان کو پا ہی لیا۔ اسی وقت گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور مجھے زمین پر گرا دیا۔ لیکن میں کھڑا ہو گیا اور اپنا ہاتھ ترکش کی طرف بڑھایا اس میں سے تیر نکال کر میں نے فال نکالی کہ آیا میں انہیں نقصان پہنچا سکتا ہوں یا نہیں۔ فال (اب بھی) وہ نکلی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن میں دوبارہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور تیروں کے فال کی پرواہ نہیں کی۔ پھر میرا گھوڑا مجھے تیزی کے ساتھ دوڑائے لیے جا رہا تھا۔ آخر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت سنی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کوئی توجہ نہیں کر رہے تھے لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ باربار مڑ کر دیکھتے تھے، تو میرے گھوڑے کے آگے کے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے جب وہ ٹخنوں تک دھنس گیا تو میں اس کے اوپر گر پڑا اور اسے اٹھنے کے لیے ڈانٹا میں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے پاؤں زمین سے نہیں نکال سکا۔ بڑی مشکل سے جب اس نے پوری طرح کھڑے ہونے کی کوشش کی تو اس کے آگے کے پاؤں سے منتشر سا غبار اٹھ کر دھوئیں کی طرح آسمان کی طرف چڑھنے لگا۔ میں نے تیروں سے فال نکالی لیکن اس مرتبہ بھی وہی فال آئی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا۔ اس وقت میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو امان کے لیے پکارا۔ میری آواز پر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا۔ ان تک برے ارادے کے ساتھ پہنچنے سے جس طرح مجھے روک دیا گیا تھا۔ اسی سے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت غالب آ کر رہے گی۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کے مارنے کے لیے سو اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ پھر میں نے آپ کو قریش کے ارادوں کی اطلاع دی۔ میں نے ان حضرات کی خدمت میں کچھ توشہ اور سامان پیش کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا مجھ سے کسی اور چیز کا بھی مطالبہ نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ ہمارے متعلق راز داری سے کام لینا لیکن میں نے عرض کیا کہ آپ میرے لیے ایک امن کی تحریر لکھ دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے چمڑے کے ایک رقعہ پر تحریر امن لکھ دی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے۔ ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام سے واپس آ رہے تھے۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سفید پوشاک پیش کی۔ ادھر مدینہ میں بھی مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے ہجرت کی اطلاع ہو چکی تھی اور یہ لوگ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک آتے اور انتظار کرتے رہتے لیکن دوپہر کی گرمی کی وجہ سے (دوپہر کو) انہیں واپس جانا پڑتا تھا۔ ایک دن جب بہت طویل انتظار کے بعد سب لوگ آ گئے اور اپنے گھر پہنچ گئے تو ایک یہودی اپنے ایک محل پر کچھ دیکھنے چڑھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا سفید سفید چلے آ رہے ہیں۔ (یا تیزی سے جلدی جلدی آ رہے ہیں) جتنا آپ نزدیک ہو رہے تھے اتنی ہی دور سے پانی کی طرح ریتی کا چمکنا کم ہوتا جاتا۔ یہودی بے اختیار چلا اٹھا کہ اے عرب کے لوگو! تمہارے یہ بزرگ سردار آ گئے جن کا تمہیں انتظار تھا۔ مسلمان ہتھیار لے کر دوڑ پڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام حرہ پر استقبال کیا۔ آپ نے ان کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں قیام کیا۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ اور پیر کا دن تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں سے ملنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے۔ انصار کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو سلام کر رہے تھے۔ لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ پڑنے لگی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا۔ اس وقت سب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عمرو بن عوف میں تقریباً دس راتوں تک قیام کیا اور وہ مسجد (قباء) جس کی بنیاد تقویٰ پر قائم ہے وہ اسی دوران میں تعمیر ہوئی اور آپ نے اس میں نماز پڑھی پھر (جمعہ کے دن) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور صحابہ بھی آپ کے ساتھ پیدل روانہ ہوئے۔ آخر آپ کی سواری مدینہ منورہ میں اس مقام پر آ کر بیٹھ گئی جہاں اب مسجد نبوی ہے۔ اس مقام پر چند مسلمان ان دنوں نماز ادا کیا کرتے تھے۔ یہ جگہ سہیل اور سہل (رضی اللہ عنہما) دو یتیم بچوں کی تھی اور کھجور کا یہاں کھلیان لگتا تھا۔ یہ دونوں بچے اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے جب آپ کی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاءاللہ یہی ہمارے قیام کی جگہ ہو گی۔ اس کے بعد آپ نے دونوں یتیم بچوں کو بلایا اور ان سے اس جگہ کا معاملہ کرنا چاہا تاکہ وہاں مسجد تعمیر کی جا سکے۔ دونوں بچوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! ہم یہ جگہ آپ کو مفت دے دیں گے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مفت طور پر قبول کرنے سے انکار کیا۔ زمین کی قیمت ادا کر کے لے لی اور وہیں مسجد تعمیر کی۔ اس کی تعمیر کے وقت خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ اینٹوں کے ڈھونے میں شریک تھے۔ اینٹ ڈھوتے وقت آپ فرماتے جاتے تھے کہ ”یہ بوجھ خیبر کے بوجھ نہیں ہیں بلکہ اس کا اجر و ثواب اللہ کے یہاں باقی رہنے والا ہے اس میں بہت طہارت اور پاکی ہے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تھے کہ ”اے اللہ! اجر تو بس آخرت ہی کا ہے پس، تو انصار اور مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما۔“ اس طرح آپ نے ایک مسلمان شاعر کا شعر پڑھا جن کا نام مجھے معلوم نہیں، ابن شہاب نے بیان کیا کہ احادیث سے ہمیں یہ اب تک معلوم نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر کے سوا کسی بھی شاعر کے پورے شعر کو کسی موقعہ پر پڑھا ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3906]
حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہمارے پاس کفارِ قریش کے قاصد آئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس امر کا اعلان کر رہے تھے کہ جو شخص انہیں قتل کر دے یا زندہ گرفتار کر کے لائے تو ہر ایک کے بدلے ایک سو اونٹ اسے بطور انعام دیے جائیں گے، چنانچہ میں ایک وقت اپنی قوم بنو مدلج کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک آدمی آیا اور ہمارے پاس کھڑا ہو گیا جبکہ ہم بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا: ”اے سراقہ! میں نے ابھی ابھی ساحل پر چند لوگ دیکھے ہیں۔ میں انہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھی خیال کرتا ہوں۔“ سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ہیں مگر میں نے ایسے ہی اس سے کہہ دیا: وہ نہیں ہوں گے بلکہ تو نے فلاں فلاں کو دیکھا ہو گا جو ابھی ہمارے سامنے سے گئے ہیں جو اپنا گم شدہ کوئی جانور تلاش کر رہے تھے۔“ اس کے بعد میں تھوڑی دیر تک اس مجلس میں ٹھہرا رہا، پھر کھڑا ہوا اور اپنے گھر جا کر خادمہ سے کہا کہ وہ میرا گھوڑا لے کر باہر جائے اور اس کو ٹیلے کے پیچھے لے کر کھڑی رہے۔ پھر میں نے اپنا نیزہ سنبھالا اور مکان کی پچھلی جانب سے نکلا۔ نیزے کی نوک سے زمین پر خط لگا رہا تھا اور اس کا اوپر والا حصہ نیچے کیے ہوئے تھا۔ اس طرح میں اپنے گھوڑے کے پاس آیا اور اس پر سوار ہو گیا۔ پھر اسے ہوا کی طرح سرپٹ دوڑایا تاکہ مجھے جلدی پہنچائے۔ لیکن جب میں ان کے قریب ہو گیا تو میرے گھوڑے نے ایسی ٹھوکر کھائی کہ میں گھوڑے سے گر پڑا۔ میں کھڑا ہوا اور ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس میں سے تیر نکال کر فال لی کہ میں ان لوگوں کو نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں؟ تو وہ بات سامنے آئی جو مجھے ناگوار تھی، مگر میں پھر بھی اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور تیروں کی فال کو تسلیم نہ کیا۔ میرا گھوڑا مجھے لے کر پھر اتنا قریب پہنچ گیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے جبکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اِدھر اُدھر بہت دیکھ رہے تھے۔ اتنے میں میرے گھوڑے کے اگلے دونوں پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور خود میں بھی اس کے اوپر سے گر پڑا۔ پھر میں نے گھوڑے کو ڈانٹا تو بڑی مشکل سے اس کے پاؤں نکلے، مگر جب وہ سیدھا ہوا تو اس کے اگلے دونوں پاؤں سے دھویں کی طرح غبار نمودار ہوا جو آسمان تک پھیل گیا۔ میں نے پھر تیروں سے فال لی تو وہی نکلا جسے میں برا جانتا تھا۔ آخر میں نے انہیں امان کے ساتھ آواز دی تو وہ ٹھہر گئے۔ پھر میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا اور جب مجھے ان تک پہنچنے میں رکاوٹیں پیش آئیں تو میرے دل میں خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ضرور بول بالا ہو گا، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ آپ کی قوم نے آپ کے متعلق سو اونٹ مقرر کر رکھے ہیں۔ پھر میں نے وہ باتیں بیان کیں جو وہ لوگ آپ کے ساتھ کرنا چاہتے تھے۔ بعد ازاں میں نے انہیں زادِ راہ اور کچھ سامان پیش کیا، لیکن انہوں نے نہ تو میرے مال میں کمی کی اور نہ کچھ مانگا ہی، البتہ یہ ضرور کہا: ”ہمارا حال لوگوں سے پوشیدہ رکھیں۔“ میں نے ان سے درخواست کی کہ میرے لیے ایک تحریرِ امن لکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا جس نے مجھے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر سندِ امان لکھ دی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہو گئے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سوداگر مسلمانوں کی ایک جماعت سے ہوئی جو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت ملک شام سے آ رہی تھی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سفید پوشاک پہنائی۔ ادھر مسلمان اہل مدینہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کی خبر پہنچی تو وہ لوگ مقامِ حرہ تک ہر روز صبح آپ کے استقبال کے لیے آتے اور آپ کا انتظار کرتے، پھر دوپہر کی گرمی انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیتی، چنانچہ وہ ایک روز حسب معمول بہت انتظار کے بعد واپس آ گئے اور اپنے گھروں میں بیٹھے تھے کہ ایک یہودی کسی کام کی خاطر، اپنے قلعوں میں سے کسی قلعے پر چڑھا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو سفید لباس میں ملبوس دیکھا۔ جس قدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نزدیک ہو رہے تھے اتنا ہی دور سے سراب کم ہوتا جاتا تھا تب اس یہودی سے نہ رہا گیا اور وہ فوراً بآوازِ بلند پکار اٹھا: ”اے جماعتِ عرب! یہ ہے تمہارا بلند مرتبہ معزز سردار جس کا تم شدت سے انتظار کر رہے تھے۔“ یہ سنتے ہی مسلمان ہتھیار لے کر آپ کے استقبال کو دوڑے، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ حرہ کے پیچھے ملے، انہیں ساتھ لیے دائیں مڑے، پھر انہوں نے بنو عمرو بن عوف کے ہاں پڑاؤ کیا۔ یہ واقعہ ماہِ ربیع الاول سوموار کے دن کا ہے۔ الغرض حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر لوگوں سے ملنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے یہاں تک کہ وہ انصاری جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو سلام کرتے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ آ گئی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی چادر کا سایہ کیا تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے ہاں تقریباً دس راتیں قیام پذیر رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں اس مسجد کی بنیاد رکھی جس کی اساس تقویٰ پر ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ چل رہے تھے۔ آپ کی اونٹنی مدینہ طیبہ میں مسجد نبوی کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ اس میں اس وقت کچھ مسلمان نماز پڑھتے تھے اور وہ سہل اور سہیل دو یتیم بچوں کی کھجوروں کا کھلیان تھا جو حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی کفالت میں تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ یہی مقام ہو گا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بچوں کو بلایا اور ان سے کھلیان کی قیمت معلوم کی تاکہ اسے مسجد بنا سکیں۔ ان دونوں نے کہا: ”ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے بلکہ اللہ کے رسول! ہم یہ زمین آپ کو ہبہ کرتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبہ منظور نہ فرمایا بلکہ قیمت دے کر ان سے وہ جگہ خرید لی اور وہاں مسجد کی بنیاد رکھی اور اس مسجد کی تعمیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں کے ساتھ اینٹیں اٹھاتے اور فرماتے: ”یہ بوجھ اٹھانا کوئی خیبر کا بوجھ اٹھانا نہیں۔ اے ہمارے رب! یہ تو باعثِ ثواب اور پاکیزہ کام ہے۔“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اے اللہ! ثواب تو آخر ہی کا ثواب ہے۔ اے اللہ! تو انصار اور مہاجرین پر رحم فرما۔“ راوی کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کا شعر پڑھا جس کے نام کا مجھے علم نہیں۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: احادیث میں ہمیں معلوم نہیں ہو سکا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیت کے علاوہ کسی کا پورا شعر پڑھا ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3906]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3907
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ , وَفَاطِمَةَ , عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، صَنَعْتُ سُفْرَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَا الْمَدِينَةَ، فَقُلْتُ: لِأَبِي مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُهُ إِلَّا نِطَاقِي، قَالَ: فَشُقِّيهِ , فَفَعَلْتُ فَسُمِّيتُ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ.
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد اور فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ ہجرت کر کے جانے لگے تو میں نے آپ دونوں کے لیے ناشتہ تیار کیا۔ میں نے اپنے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) سے کہا کہ میرے پٹکے کے سوا اور کوئی چیز اس وقت میرے پاس ایسی نہیں جس سے میں اس ناشتہ کو باندھ دوں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ پھر اس کے دو ٹکڑے کر لو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور اس وقت سے میرا نام ذات النطاقین (دو پٹکوں والی) ہو گیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسماء کو «ذات النطاقين.» کہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3907]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا تیار کیا جب انہوں نے مدینہ طیبہ ہجرت کرنے کا ارادہ کیا۔ میں نے اپنے والد گرامی سے کہا: میں اپنے ازار بند کے علاوہ توشہ دان باندھنے کے لیے کچھ نہیں پاتی۔ انہوں نے فرمایا: ”اس کے دو ٹکڑے کر لو۔“ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ اس وقت سے میرا نام «ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ» ”دو پٹکوں والی“ ہو گیا۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو «ذَاتُ النِّطَاقِ» ”پٹکے والی“ کہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3907]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3908
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ تَبِعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ , فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ، قَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكَ فَدَعَا لَهُ، قَالَ: فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِرَاعٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ:" فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ , فَأَتَيْتُهُ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، کہا میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ کا پیچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ اس نے عرض کیا کہ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے (کہ اس مصیبت سے نجات دے) میں آپ کا کوئی نقصان نہیں کروں گا، آپ نے اس کے لیے دعا کی۔ (اس کا گھوڑا زمین سے نکل آیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ راستے میں پیاس معلوم ہوئی اتنے میں ایک چرواہا گزرا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں (ریوڑ کی ایک بکری کا) تھوڑا سا دودھ دوہا، وہ دودھ میں نے آپ کی خدمت میں لا کر پیش کیا جسے آپ نے نوش فرمایا کہ مجھے خوشی حاصل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3908]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ آنے کا ارادہ کیا تو سراقہ بن مالک بن جعشم آپ کے پیچھے لگ گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ اس نے عرض کی: ”آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا کریں، میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔“ راوی کہتا ہے کہ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چرواہے کے پاس سے گزرے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں کچھ دودھ دوہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا حتی کہ میں خوش ہو گیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3908]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3909
حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَتْ:" فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ , فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ , ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ , فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ , وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ". تَابَعَهُ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى".
مجھ سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ان کے پیٹ میں تھے، انہیں دنوں جب حمل کی مدت بھی پوری ہو چکی تھی، میں مدینہ کے لیے روانہ ہوئی یہاں پہنچ کر میں نے قباء میں پڑاؤ کیا اور یہیں عبداللہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ پھر میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کی گود میں اسے رکھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور طلب فرمائی اور اسے چبا کر آپ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے منہ میں اسے رکھ دیا۔ چنانچہ سب سے پہلی چیز جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک لعاب تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی اور اللہ سے ان کے لیے برکت طلب کی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے بچے ہیں جن کی پیدائش ہجرت کے بعد ہوئی۔ زکریا کے ساتھ اس روایت کی متابعت خالد بن مخلد نے کی ہے۔ ان سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کو نکلیں تھیں تو وہ حاملہ تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3909]
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (بوقت ہجرت) وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے حاملہ تھیں۔ انہوں نے فرمایا: ”میں اس وقت (مکہ سے) نکلی جب وضع حمل کا وقت قریب آ پہنچا تھا۔ میں مدینہ طیبہ آئی اور قباء میں قیام کیا تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ وہیں پیدا ہوئے۔ پھر میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور اسے آپ کی گود میں رکھ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور منگوائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چبا کر اس میں اپنا لعاب دہن ملایا اور نومولود کے منہ میں ڈال دیا۔ (اس طرح) سب سے پہلے جو چیز اس کے شکم میں گئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ میں کھجور ڈالنے کے بعد اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔“ یہ مہاجرین کا زمانہ اسلام میں پہلا بچہ تھا جو (مدینہ طیبہ میں) پیدا ہوا۔ خالد بن مخلد نے زکریا بن یحییٰ کی متابعت کی ہے۔ اس روایت میں ہے کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی تو وہ حاملہ تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3909]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3910
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" أَوَّلُ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً فَلَاكَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي فِيهِ , فَأَوَّلُ مَا دَخَلَ بَطْنَهُ رِيقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سب سے پہلا بچہ جو اسلام میں (ہجرت کے بعد) پیدا ہوا، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہیں۔ انہیں لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے چبایا پھر اس کو ان کے منہ میں ڈال دیا۔ اس لیے سب سے پہلی چیز جو ان کے پیٹ میں گئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3910]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(ہجرت کے بعد) پہلا بچہ جو اسلام میں پیدا ہوا وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہیں۔ وہ (ان کے گھر والے) انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لی اور اسے چبایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس (عبداللہ رضی اللہ عنہ) کے منہ میں ڈالا۔ ان کے پیٹ میں پہلی داخل ہونے والی چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3910]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3911
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ , وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابٌّ لَا يُعْرَفُ، قَالَ: فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ: يَا أَبَا بَكْرٍ , مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ؟ فَيَقُولُ: هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي السَّبِيلَ، قَالَ: فَيَحْسِبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي الطَّرِيقَ , وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ , فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا , فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ" , فَصَرَعَهُ الْفَرَسُ , ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ، قَالَ: فَقِفْ مَكَانَكَ لَا تَتْرُكَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا، قَالَ: فَكَانَ أَوَّلَ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ آخِرَ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَانِبَ الْحَرَّةِ , ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ , فَجَاءُوا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا، وَقَالُوا: ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ , فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَحَفُّوا دُونَهُمَا بِالسِّلَاحِ، فَقِيلَ فِي الْمَدِينَةِ: جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ , جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَشْرَفُوا يَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ: جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ , جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ , فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّى نَزَلَ جَانِبَ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهُ إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ فِي نَخْلٍ لِأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ , فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ لَهُمْ فِيهَا , فَجَاءَ وَهِيَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ؟" فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذِهِ دَارِي وَهَذَا بَابِي، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلًا، قَالَ: قُومَا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ , فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّكَ جِئْتَ بِحَقٍّ , وَقَدْ عَلِمَتْ يَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ وَابْنُ سَيِّدِهِمْ , وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ , فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ , فَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، قَالُوا فِيَّ مَا لَيْسَ فِيَّ , فَأَرْسَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَقْبَلُوا فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ , وَيْلَكُمْ اتَّقُوا اللَّهَ , فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا , وَأَنِّي جِئْتُكُمْ بِحَقٍّ فَأَسْلِمُوا"، قَالُوا: مَا نَعْلَمُهُ، قَالُوا: لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَهَا: ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ:" فَأَيُّ رَجُلٍ فِيكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ؟ قَالُوا: ذَاكَ سَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا , وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا، قَالَ:" أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ؟" قَالُوا: حَاشَى لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ، قَالَ:" أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ؟" قَالُوا: حَاشَى لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ، قَالَ:" أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ؟" قَالُوا: حَاشَى لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ، قَالَ:" يَا ابْنَ سَلَامٍ , اخْرُجْ عَلَيْهِمْ" , فَخَرَجَ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ , اتَّقُوا اللَّهَ , فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ جَاءَ بِحَقٍّ، فَقَالُوا: كَذَبْتَ , فَأَخْرَجَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بوڑھے ہو گئے تھے اور ان کو لوگ پہچانتے بھی تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی جوان معلوم ہوتے تھے اور آپ کو لوگ عام طور سے پہچانتے بھی نہ تھے۔ بیان کیا کہ اگر راستہ میں کوئی ملتا اور پوچھتا کہ اے ابوبکر! یہ تمہارے ساتھ کون صاحب ہیں؟ تو آپ جواب دیتے کہ یہ میرے ہادی ہیں، مجھے راستہ بتاتے ہیں پوچھنے والا یہ سمجھتا کہ مدینہ کا راستہ بتلانے والا ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مطلب اس کلام سے یہ تھا کہ آپ دین و ایمان کا راستہ بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے مڑے تو ایک سوار نظر آیا جو ان کے قریب آ چکا تھا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ سوار آ گیا اور اب ہمارے قریب ہی پہنچنے والا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے مڑ کر دیکھا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ! اسے گرا دے چنانچہ گھوڑی نے اسے گرا دیا۔ پھر جب وہ ہنہناتی ہوئی اٹھی تو سوار (سراقہ) نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ کھڑا رہ اور دیکھ کسی کو ہماری طرف نہ آنے دینا۔ راوی نے بیان کیا کہ وہی شخص جو صبح آپ کے خلاف تھا شام جب ہوئی تو آپ کا وہ ہتھیار تھا دشمن کو آپ سے روکنے لگا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ پہنچ کر) حرہ کے قریب اترے اور انصار کو بلا بھیجا۔ اکابر انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں کو سلام کیا اور عرض کیا آپ سوار ہو جائیں آپ کی حفاظت اور فرمانبرداری کی جائے گی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سوار ہو گئے اور ہتھیار بند انصار نے آپ دونوں کو حلقہ میں لے لیا۔ اتنے میں مدینہ میں بھی سب کو معلوم ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا چکے ہیں سب لوگ آپ کو دیکھنے کے لیے بلندی پر چڑھ گئے اور کہنے لگے کہ اللہ کے نبی آ گئے۔ اللہ کے نبی آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف چلتے رہے اور (مدینہ پہنچ کر) ابوایوب رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سواری سے اتر گئے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ (ایک یہودی عالم نے) اپنے گھر والوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنا، وہ اس وقت اپنے ایک کھجور کے باغ میں تھے اور کھجور جمع کر رہے تھے انہوں نے (سنتے ہی) بڑی جلدی کے ساتھ جو کچھ کھجور جمع کر چکے تھے اسے رکھ دینا چاہا جب آپ کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جمع شدہ کھجوریں ان کے ساتھ ہی تھیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اپنے گھر واپس چلے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے (نانہالی) اقارب میں کس کا گھر یہاں سے زیادہ قریب ہے؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرا اے اللہ کے نبی! یہ میرا گھر ہے اور یہ اس کا دروازہ ہے فرمایا (اچھا تو جاؤ) دوپہر کو آرام کرنے کی جگہ ہمارے لیے درست کرو ہم دوپہر کو وہیں آرام کریں گے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا پھر آپ دونوں تشریف لے چلیں، اللہ مبارک کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ان کے گھر میں داخل ہوئے تھے کہ عبداللہ بن سلام بھی آ گئے اور کہا کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں، اور یہودی میرے متعلق اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ہوں اور ان کے سردار کا بیٹا ہوں اور ان میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور ان کے سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہوں، اس لیے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام لانے کا خیال انہیں معلوم ہو، بلایئے اور ان سے میرے بارے میں دریافت فرمایئے، کیونکہ انہیں اگر معلوم ہو گیا کہ میں اسلام لا چکا ہوں تو میرے متعلق غلط باتیں کہنی شروع کر دیں گے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور جب وہ آپ کی خدمت حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے یہودیو! افسوس تم پر، اللہ سے ڈرو، اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول برحق ہوں اور یہ بھی کہ میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں، پھر اب اسلام میں داخل ہو جاؤ، انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح تین مرتبہ کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اچھا عبداللہ بن سلام تم میں کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے، ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے اور ہمارے سب سے بڑے عالم کے بیٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں۔ پھر تمہارا کیا خیال ہو گا۔ کہنے لگے اللہ ان کی حفاظت کرے، وہ اسلام کیوں لانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن سلام! اب ان کے سامنے آ جاؤ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر آ گئے اور کہا: اے یہود! اللہ سے ڈرو، اس اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تمہیں خوب معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ یہودیوں نے کہا تم جھوٹے ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے باہر چلے جانے کے لیے فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3911]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ کے پیچھے (سواری پر) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ شکل و صورت میں بوڑھے تھے انہیں ہر ایک پہچانتا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوجوان غیر معروف تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ راستے میں اگر کوئی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرتا اور پوچھتا: ”اے ابوبکر! یہ آدمی کون ہے جو تمہارے آگے ہے؟“ وہ جواب دیتے: ”یہ شخص مجھے راستہ بتانے والا ہے۔“ پوچھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ عام راستہ بتانے والا ہے، حالانکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گوشہ چشم سے دیکھا تو ایک شخص جو گھوڑے پر سوار ہے وہ ان کے قریب آ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ سوار ہم تک پہنچ رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مڑ کر دیکھا تو فرمایا: «اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ» ”اے اللہ! اسے گرا دے۔“ تو اسے گھوڑے نے گرا دیا۔ پھر وہ گھوڑا ہنہناتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ اس شخص نے عرض کی: اللہ کے نبی! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں تعمیل ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ ٹھہرے رہو اور کسی کو ہمارے پاس نہ پہنچنے دو۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ دن کے آغاز میں آپ کو پکڑنے والا تھا اور دن کے آخری حصے میں آپ کے لیے ہتھیار کا کام دینے لگا۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کے پاس حرہ کی جانب فروکش ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارِ مدینہ کی طرف پیغام بھیجا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے آ گئے۔ انہوں نے ان دونوں کو سلام کیا اور کہا: ”آپ امن و امان سے سوار رہیں۔ اب آپ کے حکم کی تعمیل کی جائے گی۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور انصار نے ہتھیار لے کر ان دونوں کو اپنے جلو میں لیا اور عازمِ مدینہ ہوئے۔ ادھر مدینہ طیبہ میں یہ نعرہ لگایا جا رہا تھا: ”اللہ کے نبی آ گئے! اللہ کے نبی تشریف لے آئے!“ لوگ اونچی جگہوں پر چڑھ کر آپ کو دیکھ رہے تھے اور کہتے تھے: ”اللہ کے نبی تشریف لے آئے! اللہ کے نبی آ گئے!“ اسی حال میں چلتے چلتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان کے پاس اتر پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں سے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے سنا جبکہ وہ اس وقت اپنے گھر والوں کے باغ میں کھجوریں چن رہے تھے، وہ جلدی سے جمع کی ہوئی کھجوریں ساتھ ہی لے کر آ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں سن کر اپنے گھر واپس چلے گئے۔ اس دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے عزیزوں میں سے کس کا گھر قریب ہے؟“ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا دروازہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو اور ہمارے لیے قیلولہ کرنے کی جگہ تیار کرو۔“ انہوں نے عرض کی: اللہ کی برکت سے آپ دونوں حضرات اٹھیں (قیلولے کا انتظام ہو چکا ہے)۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہونے لگے تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وہاں آ گئے اور عرض کی: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ یہودی جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ہوں اور سردار کا بیٹا ہوں، ان کا بڑا عالم اور بڑے عالم کا بیٹا ہوں۔ آپ انہیں بلا کر ان سے میرے متعلق پوچھیں لیکن انہیں یہ علم نہ ہونے پائے کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں۔ اگر انہیں پتہ چل گیا کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں تو میرے متعلق ایسی باتیں کریں گے جو مجھ میں نہیں ہیں۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں) پیغام بھیجا تو وہ آئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اے جماعتِ یہود! تمہاری خرابی ہو، اللہ سے ڈرو۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں! بلاشبہ تم خوب جانتے ہو کہ یقینا میں اللہ کا رسول ہوں اور تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں، لہٰذا تم اسلام لے آؤ۔“ انہوں نے کہا کہ ہم تو اس بات کو نہیں جانتے۔ یہ بات انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں عبداللہ بن سلام کیسا شخص ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ ہمارا سردار اور ہمارے سردار کا بیٹا ہے اور ہمارا بڑا عالم اور بڑے عالم کا فرزندِ ارجمند ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتاؤ اگر وہ مسلمان ہو جائے تو؟“ انہوں نے کہا کہ اللہ ایسا نہ کرے، وہ اسلام قبول نہیں کر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو؟“ انہوں نے کہا: اللہ انہیں بچائے، وہ اسلام قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ آپ نے پھر تیسری مرتبہ پوچھا: ”اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو؟“ انہوں نے کہا: اللہ انہیں محفوظ رکھے، وہ مسلمان ہونے والے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن سلام! باہر آؤ۔“ وہ باہر آئے اور ان سے کہا: ”اے گروہِ یہود! اس اللہ سے ڈرو جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تم خوب جانتے ہو کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور سچا مذہب لے کر آئے ہیں۔“ یہودیوں نے کہا: تو جھوٹ بولتا ہے۔ پھر (اس بدتمیزی کی بنا پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں باہر نکال دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3911]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3912
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ يَعْنِى , عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ فَرَضَ لِلْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ أَرْبَعَةَ آلَافٍ فِي أَرْبَعَةٍ , وَفَرَضَ لِابْنِ عُمَرَ ثَلَاثَةَ آلَافٍ وَخَمْسَ مِائَةٍ، فَقِيلَ لَهُ: هُوَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ فَلِمَ نَقَصْتَهُ مِنْ أَرْبَعَةِ آلَافٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا هَاجَرَ بِهِ أَبَوَاهُ، يَقُولُ: لَيْسَ هُوَ كَمَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عمر نے خبر دی، انہیں نافع نے یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے، فرمایا آپ نے تمام مہاجرین اولین کا وظیفہ (اپنے عہد خلافت میں) چار چار ہزار چار چار قسطوں میں مقرر کر دیا تھا، لیکن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا وظیفہ چار قسطوں میں ساڑھے تین ہزار تھا اس پر ان سے پوچھا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مہاجرین میں سے ہیں۔ پھر آپ انہیں چار ہزار سے کم کیوں دیتے ہیں؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہیں ان کے والدین ہجرت کر کے یہاں لائے تھے۔ اس لیے وہ ان مہاجرین کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے خود ہجرت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3912]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں مہاجرینِ اولین میں سے ہر ایک کے لیے چار چار ہزار درہم وظیفہ مقرر فرمایا اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کے لیے ساڑھے تین ہزار درہم منظور کیے۔ ان سے عرض کیا گیا: ”ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی تو مہاجرینِ اولین میں سے ہیں، آپ نے ان کا وظیفہ چار ہزار سے کم کیوں مقرر کیا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”اس نے اپنے والدین کے ہمراہ ہجرت کی تھی۔ ایسا شخص اس مہاجر کی طرح نہیں ہو سکتا جس نے تن تنہا ہجرت کی ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3912]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3913
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی انہیں اعمش نے، انہیں ابووائل شقیق بن سلمہ نے اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3913]
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3913]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3914
وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَبَّابٌ، قَالَ:" هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ , وَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ , فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً , كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ , فَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ , فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ بِهَا وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ مِنْ إِذْخِرٍ , وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، انہوں نے شقیق بن سلمہ سے سنا، کہا کہ ہم سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر بھی ضرور دے گا۔ پس ہم میں سے بعض تو پہلے ہی اس دنیا سے اٹھ گئے۔ اور یہاں اپنا کوئی بدلہ انہوں نے نہیں پایا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے ہیں۔ احد کی لڑائی میں انہوں نے شہادت پائی۔ اور ان کے کفن کے لیے ہمارے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ اور وہ بھی ایسا کہ اگر اس سے ہم ان کا سر چھپاتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے۔ اور اگر پاؤں چھپاتے تو سر کھلا رہ جاتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کا سر چھپا دیا جائے اور پاؤں کو اذخر گھاس سے چھپا دیا جائے۔ اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنے عمل کا پھل اس دنیا میں پختہ کر لیا۔ اور اب وہ اس کو خوب چن رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3914]
(دوسری سند کے ساتھ یہی روایت ہے) حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر بھی ضرور دے گا، چنانچہ ہم میں سے کچھ حضرات اللہ کو پیارے ہو گئے اور دنیا میں انہوں نے اپنا کوئی بدلہ نہیں پایا۔ ان میں سے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں جو اُحد کی جنگ میں شہید ہو گئے۔ ہمیں ان کے سامان میں کوئی ایسی چیز نہ ملی جس میں ہم انہیں کفن دیتے۔ ایک کمبل کے علاوہ اور کچھ نہیں ملا، وہ بھی ایسا کہ اگر ہم اس سے ان کا سر چھپاتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور اگر ان کے پاؤں چھپاتے تو سر کھلا رہتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”ہم حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا سر چھپا دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں۔“ اور ہم میں سے بعض ایسے ہیں جن (کے اجر) کا پھل پک چکا ہے، جسے وہ چن چن کر کھا رہے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3914]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3915
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ , قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: هَلْ تَدْرِي مَا؟ قَالَ أَبِي: لِأَبِيكَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيكَ: يَا أَبَا مُوسَى، هَلْ يَسُرُّكَ إِسْلَامُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهِجْرَتُنَا مَعَهُ , وَجِهَادُنَا مَعَهُ , وَعَمَلُنَا كُلُّهُ مَعَهُ بَرَدَ لَنَا , وَأَنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ؟ فَقَالَ أَبِي: لَا وَاللَّهِ , قَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَصَلَّيْنَا وَصُمْنَا , وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا , وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا بَشَرٌ كَثِيرٌ , وَإِنَّا لَنَرْجُو ذَلِكَ، فَقَالَ أَبِي: لَكِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ , لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا , وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَاكَ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَبِي".
ہم سے یحییٰ بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، ان سے عوف نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا، کیا تم کو معلوم ہے کہ میرے والد عمر رضی اللہ عنہ نے تمہارے والد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو کیا جواب دیا تھا؟ انہوں نے کہا نہیں، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا تم اس پر راضی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا اسلام، آپ کے ساتھ ہماری ہجرت، آپ کے ساتھ ہمارا جہاد ہمارے تمام عمل جو ہم نے آپ کی زندگی میں کئے ہیں ان کے بدلہ میں ہم اپنے ان اعمال سے نجات پا جائیں جو ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں گو وہ نیک بھی ہوں بس برابری پر معاملہ ختم ہو جائے۔ اس پر آپ کے والد نے میرے والد سے کہا اللہ کی قسم! میں اس پر راضی نہیں ہوں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جہاد کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور بہت سے اعمال خیر کئے اور ہمارے ہاتھ پر ایک مخلوق نے اسلام قبول کیا، ہم تو اس کے ثواب کی بھی امید رکھتے ہیں اس پر میرے والد نے کہا (خیر ابھی تم سمجھو) لیکن جہاں تک میرا سوال ہے تو اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری خواہش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کئے ہوئے ہمارے اعمال محفوظ رہے ہوں اور جتنے اعمال ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں ان سب سے اس کے بدلہ میں ہم نجات پا جائیں اور برابر پر معاملہ ختم ہو جائے۔ ابوبردہ کہتے ہیں اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کے والد (عمر رضی اللہ عنہ) میرے والد (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) سے بہتر تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3915]
حضرت ابوبردہ بن ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تجھے علم ہے کہ میرے والد گرامی نے آپ کے والد گرامی سے کیا کہا تھا؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ انہوں نے فرمایا کہ میرے والد گرامی نے آپ کے والد گرامی سے کہا تھا: ”اے ابو موسیٰ! کیا یہ بات آپ کے لیے خوشی کا باعث ہو گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہمارا اسلام لانا، آپ کے ہمراہ ہمارا ہجرت کرنا، آپ کے ہمراہ ہمارا جہاد کرنا، الغرض آپ کے ہمراہ ہمارے تمام اعمال ہمارے لیے ٹھنڈک کا باعث ہوں، اور وہ اعمال جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیے ہیں وہ برابری کے معاملے پر ختم ہو جائیں؛ نہ ہمیں ان کا ثواب ملے اور نہ ان کے متعلق باز پرس ہی ہو۔“ اس پر آپ کے والد نے میرے والد سے کہا: ”اللہ کی قسم! میں اس پر راضی نہیں ہوں کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جہاد کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور بہت سے اعمالِ خیر بجا لائے۔ ہمارے ہاتھ پر ایک مخلوق نے اسلام قبول کیا، لہذا ہم تو اس کے ثواب کی بھی امید رکھتے ہیں۔“ میرے والد گرامی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لیکن جہاں تک میرا سوال ہے تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری خواہش ہے کہ ہمارے وہ اعمال ہی محفوظ رہیں جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کیے ہیں اور جتنے اعمال ہم نے آپ کے بعد کیے ہیں ان سب کے بدلے میں ہم سے برابری کا معاملہ کیا جائے۔ صرف یہ ہو کہ ہم نجات پا جائیں، نہ ثواب ہو اور نہ عقاب۔“ ابوبردہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! آپ کے والد گرامی (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) میرے والد گرامی (ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے بہرحال بہتر تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3915]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة