🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب شروطه وما نهي عنه منه
بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 658
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: نهى عمر عن بيع أمهات الأولاد،‏‏‏‏ فقال: لا تباع،‏‏‏‏ ولا توهب،‏‏‏‏ ولاتورث،‏‏‏‏ يستمتع بها ما بدا له،‏‏‏‏ فإذا مات فهي حرة. رواه البيهقي ومالك،‏‏‏‏ وقال: رفعه بعض الرواة فوهم.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ام ولد کو فروخت کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ نہ یہ فروخت ہو سکتی ہے اور نہ ہبہ کی جا سکتی ہے اور نہ میراث میں تقسیم ہو سکتی ہے۔ جب تک مالک چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور جب فوت ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔ اسے بیہقی اور مالک نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ بعض نے اسے مرفوع کہا ہے جو وہم ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 658]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى عُمَرُ» عمر نے منع کیا – «عَنْ بَيْعِ» بیچنے سے – «أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ» امہات الاولاد (اولاد والی لونڈیوں) کو – «فَقَالَ» پس کہا: – «لَا تُبَاعُ» نہ بیچی جائے – «وَلَا تُوهَبُ» اور نہ ہبہ کی جائے – «وَلَا تُورَثُ» اور نہ وراثت میں دی جائے – «يَسْتَمْتِعُ بِهَا» وہ (مالک) اس سے فائدہ اٹھائے – «مَا بَدَا لَهُ» جب تک چاہے – «فَإِذَا مَاتَ» پس جب وہ مر جائے – «فَهِيَ حُرَّةٌ» تو وہ آزاد ہے۔ – «رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ» اسے بیہقی نے روایت کیا – «وَمَالِكٌ» اور مالک نے – «وَقَالَ» اور (بیہقی نے) کہا: – «رَفَعَهُ بَعْضُ الرُّوَاةِ» بعض راویوں نے اسے مرفوع بیان کیا – «فَوَهِمَ» تو ان سے وہم ہوا۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے امہات الاولاد (مالک سے اولاد جننے والی لونڈیوں) کو بیچنے سے منع کیا اور فرمایا: نہ اسے بیچا جائے، نہ ہبہ کیا جائے اور نہ وراثت میں دیا جائے، مالک جب تک چاہے اس سے فائدہ اٹھائے، اور جب وہ مر جائے تو وہ آزاد ہے۔ اسے بیہقی اور مالک نے روایت کیا ہے، اور (بیہقی نے) کہا: بعض راویوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور ان سے وہم ہوا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 658]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك في الموطأ:2 /776، والبيهقي:10 /342، 343.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 659
وعن جابر رضي الله تعالى عنه قال: كنا نبيع سرارينا أمهات الأولاد،‏‏‏‏ والنبي صلى الله عليه وآله وسلم حي،‏‏‏‏ لا يرى بذلك بأسا. رواه النسائي وابن ماجه والدارقطني،‏‏‏‏ وصححه ابن حبان.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ام ولد لونڈیوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں فروخت کر دیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کوئی قباحت و مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔ اسے نسائی، ابن ماجہ اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 659]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كُنَّا نَبِيعُ» ہم بیچا کرتے تھے – «سَرَارِيَّنَا» اپنی لونڈیوں کو – «أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ» جو اولاد کی مائیں تھیں – «وَالنَّبِيُّ» اور نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حَيٌّ» زندہ تھے – «لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا» اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ – «رَوَاهُ النَّسَائِيُّ» اسے نسائی نے روایت کیا – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ – «وَالدَّارَقُطْنِيُّ» اور دارقطنی نے – «وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم اپنی ان لونڈیوں کو جو اولاد کی مائیں تھیں بیچا کرتے تھے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ تھے، آپ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ اسے نسائی، ابن ماجہ اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 659]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، العتق، باب أمهات الأولاد، حديث:2517، والنسائي في الكبرٰي:3 /199، حديث:5039، والدارقطني:4 /135، وابن حبان(الإحسان):6 /265، حديث:4308.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 660
وعن جابر بن عبد الله رضي الله تعالى عنهما قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن بيع فضل الماء. رواه مسلم،‏‏‏‏ وزاد في رواية: وعن بيع ضراب الجمل.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد از ضرورت پانی کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اونٹ کی جفتی کا معاوضہ لینا بھی ممنوع ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 660]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» جابر بن عبداللہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا» اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے منع فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنْ بَيْعِ» بیچنے سے – «فَضْلِ الْمَاءِ» زائد پانی کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں اضافہ کیا: – «وَعَنْ بَيْعِ» اور بیچنے سے – «ضِرَابِ الْجَمَلِ» اونٹ کی جفتی کو۔
اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: اور اونٹ کی جفتی (کا معاوضہ لینے) سے (منع فرمایا)۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 660]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب تحريم بيع فضل الماء الذي يكون بالفلاة، حديث:1565.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 661
وعن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن عسب الفحل. رواه البخاري.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کی جفتی کے معاوضہ کو ممنوع قرار دیا ہے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 661]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا» اللہ تعالیٰ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے منع فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ» نر جانور کی جفتی کی اجرت سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نر جانور کی جفتی کی اجرت لینے سے منع فرمایا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 661]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري،الإجارة، باب عسب الفحل، حديث:2284.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 662
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع حبل الحبلة،‏‏‏‏ وكان بيعا يتبايعه أهل الجاهلية،‏‏‏‏ كان الرجل يبتاع الجزور إلى أن تنتج الناقة،‏‏‏‏ ثم تنتج التي في بطنها. متفق عليه،‏‏‏‏ واللفظ للبخاري.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبل الحبلہ کی بیع سے منع فرمایا ہے اور یہ بیع دور جاہلیت میں تھی کہ آدمی اونٹنی اس شرط پر خریدتا کہ اس کی قیمت اس وقت دے گا جب اونٹنی بچہ جنے، پھر وہ بچہ جو اونٹنی کے پیٹ میں ہے وہ (ایک آگے بچہ) جنے۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 662]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَهَى» منع فرمایا – «عَنْ بَيْعِ» بیع سے – «حَبَلِ الْحَبَلَةِ» حمل کے حمل کی – «وَكَانَ بَيْعًا» اور یہ ایسی بیع تھی – «يَتَبَايَعُهُ» جس کا لین دین کرتے تھے – «أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ» جاہلیت والے – «كَانَ الرَّجُلُ» آدمی – «يَبْتَاعُ الْجَزُورَ» اونٹ خریدتا تھا – «إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ» اس (مدت) تک کہ اونٹنی بچہ جنے – «ثُمَّ تُنْتَجَ» پھر وہ (بچہ) جنے – «الَّتِي فِي بَطْنِهَا» جو اس کے پیٹ میں ہے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ» اور الفاظ بخاری کے ہیں۔
اور انہی (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حبل الحبلہ کی بیع سے منع فرمایا، اور یہ ایسی بیع تھی جو جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے: آدمی اس ادھار پر اونٹ خریدتا کہ (قیمت اس وقت ادا ہو گی جب) اونٹنی بچہ جنے، پھر وہ بچی جو اس کے پیٹ میں ہے (بڑی ہو کر) بچہ جنے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 662]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الغرر وحبل الحبلة، حديث:2143، ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع حبل الحبلة، حديث:1514.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 663
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع الولاء وعن هبته. متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے فروخت کرنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 663]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَهَى» منع فرمایا – «عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ» ولاء کو بیچنے سے – «وَعَنْ هِبَتِهِ» اور اسے ہبہ کرنے سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 663]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الفرائض، باب إثم من تبرأ من مواليه، حديث:6756، ومسلم، العتق، باب النهي عن بيع الولاء وهبة، حديث:1506.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 664
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن بيع الحصاة،‏‏‏‏ وعن بيع الغرر. رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینک کر تجارت کرنے اور دھوکے کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) (نوٹ: کنکری والی تجارت سے مراد یہ ہے کہ خریدنے والا کچھ روپے کے بدلے میں کنکری پھینکتا اور وہ کنکری جس چیز کو لگتی وہ لے جاتا۔) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 664]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے منع فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ» کنکری کی بیع سے – «وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ» اور دھوکے کی بیع سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکری کی بیع (کنکری پھینک کر سودا طے کرنے) اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 664]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، البيوع، باب بطلان بيع الحصاة والبيع الذي فيه غرر، حديث:1513.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 665
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من اشترى طعاما فلا يبعه حتى يكتاله» رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کوئی غلہ خریدے تو جب تک اسے ماپ (ناپ) نہ لے، اسے فروخت نہ کرے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 665]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا» جس نے غلہ خریدا – «فَلَا يَبِعْهُ» تو وہ اسے نہ بیچے – «حَتَّى يَكْتَالَهُ» یہاں تک کہ اسے ناپ لے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلہ خریدے وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے ناپ (کر قبضے میں) نہ لے لے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 665]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، حديث:1528.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 666
وعنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن بيعتين في بيعة. رواه أحمد والنسائي،‏‏‏‏ وصححه الترمذي وابن حبان. ولأبي داود: «من باع بيعتين في بيعة فله أوكسهما أو الربا» .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیعوں سے منع فرمایا ہے۔ (احمد و نسائی) اور ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ جس کسی نے ایک چیز کی دو قیمتیں مقرر کیں، وہ یا تو کم قیمت لے لے، یا پھر وہ سود ہو گا۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 666]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے منع فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنْ بَيْعَتَيْنِ» دو سودوں سے – «فِي بَيْعَةٍ» ایک سودے میں۔ – «رَوَاهُ أَحْمَدُ» اسے احمد نے روایت کیا – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں ہے: – «مَنْ بَاعَ» جس نے بیچا – «بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ» ایک سودے میں دو سودے – «فَلَهُ» تو اس کے لیے ہے – «أَوْكَسُهُمَا» ان دونوں میں سے کم (قیمت) – «أَوِ الرِّبَا» یا سود۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سودے میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا۔ اسے احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور ابو داود کی روایت میں ہے: ”جس نے ایک سودے میں دو سودے کیے تو اس کے لیے ان دونوں میں سے کم قیمت والا ہے ورنہ وہ سود ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 666]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، البيوع، باب ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة، حديث:1231، والنسائي، البيوع، حديث:4636، أحمد:2 /432، وابن حبان (الإحسان):7 /226، وحديث:"من باع بيعتين" أخرجه أبوداود، البيوع، حديث:3461 وسنده حسن.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 667
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يحل سلف وبيع،‏‏‏‏ ولا شرطان في بيع،‏‏‏‏ ولا ربح ما لا يضمن،‏‏‏‏ ولا بيع ما ليس عندك» .‏‏‏‏ رواه الخمسة،‏‏‏‏ وصححه الترمذي وابن خزيمة والحاكم. وأخرجه في علوم الحديث،‏‏‏‏ من رواية أبي حنيفة،‏‏‏‏ عن عمرو المذكور،‏‏‏‏ بلفظ:" نهى عن بيع وشرط". ومن هذا الوجه أخرجه الطبراني في الأوسط،‏‏‏‏ وهو غريب.
سیدنا عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور انھوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قرض اور بیع حلال نہیں اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں حلال ہیں اور کسی چیز کا منافع حاصل کرنا اسے اپنے قبضہ میں لینے سے پہلے جائز نہیں اور جو تیرے پاس موجود نہ ہو اس کا فروخت کرنا بھی جائز و حلال نہیں۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی، ابن خزیمہ اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور امام حاکم نے علوم الحدیث میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی روایت سے مذکورہ عمرو رحمہ اللہ کے واسطے سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع شرط کے ساتھ منع فرمائی ہے۔“ اس حدیث کو طبرانی نے اوسط میں اسی طریق سے نقل کیا ہے اور وہ غریب ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 667]
«وَعَنْ» اور سے – «عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ» عمرو بن شعیب – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «عَنْ جَدِّهِ» اپنے دادا سے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَحِلُّ» حلال نہیں – «سَلَفٌ وَبَيْعٌ» قرض اور بیع (اکٹھے) – «وَلَا شَرْطَانِ» اور نہ دو شرطیں – «فِي بَيْعٍ» ایک بیع میں – «وَلَا رِبْحُ» اور نہ نفع – «مَا لَمْ يُضْمَنْ» اس چیز کا جس کی ضمانت (ذمہ داری) نہ لی گئی ہو – «وَلَا بَيْعُ» اور نہ بیچنا – «مَا لَيْسَ عِنْدَكَ» اس چیز کو جو تمہارے پاس نہیں۔ – «رَوَاهُ الْخَمْسَةُ» اسے پانچوں نے روایت کیا – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی – «وَابْنُ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔ – «وَأَخْرَجَهُ» اور اسے روایت کیا (حاکم نے) – «فِي عُلُومِ الْحَدِيثِ» علوم الحدیث میں – «مِنْ رِوَايَةِ أَبِي حَنِيفَةَ» ابو حنیفہ کی روایت سے – «عَنْ عَمْرٍو الْمَذْكُورِ» مذکورہ عمرو سے – «بِلَفْظِ» ان الفاظ کے ساتھ: – «نَهَى» آپ نے منع فرمایا – «عَنْ بَيْعٍ وَشَرْطٍ» بیع اور شرط سے۔ – «وَمِنْ هَذَا الْوَجْهِ» اور اسی طریق سے – «أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ» اسے طبرانی نے روایت کیا – «فِي الْأَوْسَطِ» الاوسط میں – «وَهُوَ غَرِيبٌ» اور یہ غریب ہے۔
اور عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قرض اور بیع (کو ایک ساتھ مشروط کرنا) حلال نہیں، نہ ایک بیع میں دو شرطیں، نہ اس چیز کا نفع جس کی ذمہ داری (ضمان) نہ لی گئی ہو، اور نہ اس چیز کی بیع جو تمہارے پاس نہیں۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی، ابن خزیمہ اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور (حاکم نے) اسے علوم الحدیث میں ابو حنیفہ کی روایت سے مذکورہ عمرو سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ”آپ نے بیع اور شرط سے منع فرمایا۔“ اور اسی طریق سے طبرانی نے اسے الاوسط میں روایت کیا ہے، اور یہ غریب ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 667]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في الرجل يبيع ماليس عنده، حديث:3504، والترمذي، البيوع، حديث:1234، والنسائي، البيوع، حديث:4635، وابن ماجه، التجارات، حديث:2188، وأحمد:2 /174، 178، 205، وابن خزيمة: لم أجده، والحاكم:2 /17.* رواية أبي حنيفة: أخرجها الحاكم في معرفة علوم الحديث، ص:128، والطبراني في الأوسط:5 /184، حديث:4358 وسندها ضعيف جدًا، فيه عبدالله بن أيوب بن زاذان الضرير وهو متروك كما قال الدارقطني رحمه الله.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں