صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ:
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4156
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا عِيسَى , عَنْ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ قَيْسٍ أَنَّهُ , سَمِعَ مِرْدَاسًا الْأَسْلَمِيَّ , يَقُولُ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ:" يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ , وَتَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ‘ انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ انہیں قیس بن ابی حازم نے اور انہوں نے مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ اصحاب شجرہ (غزوہ حدیبیہ میں شریک ہونے والوں) میں سے تھے ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ پہلے صالحین قبض کئے جائیں گے۔ جو زیادہ صالح ہو گا اس کی روح سب سے پہلے اور جو اس کے بعد کے درجے کا ہو گا اس کی اس کے بعد پھر ردی اور بےکار کھجور اور جَو کی طرح بےکار لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی اللہ کے نزدیک کوئی قدر نہیں ہو گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4156]
حضرت مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ اصحابِ شجرہ میں سے تھے، انہوں نے کہا: ”نیک لوگ ایک ایک کر کے اٹھا لیے جائیں گے، پھر ردی کھجور یا جو کی بھوسی کی طرح بے کار لوگ باقی رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ (اللہ کے ہاں ان کی کوئی قدر نہ ہو گی۔)“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4156]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4157
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ مَرْوَانَ، والْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , قَالَا:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ , فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا" , لَا أُحْصِي كَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ , يَقُولُ: لَا أَحْفَظُ مِنْ الزُّهْرِيِّ الْإِشْعَارَ وَالتَّقْلِيدَ , فَلَا أَدْرِي يَعْنِي مَوْضِعَ الْإِشْعَارِ وَالتَّقْلِيدِ , أَوِ الْحَدِيثَ كُلَّهُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے عروہ نے ‘ ان سے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور ان پر نشان لگایا اور عمرہ کا احرام باندھا۔ میں نہیں شمار کر سکتا کہ میں نے یہ حدیث سفیان بن یسار سے کتنی دفعہ سنی اور ایک مرتبہ یہ بھی سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ مجھے زہری سے نشان لگانے اور قلادہ پہنانے کے متعلق یاد نہیں رہا۔ اس لیے میں نہیں جانتا ‘ اس سے ان کی مراد صرف نشان لگانے اور قلادہ پہنانے سے تھی یا پوری حدیث سے تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4157]
حضرت مروان اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما دونوں سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانوروں کو ہار پہنایا اور ان پر نشان لگایا، پھر وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔ راویِ حدیث (علی بن عبداللہ المدینی) نے کہا: ”میں شمار نہیں کر سکتا کہ میں نے اس حدیث کو سفیان سے کتنی مرتبہ سنا، حتیٰ کہ میں نے ایک مرتبہ انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے زہری سے نشان لگانے اور ہار پہنانے کے متعلق یاد نہیں رہا، اس لیے میں نہیں جانتا کہ اس سے ان کی مراد صرف نشان لگانے اور ہار پہنانے سے تھی یا اس سے مراد پوری حدیث تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4157]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4158
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ مَرْوَانَ، والْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , قَالَا:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ , فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا" , لَا أُحْصِي كَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ , يَقُولُ: لَا أَحْفَظُ مِنْ الزُّهْرِيِّ الْإِشْعَارَ وَالتَّقْلِيدَ , فَلَا أَدْرِي يَعْنِي مَوْضِعَ الْإِشْعَارِ وَالتَّقْلِيدِ , أَوِ الْحَدِيثَ كُلَّهُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے عروہ نے ‘ ان سے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور ان پر نشان لگایا اور عمرہ کا احرام باندھا۔ میں نہیں شمار کر سکتا کہ میں نے یہ حدیث سفیان بن یسار سے کتنی دفعہ سنی اور ایک مرتبہ یہ بھی سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ مجھے زہری سے نشان لگانے اور قلادہ پہنانے کے متعلق یاد نہیں رہا۔ اس لیے میں نہیں جانتا ‘ اس سے ان کی مراد صرف نشان لگانے اور قلادہ پہنانے سے تھی یا پوری حدیث سے تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4158]
حضرت مروان رضی اللہ عنہ اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ دونوں سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانوروں کو ہار پہنایا اور ان پر نشان لگایا، پھر وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔“ راویِ حدیث (علی بن عبداللہ المدینی رحمہ اللہ) نے کہا: ”میں شمار نہیں کر سکتا کہ میں نے اس حدیث کو سفیان رحمہ اللہ سے کتنی مرتبہ سنا، حتیٰ کہ میں نے ایک مرتبہ انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے زہری رحمہ اللہ سے نشان لگانے اور ہار پہنانے کے متعلق یاد نہیں رہا، اس لیے میں نہیں جانتا کہ اس سے ان کی مراد صرف نشان لگانے اور ہار پہنانے سے تھی یا اس سے مراد پوری حدیث تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4158]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4159
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ وَرْقَاءَ , عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ , فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ" , قَالَ: نَعَمْ , فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ , فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ , أَوْ يُهْدِيَ شَاةً , أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.
ہم سے حسن بن خلف نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اسحاق بن یوسف نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبشر ورقاء بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی نجیح نے ‘ ان سے مجاہد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے؟ وہ بولے کہ جی ہاں ‘ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دیا۔ آپ اس وقت حدیبیہ میں تھے (عمرہ کے لیے احرام باندھے ہوئے) اور ان کو یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ عمرہ سے روکے جائیں گے۔ حدیبیہ ہی میں ان کو احرام کھول دینا پڑے گا۔ بلکہ ان کی تو یہ آرزو تھی کہ مکہ میں کسی طرح داخل ہوا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمایا (یعنی احرام کی حالت میں) سر منڈوانے وغیرہ پر ‘ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب کو حکم دیا کہ ایک فرق اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری کی قربانی کریں یا تین دن روزے رکھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4159]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا جبکہ ان کے چہرے پر جوئیں گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈانے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حدیبیہ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر واضح نہیں کیا تھا کہ وہ حدیبیہ ہی میں احرام کھول کر اس کی پابندیوں سے آزاد ہو جائیں گے بلکہ انہیں امید تھی کہ وہ مکہ میں داخل ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیے کا حکم نازل فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ایک «فَرَق» (تقریباً چھ کلو تین سو گرام) اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری قربانی کریں یا تین دن کے روزے رکھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4159]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4160
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى السُّوقِ , فَلَحِقَتْ عُمَرَ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ , فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلَكَ زَوْجِي وَتَرَكَ صِبْيَةً صِغَارًا وَاللَّهِ مَا يُنْضِجُونَ كُرَاعًا , وَلَا لَهُمْ زَرْعٌ وَلَا ضَرْعٌ وَخَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَهُمُ الضَّبُعُ وَأَنَا بِنْتُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ وَقَدْ شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَقَفَ مَعَهَا عُمَرُ وَلَمْ يَمْضِ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِنَسَبٍ قَرِيبٍ , ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَعِيرٍ ظَهِيرٍ كَانَ مَرْبُوطًا فِي الدَّارِ , فَحَمَلَ عَلَيْهِ غِرَارَتَيْنِ مَلَأَهُمَا طَعَامًا , وَحَمَلَ بَيْنَهُمَا نَفَقَةً وَثِيَابًا , ثُمَّ نَاوَلَهَا بِخِطَامِهِ , ثُمَّ قَالَ: اقْتَادِيهِ فَلَنْ يَفْنَى حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِخَيْرٍ , فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَكْثَرْتَ لَهَا , قَالَ عُمَرُ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ , وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى أَبَا هَذِهِ وَأَخَاهَا قَدْ حَاصَرَا حِصْنًا زَمَانًا , فَافْتَتَحَاهُ ثُمَّ أَصْبَحْنَا نَسْتَفِيءُ سُهْمَانَهُمَا فِيهِ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان عورت نے ملاقات کی اور عرض کیا کہ امیرالمؤمنین! میرے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ کی قسم کہ اب نہ ان کے پاس بکری کے پائے ہیں کہ ان کو پکا لیں، نہ کھیتی ہے ‘ نہ دودھ کے جانور ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ فقر و فاقہ سے ہلاک نہ ہو جائیں۔ میں خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہوں۔ میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تھوڑی دیر کے لیے کھڑے ہو گئے ‘ آگے نہیں بڑھے۔ پھر فرمایا ‘ مرحبا ‘ تمہارا خاندانی تعلق تو بہت قریبی ہے۔ پھر آپ ایک بہت قوی اونٹ کی طرف مڑے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اس پر دو بورے غلے سے بھرے ہوئے رکھ دیئے۔ ان دونوں بوروں کے درمیان روپیہ اور دوسری ضرورت کی چیزیں اور کپڑے رکھ دیئے اور اس کی نکیل ان کے ہاتھ میں تھما کر فرمایا کہ اسے لے جا ‘ یہ ختم نہ ہو گا اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بہتر دے گا۔ ایک صاحب نے اس پر کہا ‘ اے امیرالمؤمنین! آپ نے اسے بہت دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ تیری ماں تجھے روئے ‘ اللہ کی قسم! اس عورت کے والد اور اس کے بھائی جیسے اب بھی میری نظروں کے سامنے ہیں کہ ایک مدت تک ایک قلعہ کے محاصرے میں وہ شریک رہے ‘ آخر اسے فتح کر لیا۔ پھر ہم صبح کو ان دونوں کا حصہ مال غنیمت سے وصول کر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4160]
حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ”میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بازار گیا تو وہاں آپ سے ایک نوجوان عورت نے ملاقات کی۔ اس نے عرض کی: ”اے امیر المومنین! میرا شوہر فوت ہو گیا ہے اور اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گیا ہے۔ اللہ کی قسم! ان کے پاس نہ تو بکری کے پائے ہیں جنہیں پکا کر کھائیں، نہ کھیتی ہے اور نہ دودھ کے جانور ہی ہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ فقر و فاقہ کی وجہ سے ہلاک نہ ہو جائیں، اور میں خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ میں موجود تھے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر آگے بڑھنے کے بجائے اس کے پاس ٹھہر گئے، پھر فرمایا: ”مرحبا! تمہارا خاندانی تعلق تو بہت ہی قریبی ہے۔“ اس کے بعد آپ ایک طاقتور اونٹ کی طرف گئے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اس پر دو بوریاں گندم سے بھر کر رکھ دیں۔ ان دونوں بوریوں کے درمیان کچھ خرچہ اور کپڑے وغیرہ بھی رکھ دیے۔ پھر آپ نے اس کی مہار عورت کے ہاتھ میں دے کر فرمایا: ”اسے لے جاؤ، اس کے ختم ہونے سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ کوئی اور بہتر بندوبست کر دے گا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”امیر المومنین! آپ نے اس عورت کو بہت سا مال دے دیا ہے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیری ماں تجھے روئے! اللہ کی قسم! اس عورت کے والد اور بھائی کو میں نے دیکھا، انہوں نے ایک مدت تک قلعے کا محاصرہ کیا، آخر کار اسے فتح کر لیا، پھر ہم صبح کے وقت مالِ غنیمت سے حصہ وصول کر رہے تھے۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4160]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4161
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى السُّوقِ , فَلَحِقَتْ عُمَرَ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ , فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلَكَ زَوْجِي وَتَرَكَ صِبْيَةً صِغَارًا وَاللَّهِ مَا يُنْضِجُونَ كُرَاعًا , وَلَا لَهُمْ زَرْعٌ وَلَا ضَرْعٌ وَخَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَهُمُ الضَّبُعُ وَأَنَا بِنْتُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ وَقَدْ شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَقَفَ مَعَهَا عُمَرُ وَلَمْ يَمْضِ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِنَسَبٍ قَرِيبٍ , ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَعِيرٍ ظَهِيرٍ كَانَ مَرْبُوطًا فِي الدَّارِ , فَحَمَلَ عَلَيْهِ غِرَارَتَيْنِ مَلَأَهُمَا طَعَامًا , وَحَمَلَ بَيْنَهُمَا نَفَقَةً وَثِيَابًا , ثُمَّ نَاوَلَهَا بِخِطَامِهِ , ثُمَّ قَالَ: اقْتَادِيهِ فَلَنْ يَفْنَى حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِخَيْرٍ , فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَكْثَرْتَ لَهَا , قَالَ عُمَرُ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ , وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى أَبَا هَذِهِ وَأَخَاهَا قَدْ حَاصَرَا حِصْنًا زَمَانًا , فَافْتَتَحَاهُ ثُمَّ أَصْبَحْنَا نَسْتَفِيءُ سُهْمَانَهُمَا فِيهِ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان عورت نے ملاقات کی اور عرض کیا کہ امیرالمؤمنین! میرے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ کی قسم کہ اب نہ ان کے پاس بکری کے پائے ہیں کہ ان کو پکا لیں، نہ کھیتی ہے ‘ نہ دودھ کے جانور ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ فقر و فاقہ سے ہلاک نہ ہو جائیں۔ میں خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہوں۔ میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تھوڑی دیر کے لیے کھڑے ہو گئے ‘ آگے نہیں بڑھے۔ پھر فرمایا ‘ مرحبا ‘ تمہارا خاندانی تعلق تو بہت قریبی ہے۔ پھر آپ ایک بہت قوی اونٹ کی طرف مڑے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اس پر دو بورے غلے سے بھرے ہوئے رکھ دیئے۔ ان دونوں بوروں کے درمیان روپیہ اور دوسری ضرورت کی چیزیں اور کپڑے رکھ دیئے اور اس کی نکیل ان کے ہاتھ میں تھما کر فرمایا کہ اسے لے جا ‘ یہ ختم نہ ہو گا اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بہتر دے گا۔ ایک صاحب نے اس پر کہا ‘ اے امیرالمؤمنین! آپ نے اسے بہت دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ تیری ماں تجھے روئے ‘ اللہ کی قسم! اس عورت کے والد اور اس کے بھائی جیسے اب بھی میری نظروں کے سامنے ہیں کہ ایک مدت تک ایک قلعہ کے محاصرے میں وہ شریک رہے ‘ آخر اسے فتح کر لیا۔ پھر ہم صبح کو ان دونوں کا حصہ مال غنیمت سے وصول کر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4161]
حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے، وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بازار گیا تو وہاں آپ سے ایک نوجوان عورت نے ملاقات کی۔ اس نے عرض کی: ”اے امیر المومنین! میرا شوہر فوت ہو گیا ہے اور اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گیا ہے۔ اللہ کی قسم! ان کے پاس نہ تو بکری کے پائے ہیں جنہیں پکا کر کھائیں، نہ کھیتی ہے اور نہ دودھ کے جانور ہی ہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ فقر و فاقہ کی وجہ سے ہلاک نہ ہو جائیں۔ اور میں خفاف بن ایماء غفاری کی بیٹی ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ میں موجود تھے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر آگے بڑھنے کے بجائے اس کے پاس ٹھہر گئے، پھر فرمایا: ”مرحبا! تمہارا خاندانی تعلق تو بہت ہی قریبی ہے۔“ اس کے بعد آپ ایک طاقتور اونٹ کی طرف گئے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اس پر دو بوریاں گندم سے بھر کر رکھ دیں۔ ان دونوں بوریوں کے درمیان کچھ خرچہ اور کپڑے وغیرہ بھی رکھ دیے۔ پھر آپ نے اس کی مہار عورت کے ہاتھ میں دے کر فرمایا: ”اسے لے جاؤ، اس کے ختم ہونے سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ کوئی اور بہتر بندوبست کر دے گا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”اے امیر المومنین! آپ نے اس عورت کو بہت سا مال دے دیا ہے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیری ماں تجھے روئے، اللہ کی قسم! اس عورت کے والد اور بھائی کو میں نے دیکھا، انہوں نے ایک مدت تک قلعے کا محاصرہ کیا، آخر کار اسے فتح کر لیا، پھر ہم صبح کے وقت مالِ غنیمت سے حصہ وصول کر رہے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4161]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4162
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو عَمْرٍو الْفَزَارِيّ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعمرو شبابہ بن سوار فزاری نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد (مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں نے وہ درخت دیکھا تھا لیکن پھر بعد میں جب آیا تو میں اسے نہیں پہچان سکا۔ محمود نے بیان کیا کہ پھر بعد میں وہ درخت مجھے یاد نہیں رہا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4162]
حضرت مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے وہ درخت دیکھا تھا (جس کے نیچے بیعت رضوان ہوئی تھی) لیکن بعد میں جب آیا تو میں اسے پہچان نہ سکا۔“ محمود کی روایت کے مطابق انہوں نے فرمایا: ”پھر مجھے وہ درخت یاد نہیں رہا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4162]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4163
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: انْطَلَقْتُ حَاجًّا فَمَرَرْتُ بِقَوْمٍ يُصَلُّونَ قُلْتُ: مَا هَذَا الْمَسْجِدُ؟ قَالُوا: هَذِهِ الشَّجَرَةُ حَيْثُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ , فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ , فَأَخْبَرْتُهُ , فَقَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ , قَالَ: فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ نَسِينَاهَا فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهَا , فَقَالَ سَعِيدٌ:" إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْلَمُوهَا وَعَلِمْتُمُوهَا أَنْتُمْ , فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ".
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ حج کے ارادے سے جاتے ہوئے میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون سی مسجد ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان لی تھی۔ پھر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور میں نے انہیں اس کی خبر دی ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد مسیب بن حزن نے بیان کیا ‘ وہ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے جب میں دوسرے سال وہاں گیا تو اس درخت کی جگہ کو بھول گیا۔ سعید نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تو اس درخت کو پہچان نہ سکے۔ تم لوگوں نے کیسے پہچان لیا (اس کے تلے مسجد بنا لی) تم ان سے زیادہ علم والے ٹھہرے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4163]
طارق بن عبدالرحمن سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں حج کے لیے نکلا تو چند ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون سی مسجد ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعتِ رضوان لی تھی۔ میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی تو انہوں نے فرمایا: مجھے میرے والد گرامی نے حدیث بیان کی اور وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، انہوں نے فرمایا: جب ہم اگلے سال حج کے لیے نکلے تو اس کی جگہ بھول گئے اور اسے معلوم کرنے پر قادر نہ ہو سکے۔ حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا: بلاشبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو اس درخت کو پہچان نہ سکے اور تم لوگوں نے اسے پہچان لیا! تم لوگ ان سے زیادہ جانتے ہو؟“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4163]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4164
حَدَّثَنَا مُوسَى , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , حَدَّثَنَا طَارِقٌ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ:" كَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ , فَرَجَعْنَا إِلَيْهَا الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَعَمِيَتْ عَلَيْنَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے ‘ کہا ہم سے طارق بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد نے کہ انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے کہ جب ہم دوسرے سال ادھر گئے تو ہمیں پتہ نہیں چلا کہ وہ کون سا درخت تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4164]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ اپنے باپ حضرت مسیب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اس درخت کے نیچے بیعت کی تھی، انہوں نے فرمایا: ”جب ہم دوسرے سال ادھر گئے تو ہمیں پتا ہی نہ چل سکا کہ وہ کون سا درخت تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4164]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4165
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ طَارِقٍ , قَالَ: ذُكِرَتْ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ الشَّجَرَةُ , فَضَحِكَ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , وَكَانَ شَهِدَهَا.
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب کی مجلس میں «الشجرة» کا ذکر ہوا تو وہ ہنسے اور کہا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ بھی اس درخت کے تلے بیعت میں شریک تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4165]
حضرت طارق بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی مجلس میں «الشَّجَرَةُ» کا ذکر ہوا تو وہ ہنس پڑے اور کہا: ”میرے والد گرامی رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا تھا اور وہ اس درخت کے نیچے بیعت کے وقت وہاں موجود تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4165]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة