🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. باب الاِقْتِدَاءِ بِالْعُلَمَاءِ:
علماء کی اقتداء کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 224
أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَقَدْ أَدْرَكْتُ أَقْوَامًا لَوْ لَمْ يُجَاوِزْ أَحَدُهُمْ ظِفْرًا، لَمَا جَاوَزْتُهُ، كَفَى إِزْرَاءً عَلَى قَوْمٍ أَنْ تُخَالَفَ أَفْعَالُهُمْ".
امام ابراہیم النخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے اسلاف کو پایا، اگر ان میں سے کوئی ناخن کے برابر تجاوز نہ کرتا تو میں بھی اس سے آگے نہ بڑھتا (یعنی تجاوز نہ کرتا)۔ کسی قوم کی رسوائی کے لئے کافی ہے کہ تم ان کے افعال کی مخالفت کرو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 224]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أبي حمزة وهو: ميمون القصاب، [مكتبه الشامله نمبر: 224] »
اس اثر کی سند ابوحمزه میمون القصاب کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن [حلية الأولياء 227/4] میں اسی کے ہم معنی روایت دوسری صحیح سند سے موجود ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 225
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ: أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59، قَالَ: "أُولُو الْعِلْمِ وَالْفِقْهِ، وَطَاعَةُ الرَّسُولِ: اتِّبَاعُ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ".
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے آیت « ﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ....﴾ » [النسا: 59/4] کی تفسیر میں کہا «اولي الامر» اہل علم و فقہ ہیں اور «طاعة الرسول» کتاب و سنت کی اتباع ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 225] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير الطبري 147/5] ، [الفقيه 101] ، [الدر المنثور 176/2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 226
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَدْهَمَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ عَنْ شَيْءٍ، وَكَانَتْ عِنْدِي مَسْأَلَةٌ شَدِيدَةٌ، فَقُلْتُ: رَحِمَكَ اللَّهُ، انْظُرْ فِيهَا، قَالَ: "إِذَا وَضَحَ لِيَ الطَّرِيقُ، وَوَجَدْتُ الْأَثَرَ، لَمْ أَحْبَسْ".
ابراہیم بن ادھم نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن شبرمۃ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا جس کا مسئلہ میرے لئے بہت اہم تھا، میں نے عرض کیا: اللہ آپ پر رحم فرمائے اس بارے میں غور کیجئے، انہوں نے کہا: اگر میری سمجھ میں آ گیا اور حدیث میں مجھے مل گیا تو قطعاً توقف نہیں کروں گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 226]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 226] »
اس اثر کی سند صحیح ہے اور یہ اثر کہیں اور نہ مل سکا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 227
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ جَابِرٍ مِنْ أَهْلِ هَجَرَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ، فَإِنِّي امْرُؤٌ مَقْبُوضٌ، وَالْعِلْمُ سَيُنْقَصُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفَ اثْنَانِ فِي فَرِيضَةٍ لَا يَجِدَانِ أَحَدًا يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: علم سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ، علم فرائض سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھلاؤ، قرآن سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ، یقیناً میں وفات پانے والا ہوں اور علم بھی سکڑتا جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ دو آدمی کسی فریضے کے بارے میں اختلاف کریں گے تو کوئی ایسا نہیں ملے گا جو ان کے درمیان فیصلہ کر دے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 227]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده ثلاث علل: ضعف عثمان بن الهيثم والانقطاع وجهالة سليمان، [مكتبه الشامله نمبر: 227] »
اس روایت کی سند میں کئی علل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، گرچہ بہت سے محدثین نے اسے ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [ترمذي2092] ، [نسائي 6306] ، [المستدرك 333/4] ، [دارقطني 82/4] ، [بيهقي 208/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 228
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي خَلِيفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ مِخْرَاقٍ ذَكَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَأَبَا مُوسَى إِلَى الْيَمَنِ , قَالَ: "تَسَانَدَا وَتَطَاوَعَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا"، فَقَدِمَا الْيَمَنَ، فَخَطَبَ النَّاسَ مُعَاذٌ فَحَضَّهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَأَمَرَهُمْ بِالتَّفَقُّهِ فِي الْقُرْآنِ، وَقَالَ: إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ، فَاسْأَلُونِي أُخْبِرْكُمْ عَنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَمَكَثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثُوا، فَقَالُوا لِمُعَاذٍ: قَدْ كُنْتَ أَمَرْتَنَا إِذَا نَحْنُ تَفَقَّهْنَا وَقَرَأْنَا أَنْ نَسْأَلَكَ فَتُخْبِرَنَا بِأَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَقَالَ لَهُمْ مُعَاذٌ: إِذَا ذُكِرَ الرَّجُلُ بِخَيْرٍ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِذَا ذُكِرَ بِشَرٍّ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ.
روایت کیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: تم دونوں اعتماد رکھنا، اور ایک دوسرے کی بات ماننا، آسانی کرنا اور نفرت نہ پھیلانا، چنانچہ یہ دونوں حضرات یمن پہنچے تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور لوگوں کو اسلام پر ابھارا اور انہیں قرآن کو سمجھنے کا حکم دیا اور کہا: جب تم نے ایسا کر لیا تو پھر مجھ سے پوچھنا، میں تمہیں جنت و جہنم والے لوگوں کے بارے میں بتاؤں گا، لہٰذا جب تک اللہ کی مشیت رہی وہ لوگ خاموش رہے، پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ اگر ہم نے قرآن کو سمجھ لیا تو آپ سے سوال کریں گے تو آپ ہمیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں بتائیں گے، چنانچہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آدمی کو بھلائی کے ساتھ یاد کیا جائے تو وہ جنتی لوگوں میں سے ہے، اور برائی کے ساتھ یاد کیا جائے تو جہنمیوں میں سے ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 228]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه: زياد بن مخراق لم يسمع من ابن عمر فيما نعلم، [مكتبه الشامله نمبر: 228] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، لیکن «تساندا ....» مرفوع صحیح ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 765] و [مسند أبي يعلی 7319]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 229
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ؟، قَالَ: "أَتْقَاهُمْ"، قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ:"فَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ نَبِيُّ اللَّهِ بْنُ نَبِيِّ اللَّهِ بْنِ خَلِيلِ اللَّهِ"، قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ:"فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي؟ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ فرمایا: جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو، عرض کیا کہ ہم اس کے متعلق نہیں پوچھ رہے ہیں، فرمایا: پھر اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ (سب سے زیادہ شریف ہیں)، صحابہ نے عرض کیا: ہم اس کے متعلق بھی نہیں پوچھتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا عرب کے خاندانوں کے بارے میں پوچھتے ہو؟ سنو جو جاہلیت میں شریف ہیں اسلام میں بھی شریف ہیں جب کہ دین کی سمجھ انہیں آ جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 229]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 229] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3374] ، [مسلم 2378] ، [ابويعلی 6070] ، [ابن حبان 92] و [مسند الحميدي 1076]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 230
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَاديِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا، يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ".
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ دے دیتا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 230]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح كاتب الليث ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 230] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 71، 7312] ، [مسلم 1037] ، [أبويعلی 7381] ، [ابن حبان 89] و [الفقيه والمتفقه 9]
وضاحت: (تشریح احادیث 223 سے 230)
اس حدیث میں علم حاصل کرنے کی اور عالم و فقیہ کی فضیلت ہے، نیز اس میں علومِ دینیہ حاصل کرنے والوں کے لئے بشارت بھی ہے کہ ان کی یہ رہنمائی باری تعالیٰ کی خاص عنایت سے ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 231
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا، يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بہتری چاہتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 231]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 231] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 306/1] ، [ترمذي 2647] ، [الفقيه 4]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 232
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا، يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ".
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 232]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 232] »
اس روایت کی بھی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 92/4] و [مشكل الآثار 280/2]
وضاحت: (تشریح احادیث 230 سے 232)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ الله تعالیٰ جس کو علمِ دین سے نواز دے وہ بڑا ہی خوش قسمت ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 233
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الزَّهْرَانِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:"أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا بِمَكَانِي هَذَا، فَرَحِمَ اللَّهُ مَنْ سَمِعَ مَقَالَتِي الْيَوْمَ فَوَعَاهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ وَلَا فِقْهَ لَهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ، فِي هَذَا الشَّهْرِ، فِي هَذَا الْبَلَدِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْقُلُوبَ لَا تُغِلُّ عَلَى ثَلَاثٍ: إِخْلَاصِ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةِ أُولِي الْأَمْرِ، وَعَلَى لُزُومِ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ".
محمد بن جبیر بن مطعم نے اپنے والد سے روایت کیا، انہوں نے حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ میں سنا: اے لوگو! بیشک میں نہیں جانتا کہ آج کے بعد اس مقام پر پھر تم سے ملاقات کر سکوں گا، پس اللہ تعالیٰ رحم کرے اس شخص پر جس نے آج میری بات سنی اور اسے یاد کر لیا، کچھ فقہ کو سیکھنے والے (خود فقیہ نہیں) جان نہیں پاتے، اور بہت سے حامل فقہ لیجاتے ہیں فقہ کو اپنے سے زیادہ فقیہ کے پاس۔ اور اے لوگو! جان لو کہ تمہارے مال اور خون آج کے دن کی، اس مہینے، اور اس شہر کی حرمت کی طرح ایک دوسرے پر حرام ہیں۔ اور سنو! دل تین چیزوں پر خیانت نہ کریں گے، اللہ کے لئے عمل خالص، حکام کے ساتھ خیر خواہی، اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنے میں، بیشک ان کی دعا ان کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ (یعنی دعا آفات وبلیات سے حفاظت کے لیے ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔) [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 233]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن والحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 233] »
اس حدیث کی سند حسن اور متن صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1739] ، [مسلم 1218] ، [أبويعلی 7413] ، [مجمع الزوائد 598] ، [المحدث الفاصل 3، 4]
وضاحت: (تشریح حدیث 232)
اس میں اہلِ حدیث کے لئے دعائے خیر ہے۔
علامہ بدیع الزماں نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقہ نام ہے حدیث کا، اس کی جانکاری اور تحقیق سے آدمی عند الله فقیہ ہوتا ہے، اور بشارت ہے اس میں کہ بعد زمانۂ صحابہ کے تابعین میں بکثرت فقہاء ہوں گے اور احادیث جمع کریں گے۔
دیکھئے شرح آگے آنے والی حدیث «نَضَّرَ اللّٰهُ إِمْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں