🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. باب في ابْنِ الْمُلاَعَنَةِ:
لعان کرنے والے میاں بیوی کے بیٹے کی وراثت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2983
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ، قَالَ: "مِيرَاثُهُ لِأُمِّهِ".
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لعان کے بیٹے کے بارے میں کہا کہ اس کی میراث ماں کے لئے ہوگی۔
یعنی ولد الزنا کی طرح باپ اس کا وارث نہ ہوگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2983]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 2993] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن ابراہیم رحمہ اللہ و سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے درمیان انقطاع ہے۔ ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11368] ، [عبدالرزاق 12479] ، [الحاكم 341/4] ، [البيهقي 258/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2984
أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ لِمَنْ مِيرَاثُهُ؟ قَالَ: "لِأُمِّهِ وَأَهْلِهَا.
ابراہیم بن طہمان نے کہا: میں نے سنا ایک آدمی نے عطاء بن ابی رباح سے لعان کرنے والوں کی اولاد کے بارے میں پوچھا کہ ان کی میراث کس کے لئے ہوگی؟ انہوں نے کہا: اس کی ماں اور ماں کی آل اولاد کے لئے ہوگی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2984]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2994] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 12483]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2985
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ: "تَرَكَ أَخَاهُ لِأُمِّهِ، وَأُمَّهُ لِأَخِيهِ السُّدُسُ، وَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ، ثُمَّ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ، فَيَصِيرُ لِلْأَخِ الثُّلُثُ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثَانِ". وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لِأَخِيهِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُمِّ.
امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابن الملاعنہ (یعنی جو لڑکا لعان کے بعد پیدا ہوا اس کے) بارے میں کہا: جس نے اپنا مادری بھائی اور ماں چھوڑی: مادری بھائی کو چھٹا حصہ اور ماں کے لئے تہائی (ثلث) ہے، پھر باقی ان پر تقسیم ہوگا تو بھائی کے لئے ثلث ہو جائے گا اور ماں کے لئے دو ثلث ہو جائیں گے، اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: بھائی چھٹا حصہ اور جو بچے گا وہ سب ماں کا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2985]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أبي سهل محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 2995] »
ابوسہل محمد بن سالم کی وجہ سے یہ اثر ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11383] ، [البيهقي 258/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2986
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ: تَرَكَ ابْنَ أَخٍ وَجَدًّا، قَالَ: "الْمَالُ لِابْنِ الْأَخِ".
امام شعبی رحمہ اللہ سے ابن الملاعنہ کے بارے میں مروی ہے: جس نے بھتیجا اور دادا (یا نانا) کو چھوڑا، کہا کہ سارا مال بھتیجے کا ہوگا۔ (کیونکہ لعان کے بعد دادا کی نسبت صحیح نہیں، لہٰذا وہ وارث نہ ہوں گے۔ واللہ اعلم) [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2986]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أبي سهل محمد بن سالم، [مكتبه الشامله نمبر: 2996] »
ابوسہل کی وجہ سے اس اثر کی سند بھی ضعیف ہے۔ حوالہ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11382]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2987
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي مِيرَاثِ ابْنِ الْمُلَاعَنَة: "لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَالثُّلُثَانِ لِبَيْتِ الْمَالِ".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ابن الملاعنہ کی میراث کے بارے میں ہے کہ ماں کے لئے ایک تہائی، باقی دو تہائی بیت المال کے لئے ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2987]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2997] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 12485] ، [البيهقي 258/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2988
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مِيرَاثُهُ لِأُمِّهِ تَعْقِلُ عَنْهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ"، وَقَالَ قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ: لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَبَقِيَّةُ الْمَالِ لِعَصَبَةِ أُمِّهِ.
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (ابن الملاعنہ کی میراث کے بارے میں) کہا: اس کی میراث اس کی ماں کے لئے ہے، ماں کے جو عصبہ ہیں وہ اس سے دیت ادا کریں گے (اگر دیرت ہوتو)۔
اور قتاده رحمہ اللہ نے کہا: حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے: ثلث ماں کے لئے اور باقی مال اس کی ماں کے عصبہ کا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2988]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع إبراهيم لم يسمع عبد الله بن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 2998] »
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے۔ ابراہیم رحمہ اللہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔ حوالہ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11365، 11369] ، [ابن منصور 119] ، [الحاكم 341/4] ، [البيهقي 258/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 2981 سے 2988)
کوئی وارث نہ ہونے کی صورت میں کل مال سمیٹنے والے کو عصبہ کہتے ہیں، تفصیل آگے آ رہی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2989
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ: أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ مَسْعُودٍ قَالَا فِي وَلَدِ المُلَاعَنَةٍ تَرْكُ جَدَّتِهِ وَإِخْوَتِهِ لأُمِّهِ، قَالَ: "لِلْجَدَّةِ الثُّلُثُ، وَلِلْإِخْوَةِ الثُّلُثَانِ"، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: لِلْجَدَّةِ السُّدُسُ، وَلِلْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَمَا بَقِيَ فَلِبَيْتِ الْمَالِ.
قتاده رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا علی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ولد الملاعنہ کے بارے میں کہا: جس نے جدہ اور اپنے اخیافی (مادری بھائی) چھوڑے، جدہ (ام الام) کے لئے ثلث اور مادری بھائیوں کے لئے باقی بچے دو ثلث ہیں، اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: نانی کو سدس اور مادری بھائیوں کو ثلث، اور جو بچے وہ بیت المال میں جمع ہوگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2989]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع قتادة لم يسمع من علي ولا من ابن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 2999] »
قتادہ رحمہ اللہ نے سیدنا علی و سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے نہیں سنا اس لئے یہ اثر منقطع ہے۔ دیگر طرق بھی ضعیف ہیں۔ حوالہ دیکھئے: [ابن منصور 119] ، [البيهقي 258/6، 259]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2990
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، وَحُمَيدٌ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "تَرِثُهُ أُمُّهُ يَعْنِي: ابْنَ الْمُلَاعَنَةِ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: اس کی ماں یعنی ابن الملاعنہ کی ماں وارث ہوگی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2990]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3000] »
اس اثر کی سند حسن رحمہ اللہ تک صحیح ہے۔ یہ اثر (3001) پرآگے آ رہی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2991
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ: أَنَّ النَّخَعِيَّ، وَالشَّعْبِيّ، قَالَا: "تَرِثُهُ أُمُّهُ".
اس سند سے بھی مثلِ سابق مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2991]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3001] »
اس حدیث کی سند حجاج بن ارطاة کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11405] ، [عبدالرزاق 12486]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2992
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى أَخٍ لِي مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ أَسْأَلُهُ: لِمَنْ قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ؟ فَكَتَبَ إِلَيَّ:"أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: قَضَى بِهِ لِأُمِّهِ هِيَ بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِ وَأَبِيهِ. وقَالَ سُفْيَانُ: الْمَالُ كُلُّهُ لِلْأُمِّ هِيَ بِمَنْزِلَةِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ.
عبداللہ بن عبيد بن عمیر نے کہا: میں نے بنی زریق میں اپنے بھائی کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن الملاعنہ کے بارے میں کیا فیصلہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ ماں کے حق میں کیا، کیوں کہ لعان کے بعد ماں ہی لڑکے کے لئے ماں اور باپ کی جگہ ہے۔
اور سفیان نے کہا: سارا مال ماں کے لئے ہوگا کیوں کہ ماں ماں باپ دونوں کے درجہ میں ہوگی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2992]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3002] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 9132، 11374] ، [عبدالرزاق 12476، 12477] ، [الحاكم 341/4] ، [البيهقي 259/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں