سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
115. باب اغْتِسَالِ الْحَائِضِ إِذَا وَجَبَ الْغُسْلُ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ تَحِيضَ:
جنبی عورت کا حیض شروع ہونے سے پہلے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1191
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَوْ عُقَدَهُ، قَالَ: "احْفِنِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ اغْمِزِي عَلَى إِثْرِ كُلِّ حَفْنَةٍ غَمْزَةً".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میں سر پر چوٹی کس کر باندھتی ہوں؟ فرمایا: ”اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لو، اور ہر چلو پانی کا ڈالنے کے بعد گوندھو۔“ (یعنی بالوں کو ملو تاکہ پانی جڑوں تک پہنچ جائے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1191]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1196] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 330] ، [مسند أبى يعلی 6957] ، [مسند الحميدي 296] و [مصنف ابن أبى شيبه 73/1]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 330] ، [مسند أبى يعلی 6957] ، [مسند الحميدي 296] و [مصنف ابن أبى شيبه 73/1]
حدیث نمبر: 1192
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: "اسْتَأْصِلِي الشَّعْرَ لَا تَخَلَّلُهُ نَارٌ قَلِيلٌ بُقْيَاهَا عَلَيْهِ"، قَالَ مَنْصُورٌ: يَعْنِي: الْجَنَابَةَ.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے فرمایا: بالوں کو جڑوں تک سیراب کرو، اس میں آگ داخل نہ کرو۔ منصور نے کہا: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اس سے مراد جنابت ہے (یعنی غسل جنابت کے وقت بال اچھی طرح دھو لو)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1192]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1197] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 74/1] ، [عبدالرزاق 1053] ، [بيهقي 180/1] و [تهذيب الآثار مسند على رضي الله عنه 434، 436]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 74/1] ، [عبدالرزاق 1053] ، [بيهقي 180/1] و [تهذيب الآثار مسند على رضي الله عنه 434، 436]
حدیث نمبر: 1193
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: "اسْتَأْصِلِي الشَّعْرَ بِالْمَاءِ لَا تَخَلَّلُهُ نَارٌ قَلِيلٌ بُقْيَاهَا عَلَيْهِ".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے دوسری سند سے مذکورہ بالا روایت مروی ہے (اوپر اس کا ترجمہ گزر چکا ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ تھوڑی سی جگہ بھی پانی نہ پہنچا تو اس کو عذاب ہو گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1193]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1198] »
جعفر بن الحارث کی وجہ سے اس روایت کی سند حسن ہے۔ تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
جعفر بن الحارث کی وجہ سے اس روایت کی سند حسن ہے۔ تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 1194
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا اغْتَسَلَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ الْجَنَابَةِ، فَلَا تَنْقُضْ شَعْرَهَا وَلَكِنْ تَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى أُصُولِهِ وَتَبُلُّهُ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب عورت غسل جنابت کرے گی تو اپنے بال نہیں کھولے گی، البتہ بالوں کی جڑوں میں پانی ڈال کر دھو دے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1194]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف حجاج وهو: ابن أرطاة، [مكتبه الشامله نمبر: 1199] »
اس روایت کی سند حجاج بن ارطاة کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 74/1] و رقم (1186)۔
اس روایت کی سند حجاج بن ارطاة کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 74/1] و رقم (1186)۔
حدیث نمبر: 1195
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ تُصِيبُهَا الْجَنَابَةُ، وَرَأْسُهَا مَعْقُوصٌ تَحُلُّهُ؟، قَالَ: "لَا، وَلَكِنْ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا الْمَاءَ صَبًّا حَتَّى تُرَوِّيَ أُصُولَ الشَّعْرِ".
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے، عورت جنبی ہو جائے اور اس کے بال گوندھے ہوئے ہوں تو کیا انہیں کھولے گی؟ فرمایا: نہیں، البتہ اپنے سر پر اچھی طرح پانی ڈالے تاکہ جڑیں تک سیراب ہو جائیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1195]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1200] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1055، 1056] ، و اثر رقم (1187)، اس روایت کی سند میں یعلی: ابن عبید اور عبدالملک: ابوسلیمان کے بیٹے ہیں۔
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1055، 1056] ، و اثر رقم (1187)، اس روایت کی سند میں یعلی: ابن عبید اور عبدالملک: ابوسلیمان کے بیٹے ہیں۔
حدیث نمبر: 1196
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَتْنِي حَبِيبَةُ بِنْتُ حَمَّادٍ، حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ حَيَّانَ السَّهْمِيَّةُ، قَالَتْ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: "أَمَا تَسْتَطِيعُ إِحْدَاكُنَّ إِذَا تطَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا أَنْ تَتَدَخِّنَ شَيْئًا مِنْ قُسْطٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَشَيْئًا مِنْ آسٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَشَيْئًا مِنْ نَوًى، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَشَيْئًا مِنْ مِلْحٍ".
عمرۃ بنت حیان سہميۃ نے کہا: مجھ سے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی حیض سے پاک ہونے کے بعد قسط کی دھونی لینے کی استطاعت نہیں رکھتی؟ اس کی استطاعت نہ ہو تو ”آس“، اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو کچھ گٹھلیوں سے یا پھر نمک ہی سے دھونی لے لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1196]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1201] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور دوسری کسی کتاب میں یہ روایت نہیں مل سکی، لیکن خوشبو اور روئی کے استعمال کا ذکر طہارت کے بعد صحیح حدیثوں میں موجود ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 332]
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور دوسری کسی کتاب میں یہ روایت نہیں مل سکی، لیکن خوشبو اور روئی کے استعمال کا ذکر طہارت کے بعد صحیح حدیثوں میں موجود ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 332]
وضاحت: (تشریح احادیث 1189 سے 1196)
«قسط» ایک قسم کی لکڑی ہے اور «آس» : ایک قسم کا درخت جس کے پتے تر و تازہ ہوتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ طہارت کے بعد عورت بدبو کو زایل کرنے کے لئے کچھ کرے۔
«قسط» ایک قسم کی لکڑی ہے اور «آس» : ایک قسم کا درخت جس کے پتے تر و تازہ ہوتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ طہارت کے بعد عورت بدبو کو زایل کرنے کے لئے کچھ کرے۔
حدیث نمبر: 1197
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "إِذَا اغْتَسَلَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ الْحَيْضِ، فَلْتُمِسَّ أَثَرَ الدَّمِ بِطِيبٍ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب عورت غسل حیض کر لے تو خون کی جگہ پر طیب رکھ لے۔ (یعنی خوشبو کی کوئی چیز وہاں رکھ لے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1197]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1202] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل ہے۔
حدیث نمبر: 1198
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ "نِسَاءَهُ وَأُمَّهَاتِ أَوْلَادِهِ كُنَّ يَغْتَسِلْنَ مِنْ الْحِيضَةِ وَالْجَنَابَةِ، وَلَا يَنْقُضْنَ شُعُورَهُنَّ، وَلَكِنْ يُبَالِغْنَ فِي بَلِّهَا".
نافع نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ ان کی بیویاں اور لونڈیاں جب حیض و جنابت کا غسل کرتی تھیں تو اپنے بال نہیں کھولتی تھیں، لیکن پانی بہانے میں مبالغہ کرتی تھیں۔ (تاکہ جڑیں اچھی طرح سیراب ہو جائیں اور ان تک پانی پہنچ جائے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1198]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1203] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 74/1] و رقم اثر (1191)۔
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 74/1] و رقم اثر (1191)۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1196 سے 1198)
ان تمام آثار و احادیث سے پتہ چلا کہ عورت کو غسلِ جنابت اور حیض کے غسل میں چوٹیاں کھولنے کی ضرورت نہیں، ہاں پانی جڑوں تک اچھی طرح داخل کریں تاکہ جڑیں سوکھی نہ رہ جائیں۔
واللہ علم۔
ان تمام آثار و احادیث سے پتہ چلا کہ عورت کو غسلِ جنابت اور حیض کے غسل میں چوٹیاں کھولنے کی ضرورت نہیں، ہاں پانی جڑوں تک اچھی طرح داخل کریں تاکہ جڑیں سوکھی نہ رہ جائیں۔
واللہ علم۔