بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب الغسل وحكم الجنب
غسل اور جنبی کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 104
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا اغتسل من الجنابة يبدأ فيغسل يديه ثم يفرغ بيمينه على شماله فيغسل فرجه ثم يتوضأ ثم يأخذ الماء فيدخل أصابعه في أصول الشعر، ثم حفن على رأسه ثلاث حفنات، ثم أفاض على سائر جسده ثم غسل رجليه. متفق عليه واللفظ لمسلم.ولهما من حديث ميمونة: ثم أفرغ على فرجه وغسله بشماله، ثم ضرب بها الأرض.وفي رواية: فمسحها بالتراب. وفي آخره: ثم أتيته بالمنديل فرده، وفيه: وجعل ينفض الماء بيده.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اس طرح آغاز کرتے۔ پہلے ہاتھ دھوتے پھر سیدھے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنا عضو مخصوص دھوتے۔ پھر وضو کرتے، پھر پانی لے کر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کے بالوں کی تہہ (جڑوں) میں داخل کرتے۔ پھر تین چلو پانی کے بھر کر یکے بعد دیگرے سر پر ڈالتے۔ پھر باقی سارے وجود پر پانی بہاتے (سب سے آخر میں) پھر دونوں پاؤں دھوتے۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔
اور بخاری و مسلم میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں اس طرح ہے۔ ”پھر اپنے عضو مخصوص پر پانی ڈالتے اور اپنے بائیں ہاتھ سے اسے دھوتے اور ہاتھوں کو زمین پر مار کر مٹی سے ملتے اور (صاف کرتے)“ اور ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے ”پھر دونوں ہاتھ مٹی سے مل کر اچھی طرح صاف کرتے۔“ اس روایت کے آخر میں ہے کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رومال (تولیہ) پیش کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس لوٹا دیا اور بدن (پر جو پانی رہ گیا تھا) اسے اپنے ہاتھ سے جھاڑنا شروع کیا۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 104]
اور بخاری و مسلم میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں اس طرح ہے۔ ”پھر اپنے عضو مخصوص پر پانی ڈالتے اور اپنے بائیں ہاتھ سے اسے دھوتے اور ہاتھوں کو زمین پر مار کر مٹی سے ملتے اور (صاف کرتے)“ اور ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے ”پھر دونوں ہاتھ مٹی سے مل کر اچھی طرح صاف کرتے۔“ اس روایت کے آخر میں ہے کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رومال (تولیہ) پیش کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس لوٹا دیا اور بدن (پر جو پانی رہ گیا تھا) اسے اپنے ہاتھ سے جھاڑنا شروع کیا۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الغسل، باب الوضوء قبل الغسل، حديث:248، ومسلم، الحيض، باب صفة غسل الجنابة، حديث:316، وحديث ميمونة أخرجه البخاري، الغسل، حديث:266 وغيره، ومسلم، الحيض، حديث:317.»
حدیث نمبر: 105
وعن أم سلمة رضي الله تعالى عنها قالت: قلت: يا رسول الله! إني امرأة أشد شعر رأسي، أفأنقضه لغسل الجنابة؟ وفي رواية: والحيضة؟ قال: «لا إنما يكفيك أن تحثي على رأسك ثلاث حثيات» . رواه مسلم
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے سر کے بال (یعنی مینڈھیوں کی شکل میں) باندھ لیتی ہوں۔ کیا غسل جنابت کے موقع پر ان کو کھولوں؟ اور ایک روایت میں حیض سے فارغ ہو کر غسل کے وقت کے الفاظ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں (کھولنے کے ضرورت نہیں) بس تیرے لئے یہی کافی ہے کہ تو اپنے سر پر تین چلو پانی بہا دیا کر۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحيض، باب حكم ضفائر المغتسلة، حديث:330.»
حدیث نمبر: 106
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إني لا أحل المسجد لحائض ولا جنب» . رواه أبو داود. وصححه ابن خزيمة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں حائضہ عورت اور حالت جنابت میں مبتلا مرد کیلئے مسجد میں داخلہ حلال نہیں کرتا (یعنی ان دونوں کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا)۔“ اس کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 106]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في الجنب يدخل المسجد، حديث:232، وابن خزيمة، حديث:1328-جسرة بنت دجاجة: "لا ينزل حديثهاعن درجة الحسن".»
حدیث نمبر: 107
وعنها رضي الله عنها قالت: كنت أغتسل أنا ورسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من إناء واحد تختلف أيدينا فيه من الجنابة. متفق عليه، وزاد ابن حبان:" وتلتقي".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے یہ روایت بھی ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے۔ اس برتن میں ہمارے ہاتھ یکے بعد دیگرے داخل ہوتے تھے۔ (بخاری و مسلم)
اور ابن حبان نے اتنا اضافہ مزید نقل کیا ہے کہ بسا اوقات دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے سے چھو جاتے تھے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
اور ابن حبان نے اتنا اضافہ مزید نقل کیا ہے کہ بسا اوقات دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے سے چھو جاتے تھے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الغسل، باب هل يدخلالجنب يده في الإناء...، حديث:261، ومسلم، الحيض، باب القدر المستحب من الماء في غسل الجنابة...، حديث:321 واللفظ له، وابن حبان: لم أجده بلفظ"وتلتقي"»
حدیث نمبر: 108
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر» . رواه أبو داود والترمذي وضعفاه. ولأحمد عن عائشة رضي الله عنها نحوه وفيه راو مجهول.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”ہر بال کی تہہ (نیچے) میں جنابت کا اثر ہوتا ہے اس لئے بالوں کو (اچھی طرح) دھویا کرو اور جسم کو اچھی طرح (مل کر) صاف کیا کرو۔“
ابوداؤد اور ترمذی دونوں نے اسے روایت کیا ہے اور ساتھ ہی ضعیف بھی قرار دیا ہے۔ مسند احمد میں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت ہے اور اس میں ایک راوی مجہول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
ابوداؤد اور ترمذی دونوں نے اسے روایت کیا ہے اور ساتھ ہی ضعیف بھی قرار دیا ہے۔ مسند احمد میں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت ہے اور اس میں ایک راوی مجہول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في الغسل من الجنابة، حديث:248 وقال: "الحارث بن وجيه حديثه منكر وهو ضعيف"، والترمذي، الطهارة، حديث:106، وابن ماجه، الطهارة، حديث:597* وأحمد:6 / 110، 111، 254 وسنده ضعيف، فيه ضعيف ومجهول.»