🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ: {قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لاَ نَعْبُدَ إِلاَّ اللَّهَ}:
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہہ دیں کہ اے کتاب والو! ایسے قول کی طرف آ جاؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے، وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کریں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4553
سَوَاءٌ قَصْدٌ.
‏‏‏‏ «سواء» کے معنی ایسی بات ہے جسے ہم اور تم دونوں تسلیم کرتے ہیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4553]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4553
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامٍ، عن معمر. ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّأْمِ إِذْ جِيءَ بِكِتَابٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ، قَالَ: وَكَانَ دَحْيَةُ الْكَلْبِيُّ جَاءَ بِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِلَى هِرَقْلَ، قَالَ: فَقَالَ هِرَقْلُ: هَلْ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ فَأُجْلِسْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ فَقَالَ: أَبُو سُفْيَانَ، فَقُلْتُ: أَنَا، فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي، ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ، فَقَالَ: قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَإِنْ كَذَبَنِي، فَكَذِّبُوهُ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ يُؤْثِرُوا عَلَيَّ الْكَذِبَ لَكَذَبْتُ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ، قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: أَيَتَّبِعُهُ أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ، قَالَ: يَزِيدُونَ أَوْ يَنْقُصُونَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، بَلْ يَزِيدُونَ، قَالَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: تَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا، يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ، قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي هَذِهِ الْمُدَّةِ لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا، قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ، قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ قُلْتُ: لَا، ثُمَّ قَالَ لِتُرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ فِيكُمْ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ، وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ؟ فَقُلْتَ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يُزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَاتَلْتُمُوهُ، فَتَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا، يَنَالُ مِنْكُمْ، وَتَنَالُونَ مِنْهُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى، ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدِرُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ أَحَدٌ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ، قُلْتُ رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: بِمَ يَأْمُرُكُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ، وَالصِّلَةِ، وَالْعَفَافِ، قَالَ: إِنْ يَكُ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا، فَإِنَّهُ نَبِيٌّ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ، وَلَمْ أَكُ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ، وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ، لَأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ، قَالَ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَهُ، فَإِذَا فِيهِ" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ، فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ، وَيَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ، أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ، إِلَى قَوْلِهِ: اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ، ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ عِنْدَهُ، وَكَثُرَ اللَّغَطُ، وَأُمِرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا، قَالَ فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا: لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ، فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ، حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَدَعَا هِرَقْلُ عُظَمَاءَ الرُّومِ، فَجَمَعَهُمْ فِي دَارٍ لَهُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الرُّومِ، هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرَّشَدِ آخِرَ الْأَبَدِ؟ وَأَنْ يَثْبُتَ لَكُمْ مُلْكُكُمْ؟ قَالَ: فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ، فَوَجَدُوهَا قَدْ غُلِّقَتْ، فَقَالَ: عَلَيَّ بِهِمْ فَدَعَا بِهِمْ، فَقَالَ: إِنِّي إِنَّمَا اخْتَبَرْتُ شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ، فَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكُمُ الَّذِي أَحْبَبْتُ، فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے معمر نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے امام زہری نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے منہ در منہ بیان کیا، انہوں نے بتلایا کہ جس مدت میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح (صلح حدیبیہ کے معاہدہ کے مطابق) تھی، میں (سفر تجارت پر شام میں) گیا ہوا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ہرقل کے پاس پہنچا۔ انہوں نے بیان کیا کہ دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ وہ خط لائے تھے اور عظیم بصریٰ کے حوالے کر دیا تھا اور ہرقل کے پاس اسی سے پہنچا تھا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہرقل نے پوچھا کیا ہمارے حدود سلطنت میں اس شخص کی قوم کے بھی کچھ لوگ ہیں جو نبی ہونے کا دعویدار ہے؟ درباریوں نے بتایا کہ جی ہاں موجود ہیں۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر مجھے قریش کے چند دوسرے آدمیوں کے ساتھ بلایا گیا۔ ہم ہرقل کے دربار میں داخل ہوئے اور اس کے سامنے ہمیں بٹھا دیا گیا۔ اس نے پوچھا، تم لوگوں میں اس شخص سے زیادہ قریبی کون ہے جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ میں زیادہ قریب ہوں۔ اب درباریوں نے مجھے بادشاہ کے بالکل قریب بٹھا دیا اور میرے دوسرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا۔ اس کے بعد ترجمان کو بلایا اور اس سے ہرقل نے کہا کہ انہیں بتاؤ کہ میں اس شخص کے بارے میں تم سے کچھ سوالات کروں گا، جو نبی ہونے کا دعویدار ہے، اگر یہ (یعنی ابوسفیان رضی اللہ عنہ) جھوٹ بولے تو تم اس کے جھوٹ کو ظاہر کر دینا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ اللہ کی قسم! اگر مجھے اس کا خوف نہ ہوتا کہ میرے ساتھی کہیں میرے متعلق جھوٹ بولنا نقل نہ کر دیں تو میں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں) ضرور جھوٹ بولتا۔ پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ جس نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ اپنے نسب میں کیسے ہیں؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ان کا نسب ہم میں بہت ہی عزت والا ہے۔ اس نے پوچھا کیا ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ بیان کیا کہ میں نے کہا، نہیں۔ اس نے پوچھا، تم نے دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی ان پر جھوٹ کی تہمت لگائی تھی؟ میں نے کہا نہیں۔ پوچھا ان کی پیروی معزز لوگ زیادہ کرتے ہیں یا کمزور؟ میں نے کہا کہ قوم کے کمزور لوگ زیادہ ہیں۔ اس نے پوچھا، ان کے ماننے والوں میں زیادتی ہوتی رہتی ہے یا کمی؟ میں نے کہا کہ نہیں بلکہ زیادتی ہوتی رہتی ہے۔ پوچھا کبھی ایسا بھی کوئی واقعہ پیش آیا ہے کہ کوئی شخص ان کے دین کو قبول کرنے کے بعد پھر ان سے بدگمان ہو کر ان سے پھر گیا ہو؟ میں نے کہا ایسا بھی کبھی نہیں ہوا۔ اس نے پوچھا، تم نے کبھی ان سے جنگ بھی کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ اس نے پوچھا، تمہاری ان کے ساتھ جنگ کا کیا نتیجہ رہا؟ میں نے کہا کہ ہماری جنگ کی مثال ایک ڈول کی ہے کہ کبھی ان کے ہاتھ میں اور کبھی ہمارے ہاتھ میں۔ اس نے پوچھا، کبھی انہوں نے تمہارے ساتھ کوئی دھوکا بھی کیا؟ میں نے کہا کہ اب تک تو نہیں کیا، لیکن آج کل بھی ہمارا ان سے ایک معاہدہ چل رہا ہے، نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں ان کا طرز عمل کیا رہے گا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! اس جملہ کے سوا اور کوئی بات میں اس پوری گفتگو میں اپنی طرف سے نہیں ملا سکا، پھر اس نے پوچھا اس سے پہلے بھی یہ دعویٰ تمہارے یہاں کسی نے کیا تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا، اس سے کہو کہ میں نے تم سے نبی کے نسب کے بارے میں پوچھا تو تم نے بتایا کہ وہ تم لوگوں میں باعزت اور اونچے نسب کے سمجھے جاتے ہیں، انبیاء کا بھی یہی حال ہے۔ ان کی بعثت ہمیشہ قوم کے صاحب حسب و نسب خاندان میں ہوتی ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا کوئی ان کے باپ دادوں میں بادشاہ گزرا ہے، تو تم نے اس کا انکار کیا میں اس سے اس فیصلہ پر پہنچا کہ اگر ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ اپنی خاندانی سلطنت کو اس طرح واپس لینا چاہتے ہوں اور میں نے تم سے ان کی اتباع کرنے والوں کے متعلق پوچھا کہ آیا وہ قوم کے کمزور لوگ ہیں یا اشراف، تو تم نے بتایا کہ کمزور لوگ ان کی پیروی کرنے والوں میں (زیادہ) ہیں۔ یہی طبقہ ہمیشہ سے انبیاء کی اتباع کرتا رہا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے دعویٰ نبوت سے پہلے ان پر جھوٹ کا کبھی شبہ کیا تھا، تو تم نے اس کا بھی انکار کیا۔ میں نے اس سے یہ سمجھا کہ جس شخص نے لوگوں کے معاملہ میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو، وہ اللہ کے معاملے میں کس طرح جھوٹ بول دے گا اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ ان کے دین کو قبول کرنے کے بعد پھر ان سے بدگمان ہو کر کوئی شخص ان کے دین سے کبھی پھرا بھی ہے، تو تم نے اس کا بھی انکار کیا۔ ایمان کا یہی اثر ہوتا ہے جب وہ دل کی گہرائیوں میں اتر جائے۔ میں نے تم سے پوچھا تھا کہ ان کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی رہتی ہے یا کم ہوتی ہے، تو تم نے بتایا کہ ان میں اضافہ ہی ہوتا ہے، ایمان کا یہی معاملہ ہے، یہاں تک کہ وہ کمال کو پہنچ جائے۔ میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے کبھی ان سے جنگ بھی کی ہے؟ تو تم نے بتایا کہ جنگ کی ہے اور تمہارے درمیان لڑائی کا نتیجہ ایسا رہا ہے کہ کبھی تمہارے حق میں اور کبھی ان کے حق میں۔ انبیاء کا بھی یہی معاملہ ہے، انہیں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے اور آخر انجام انہیں کے حق میں ہوتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ اس نے تمہارے ساتھ کبھی خلاف عہد بھی معاملہ کیا ہے تو تم نے اس سے بھی انکار کیا۔ انبیاء کبھی عہد کے خلاف نہیں کرتے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تمہارے یہاں اس طرح کا دعویٰ پہلے بھی کسی نے کیا تھا تو تم نے کہا کہ پہلے کسی نے اس طرح کا دعویٰ نہیں کیا، میں اس سے اس فیصلے پر پہنچا کہ اگر کسی نے تمہارے یہاں اس سے پہلے اس طرح کا دعویٰ کیا ہوتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ بھی اسی کی نقل کر رہے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر ہرقل نے پوچھا وہ تمہیں کن چیزوں کا حکم دیتے ہیں؟ میں نے کہا نماز، زکوٰۃ، صلہ رحمی اور پاکدامنی کا۔ آخر اس نے کہا کہ جو کچھ تم نے بتایا ہے اگر وہ صحیح ہے تو یقیناً وہ نبی ہیں اس کا علم تو مجھے بھی تھا کہ ان کی نبوت کا زمانہ قریب ہے لیکن یہ خیال نہ تھا کہ وہ تمہاری قوم میں ہوں گے۔ اگر مجھے ان تک پہنچ سکنے کا یقین ہوتا تو میں ضرور ان سے ملاقات کرتا اور اگر میں ان کی خدمت میں ہوتا تو ان کے قدموں کو دھوتا اور ان کی حکومت میرے ان دو قدموں تک پہنچ کر رہے گی۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا، اس میں یہ لکھا ہوا تھا، اللہ، رحمن، رحیم کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عظیم روم ہرقل کی طرف، سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔ امابعد! میں تمہیں اسلام کی طرف بلاتا ہوں، اسلام لاؤ تو سلامتی پاؤ گے اور اسلام لاؤ تو اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا۔ لیکن تم نے اگر منہ موڑا تو تمہاری رعایا (کے کفر کا بار بھی سب) تم پر ہو گا اور اے کتاب والو! ایک ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہم میں اور تم میں برابر ہے، وہ یہ کہ ہم سوائے اللہ کے اور کسی کی عبادت نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان «اشهدوا بأنا مسلمون‏» تک جب ہرقل خط پڑھ چکا تو دربار میں بڑا شور برپا ہو گیا اور پھر ہمیں دربار سے باہر کر دیا گیا۔ باہر آ کر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشہ کا معاملہ تو اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ملک بنی الاصفر (ہرقل) بھی ان سے ڈرنے لگا۔ اس واقعہ کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غالب آ کر رہیں گے اور آخر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی روشنی میرے دل میں بھی ڈال ہی دی۔ زہری نے کہا کہ پھر ہرقل نے روم کے سرداروں کو بلا کر ایک خاص کمرے میں جمع کیا، پھر ان سے کہا اے رومیو! کیا تم ہمیشہ کے لیے اپنی فلاح اور بھلائی چاہتے ہو اور یہ کہ تمہارا ملک تمہارے ہی ہاتھ میں رہے (اگر تم ایسا چاہتے ہو تو اسلام قبول کر لو) راوی نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی وہ سب وحشی جانوروں کی طرح دروازے کی طرف بھاگے، دیکھا تو دروازہ بند تھا، پھر ہرقل نے سب کو اپنے پاس بلایا کہ انہیں میرے پاس لاؤ اور ان سے کہا کہ میں نے تو تمہیں آزمایا تھا کہ تم اپنے دین میں کتنے پختہ ہو، اب میں نے اس چیز کا مشاہدہ کر لیا جو مجھے پسند تھی۔ چنانچہ سب درباریوں نے اسے سجدہ کیا اور اس سے راضی ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4553]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابوسفیان بن حرب نے میرے روبرو یہ بیان دیا: جس مدت کے دوران میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان (صلح حدیبیہ کا) معاہدہ ہوا تھا، میں ان دنوں ایک تجارتی سفر پر روانہ ہوا۔ جب میں ملک شام میں تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نامہ مبارک ہرقل کے پاس لایا گیا۔ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ اسے لے کر آئے تھے۔ انہوں نے لا کر عظیم بصرٰی کے حوالے کر دیا تھا اور عظیم بصرٰی نے وہ خط ہرقل کو پہنچایا۔ ابوسفیان کہتے ہیں کہ ہرقل نے دریافت کیا: ہماری حدود سلطنت میں اسی مدعی نبوت کی قوم کا کوئی آدمی موجود ہے؟ درباریوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر مجھے قریش کے چند دوسرے لوگوں کی معیت میں بلایا گیا۔ جب ہم ہرقل کے دربار میں حاضر ہوئے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھا لیا اور پوچھنے لگا: یہ شخص جو خود کو نبی کہتا ہے تم میں سے کون اس کا قریبی رشتہ دار ہے؟ ابوسفیان نے کہا: میں اس کا قریبی رشتہ دار ہوں، چنانچہ درباریوں نے مجھے اس کے بالکل سامنے اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا۔ اس کے بعد ہرقل نے ترجمان کو بلایا اور اسے کہا: ان سے کہو کہ میں اس شخص سے اس مدعی نبوت کے متعلق کچھ سوالات کروں گا۔ اگر یہ غلط بیانی کرے تو تم لوگوں نے اسے جھٹلا دینا ہے۔ ابوسفیان کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر غلط بیانی کرنے کی بدنامی کا مجھے ڈر نہ ہوتا تو میں آپ کے متعلق ضرور جھوٹ بولتا۔ پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے پوچھو کہ تم لوگوں میں اس کا نسب کیسا ہے؟ میں نے کہا: وہ اونچے نسب والا ہے۔ اس نے کہا: اس کے آباء و اجداد میں سے کوئی بادشاہ تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: تو کیا تم اس کے دعوائے نبوت سے پہلے اسے جھوٹ سے متہم کرتے تھے؟ میں نے کہا: نہیں۔ کہنے لگا: اچھا یہ بتاؤ کہ مال دار لوگوں نے اس کی پیروی کی ہے یا غریبوں نے؟ میں نے کہا: بلکہ اس کے پیروکار غریب و نادار ہیں۔ وہ کہنے لگا: کیا اس کے پیروکار (دن بہ دن) بڑھ رہے ہیں یا ان کی تعداد کم ہو رہی ہے؟ میں نے کہا: بلکہ ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ کہنے لگا: کیا اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص اس دین سے متنفر ہو کر مرتد بھی ہوا ہے؟ میں نے کہا: ہرگز نہیں۔ اس نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے اس سے کوئی جنگ لڑی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ وہ کہنے لگا: پھر تمہاری اور اس کی جنگ کا نتیجہ کیا رہا؟ میں نے کہا: جنگ ہمارے اور اس کے درمیان برابر کی چوٹ ہے۔ کبھی وہ ہمیں زک پہنچا دیتا ہے اور کبھی ہم اسے نقصان سے دوچار کر دیتے ہیں۔ وہ کہنے لگا: کیا وہ بدعہدی بھی کرتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، البتہ اس وقت ہم نے اس کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر رکھا ہے، معلوم نہیں وہ اس میں کیا کرے گا؟ ابوسفیان کہتے ہیں: مجھے اس جملے کے علاوہ اپنی طرف سے کوئی اور بات داخل کرنے کا موقع نہ ملا۔ ہرقل کہنے لگا: کیا یہ بات (دعوائے نبوت) اس سے پہلے بھی کسی نے کہی تھی؟ میں نے جواب دیا: نہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ تم اس شخص سے کہو: میں نے تم سے اس شخص کا نسب پوچھا تو تم نے بتایا کہ وہ اونچے نسب کا حامل ہے۔ واقعی دستور بھی یہی ہے کہ انبیاء علیہ السلام ہمیشہ اپنی قوم کے اونچے نسب ہی سے بھیجے جاتے ہیں۔ پھر میں نے دریافت کیا کہ آیا اس کے بزرگوں میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ تو تم نے اس بات کا انکار کیا۔ میں کہتا ہوں: اگر اس کے بزرگوں میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو میں کہتا کہ یہ شخص اپنی خاندانی سلطنت کا طلب گار ہے۔ پھر میں نے تم سے اس کے پیروکاروں کی نسبت سوال کیا کہ وہ قوم کے کمزور لوگ ہیں یا معزز حضرات؟ تمہارا جواب تھا کہ اس کی پیروی کرنے والے کمزور و ناتواں ہیں۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ پیغمبروں کے پیروکار اکثر ایسے ہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔ پھر میرا سوال تھا کہ تم نے کبھی اس پر دعوائے نبوت سے پہلے جھوٹ کا شبہ کیا ہے تو تمہارا جواب انکار میں تھا۔ تب میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ایسا تو ممکن نہیں کہ وہ لوگوں پر کذب بیانی سے اجتناب کرے لیکن اللہ پر جھوٹ باندھتا پھرے۔ اور میں نے تم سے یہ بھی دریافت کیا کہ کبھی کوئی شخص اس کے دین میں داخل ہو کر نفرت کرتے ہوئے مرتد بھی ہوا ہے تو تمہارا جواب نفی میں تھا۔ بہرحال ایمان چیز ہی ایسی ہے جب اس کی چاشنی دل کے نہاں خانے میں اتر جاتی ہے تو نکلتی نہیں۔ میں نے یہ بھی پوچھا کہ وہ لوگ بڑھ رہے ہیں یا روبہ انحطاط ہیں؟ تو تم نے جواب دیا کہ ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ واقعی ایمان کا معاملہ ایسا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے۔ میں نے تم سے یہ بھی پوچھا کہ کبھی تمہاری اس سے جنگ ہوئی ہے؟ تم نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ لڑائی تمہارے اور اس کے درمیان برابر کی چوٹ ہے۔ کبھی وہ تمہیں نقصان سے دوچار کر دیتے ہیں اور کبھی تم انہیں زِک پہنچا دیتے ہو۔ اسی طرح رسولوں کی آزمائش میں ڈالا جاتا ہے لیکن آخر کار انجام انہی کے حق میں ہوتا ہے۔ میں نے تم سے پوچھا: کیا اس نے کبھی بدعہدی کی ہے؟ تم نے اس کا بھی انکار کیا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ پیغمبر عہد شکنی نہیں کیا کرتے۔ میرا سوال تھا: آیا اس سے قبل بھی کسی نے ایسی بات کہی تھی۔ تم نے بتایا کہ نہیں۔ میں کہتا ہوں: اگر یہ بات اس سے پہلے کسی اور نے کہی ہوتی تو میں کہتا کہ یہ شخص ایک ایسی بات کی نقالی کر رہا جو اس سے قبل کہی جا چکی ہے۔ ابوسفیان نے کہا: بعد ازاں اس نے دریافت کیا: وہ تمہیں کن باتوں کا حکم دیتا ہے؟ میں نے جواب دیا: وہ ہمیں نماز، زکاۃ، صلہ رحمی اور پاکدامنی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ تب ہرقل نے کہا: جو کچھ تم نے اس کے متعلق بتایا ہے اگر وہ برحق ہے تو وہ یقینا نبی ہے۔ مجھے اس بات کا علم تھا کہ ایک نبی آنے والا ہے، لیکن میرا یہ خیال نہ تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا۔ اگر مجھے یقین ہو کہ میں اس کے پاس پہنچ سکوں گا تو ضرور اس سے ملاقات کو اپنے لیے سعادت خیال کرتا۔ اگر میں اس کے پاس حاضر ہو سکوں تو ضرور اس کے پاؤں دھو کر اس کی خدمت بجا لاؤں، نیز عنقریب اس شخص کی حکومت میرے ان دو قدموں تک پہنچ کر رہے گی۔ اس کے بعد ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک منگوایا، اسے پڑھا تو اس میں یہ لکھا تھا: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ» شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام: اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد! میں تجھے کلمہ اسلام «لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں کی دعوت دیتا ہوں۔ مسلمان ہو جاؤ تو محفوظ رہو گے۔ اللہ تعالٰی تجھے دو چند اجر دے گا۔ اگر تم یہ بات نہیں مانو گے تو تمہاری رعایا کا گناہ بھی تم پر ہو گا۔ اور ﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 64] اے اہل کتاب! ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان یکساں مسلم ہے۔ ہم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر ہم میں سے کوئی کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔ پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو فرمانبردار ہیں۔ جب ہرقل پڑھ چکا تو دربار میں آوازیں بلند ہونے لگیں اور بہت شوروغل اٹھا اور ہمیں باہر نکال دیا گیا۔ میں نے باہر آ کر اپنے ساتھیوں سے کہا: ابو کبشہ کے بیٹے کا معاملہ تو بڑا زور پکڑ گیا ہے۔ اس سے تو شاہ روم بھی خوفزدہ ہے۔ اس روز کے بعد مجھے برابر یقین رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور غالب آ کر رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے میرے دل میں اسلام جاگزیں کر دیا۔ امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر ہرقل نے روم کے بڑے بڑے سرداروں کو دعوت دی اور انہیں اپنے ایک خاص محل میں اکٹھا کیا، پھر ان سے کہا: کیا تم اپنی کامیابی، بھلائی اور ہمیشہ کے لیے اپنی بادشاہت پر قائم رہنا چاہتے ہو؟ (تو اسلام قبول کر لو)۔ راوی کہتا ہے: یہ اعلانِ حق سنتے ہی وہ لوگ جنگلی گدھوں کی طرح بدکتے ہوئے دروازوں کی طرف دوڑے۔ دیکھا تو وہ بند تھے۔ اس کے بعد ہرقل نے حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ۔ پھر اس نے ان سب کو بلا کر کہا: میں تمہارا امتحان لینا چاہتا تھا کہ تم اپنے دین پر کس قدر مضبوط ہو سو وہ میں دیکھ چکا ہوں۔ تمہاری یہ پختگی مجھے بہت پسند آئی۔ اس پر سب حاضرین خوش ہو گئے اور اسے سجدہ کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4553]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں