سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. باب في الْحُبْلَى إِذَا رَأَتِ الدَّمَ:
حاملہ عورت کا بیان جس کو خون آ جائے
حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَا يَكُونُ حَيْضٌ عَلَى حَمْلٍ".
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: حالت حمل میں حیض نہیں آتا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 976]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 980] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے اثر (975)۔
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے اثر (975)۔
حدیث نمبر: 977
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، قَالَ: "هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ".
امام حسن رحمہ اللہ نے حامل کے بارے میں جس کو خون آ جائے فرمایا کہ وہ مستحاضہ کی طرح ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 977]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 981] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ اور ہشام: ابن حسان ہیں۔ دیکھئے: اثر (975، 979)۔
اس قول کی سند صحیح ہے۔ اور ہشام: ابن حسان ہیں۔ دیکھئے: اثر (975، 979)۔
حدیث نمبر: 978
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ "إِذَا رَأَتْ الْحَامِلُ الدَّمَ لَمْ تَدَعْ الصَّلَاةَ".
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب حاملہ عورت کو خون آئے تو وہ نماز ترک نہ کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 978]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 982] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: اثر رقم (976، 980)۔
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: اثر رقم (976، 980)۔
حدیث نمبر: 979
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، أنهما قَالَا فِي الْحُبْلَى: "وَالَّتِي قَعَدَتْ عَنْ الْمَحِيضِ إِذَا رَأَتْ الدَّمَ، تَوَضَّأَتَا وَصَلَّتَا، وَلَا تَغْتَسِلَانِ".
حجاج بن ارطاة سے مروی ہے، عطاء اور حکم بن عتیبہ رحمہما اللہ دونوں نے حاملہ کے بارے میں اور اس عورت کے بارے میں جس کا حیض ختم ہو گیا، فرمایا: یہ دونوں عورتیں جب خون دیکھیں تو وضو کریں، نماز پڑھ لیں، غسل نہیں کریں گی۔ (یعنی یہ خون حیض شمارنہیں ہو گا بلکہ مستحاضہ کا حکم ان پر لاگو ہو گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 979]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة، [مكتبه الشامله نمبر: 983] »
حجاج بن ارطاة کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: اثر (973)۔
حجاج بن ارطاة کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: اثر (973)۔
حدیث نمبر: 980
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "تَغْتَسِلَانِ وَتُصَلِّيَانِ".
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ دونوں عورتیں غسل کریں اور نماز پڑھیں گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 980]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف رواية مطر عن عطاء ضعيفة، [مكتبه الشامله نمبر: 984] »
اس قول کی سند ضعیف ہے، کیونکہ مطر کی روایت عطاء سے ضعیف ہے۔
اس قول کی سند ضعیف ہے، کیونکہ مطر کی روایت عطاء سے ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 981
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "إِنَّ الْحُبْلَى لَا تَحِيضُ، فَإِذَا رَأَتْ الدَّمَ، فَلْتَغْتَسِلْ، وَلْتُصَلِّي".
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حاملہ کو حیض نہیں آتا ہے، جب وہ خون دیکھے تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 981]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل سليمان بن موسى، [مكتبه الشامله نمبر: 985] »
سلیمان بن موسیٰ کی وجہ سے یہ روایت حسن ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1214]
سلیمان بن موسیٰ کی وجہ سے یہ روایت حسن ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1214]
حدیث نمبر: 982
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا رَأَتْ الدَّمَ وَهِيَ تَمَخَّضُ، قَالَ: "هُوَ حَيْضٌ تَتْرُكُ الصَّلَاةَ".
امام حکم بن عتبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں جس کو درد زہ کے وقت خون آ جائے فرمایا: وہ حیض کا خون ہے، لہٰذا نماز ترک کر دے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 982]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 986] »
اس قول کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 213/2]
اس قول کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 213/2]
حدیث نمبر: 983
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ "إِذَا ضَرَبَهَا الطَّلْقُ، وَرَأَتْ الدَّمَ عَلَى الْوَلَدِ، فَلْتُمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ"، وقَالَ عَبْد اللَّهِ: تُصَلِّي مَا لَمْ تَضَعْ.
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے حاملہ عورت کے بارے میں جس کو درد شروع ہو جائے اور بچے پر خون دیکھے، فرمایا: وہ نماز نہیں پڑھے گی۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: نماز پڑھے جب تک کہ وضع حمل نہ ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 983]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 987] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 213/2]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 213/2]
وضاحت: (تشریح احادیث 955 سے 983)
حاملہ عورت یا جس عورت کا حیض کا خون آنا ختم ہو گیا ہو اس کے بارے میں صحابہ و تابعین اور فقہائے کرام کے مختلف اقوال ہیں، جس نے حیض کا خون اس کو شمار کیا نماز پڑھنے سے منع کر دیا، اور جس نے حیض شمار نہیں کیا انہوں نے صفائی کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حاملہ عورت یا جس عورت کا حیض کا خون آنا ختم ہو گیا ہو اس کے بارے میں صحابہ و تابعین اور فقہائے کرام کے مختلف اقوال ہیں، جس نے حیض کا خون اس کو شمار کیا نماز پڑھنے سے منع کر دیا، اور جس نے حیض شمار نہیں کیا انہوں نے صفائی کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔
واللہ اعلم بالصواب۔