🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

97. باب في الْحُبْلَى إِذَا رَأَتِ الدَّمَ:
حاملہ عورت کا بیان جس کو خون آ جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 956
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، فَقَالَ: "تَدَعُ الصَّلَاةَ".
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے حاملہ عورت کے بارے میں پوچھا جس کو خون آ جائے، تو انہوں نے کہا: نماز ترک کر دے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 956]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 961] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الموطا فى الطهارة 103] و [مصنف عبدالرزاق 1209] و [الاستذكار 198/3]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 957
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَأَلْتُ , مُجَاهِدًا عَنْ امْرَأَتِي رَأَتْ دَمًا، وَأَنَا أُرَاهَا حَامِلًا، قَالَ: "ذَلِكَ غَيْضُ الْأَرْحَامِ اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ سورة الرعد آية 8، فَمَا غَاضَتْ مِنْ شَيْءٍ رَأَتْ مِثْلَهُ فِي الْحَمْلِ".
عثمان بن الاسود نے کہا: میں نے مجاہد سے اپنی بیوی کے بارے میں دریافت کیا جس کو خون آ گیا، میرا خیال تھا کہ وہ حامل ہے، انہوں نے کہا: یہ غیض الارحام کے قبیل سے ہے (اللہ تعالیٰ جانتا ہے مادہ اپنے شکم میں جو کچھ بھی رکھتی ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی۔۔۔) [الرعد 8/13]
پس جو چیز کم ہوتی ہے اسی کے مثل حمل میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 957]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 962] »
اس روایت کی سند صحیح ہے دیکھئے: [تفسير الطبري 110/13]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 958
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ سورة الرعد آية 8، قَالَ: "ذَلِكَ الْحَيْضُ عَلَى الْحَبَلِ، لَا تَحِيضُ يَوْمًا فِي الْحَبَلِ إِلَّا زَادَتْهُ طَاهِرًا فِي حَبَلِهَا".
عاصم الاحول نے عکرمہ سے روایت کیا کہ آیت (مادہ اپنے شکم میں کیا رکھتی ہے الله تعالیٰ اس کو بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی، ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے) [الرعد 8/13]
عکرمہ نے کہا: یہ حمل کا حیض ہے، حالت حمل میں ایک دن حیض آئے تو عورت اپنے حمل میں اس کی پاکی کا اضافہ کرتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 958]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 963] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير الطبري 111/13] ، اور دیکھئے: اثر رقم (960)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 959
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَمْرٌ لَا يُخْتَلَفُ فِيهِ عِنْدَنَا، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا "الْمَرْأَةُ الْحُبْلَى إِذَا رَأَتْ الدَّمَ أَنَّهَا لَا تُصَلِّي حَتَّى تَطْهُرَ".
یحییٰ بن سعید نے کہا: ایک مسئلہ میں ہمارے نزدیک کوئی اختلاف نہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حاملہ عورت کو اگر خون آ جائے تو وہ نماز نہیں پڑھے گی، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے (یعنی خون رک جائے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 959]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه وربما كان معضلا، [مكتبه الشامله نمبر: 964] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، اعضال بھی ہوسکتا ہے۔ کہیں اور نہیں مل سکی، لیکن آگے (964) میں آرہی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 960
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ: وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ سورة الرعد آية 8، قَالَ: "هُوَ الْحَيْضُ عَلَى الْحَبَلِ وَمَا تَزْدَادُ سورة الرعد آية 8، قَالَ: فَلَهَا بِكُلِّ يَوْمٍ حَاضَتْ فِي حَمْلِهَا يَوْمًا تَزْدَادُ فِي طُهْرِهَا حَتَّى تَسْتَكْمِلَ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ طَاهِرًا".
عاصم (الاحول) نے عکرمہ سے روایت کیا کہ «وما تغيض الأرحام» سے مراد حاملہ عورت کا حیض ہے، اور «وما تزداد» کے بارے میں عکرمہ نے کہا: کہ ایسی عورت کے لئے ہر دن کے بدلے جب کے اسے حیض آتا رہے اس کے طہر میں اضافہ ہو گا، یہاں تک کہ نو مہینے پورے ہو جائیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 960]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 965] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ عاصم: ابن سلیمان ہیں۔ دیکھئے: [تفسير الطبري 111/13]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 961
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ سورة الرعد آية 8، قَالَ: "إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ وَهِيَ حَامِلٌ، قَالَ: يَكُونُ ذَلِكَ نُقْصَانًا مِنْ الْوَلَدِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى تِسْعَةِ أَشْهُرٍ، كَانَ تَمَامًا لِمَا نَقَصَ مِنْ وَلَدِهَا".
ابوبشر سے مروی ہے مجاہد نے «وما تغيض الأرحام» کے بارے میں کہا: جب حاملہ عورت کو حیض آ جائے تو یہ بچے میں نقص ہے، اور جب نو مہینے سے زیادہ ہو جائے تو جو کمی ہوئی تھی وہ اس بچے کی پورتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 961]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 966] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير الطبري 109/13، 110] «وكما مر آنفا» ۔ نيز ابوبشر کا نام جعفر بن ابی وحشیہ ہے، اور ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل ہے، ابوعوانہ: وضاح بن عبداللہ ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 962
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: "امْرَأَتِي تَحِيضُ وَهِيَ حُبْلَى".
بکر بن عبدالله المزنی نے کہا: میری عورت کو حمل کی حالت میں حیض آتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 962]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 967] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ حجاج: ابن منہال ہیں۔ اس کو امام دارمی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 963
قَالَ أَبُو مُحَمَّد: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَرْبٍ، يَقُولُ: امْرَأَتِي تَحِيضُ وَهِيَ حُبْلَى.
ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے سلیمان بن حرب سے سنا: وہ فرماتے تھے کہ میری بیوی کو حالت حمل میں حیض آ جاتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 963]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 967] »
حسبِ سابق یہ سند صحیح ہے، اور کہیں منقول بھی نہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 964
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: "إِذَا رَأَتْ الْحُبْلَى الدَّمَ، فَلْتُمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ حَيْضٌ".
یحییٰ بن سعید سے مروی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حاملہ عورت جب خون دیکھے تو نماز سے رک جائے، وہ حیض کا خون ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 964]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 968] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ (956) میں گذر چکی ہے۔ مزید دیکھئے: [الاستذكار 3387] و [سنن البيهقي 423/7]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 965
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَن عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، مِثْلُ ذَلِكَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا روایت امام مالک رحمہ اللہ کے طریق سے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 965]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 969] »
اس اثر کی سند میں اعضال ہے، دو راوی سند سے ساقط ہیں۔ «كما سيأتي» (969)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں